Current Affairs

Disaster Ya Azzab 2

Disaster Ya Azzab 2

میں اپنا یہ بلاگ وفاقی وزیرِ سائنس اور ٹیکنولوجی چوھدری فواد حسین کے ایک ٹویٹ کے جواب میں لکھ رھا ہوں۔

آئیے پہلے ٹویٹ پڑھتے ہیں:

Disaster Ya Azzab 2

اس ٹویٹ کے دو پہلو ہیں: رجعت پسند مذہبی طبقے کی جہالت کی وجہ سے کرونا کی وبا پاکستان مین پھیلی، اب ہمیں کہتے ہیں اللہ کا عذاب ہے توبہ کریں!

پہلے اس پہلو پر تبصرہ کرتے ہیں۔

موصوف سائنس اور ٹیکنولوجی کے وزیر ہونے کے ناطے سے! پاکستانی عوام کو کورونا کے پھیلنے کی وجہ انتہائی ٹھوس انداز میں بتا رہے ہیں! کہ پاکستان میں کورونا کے پھیلنے کی وجہ نام نہاد علما ہیں! یہ وہ علما ہیں جو اس بات کے خلاف ہیں کہ مساجد کو نمازیوں کے لیے بند کیا جائے،! ہاتھ نہ ملائے جائیں، ہم آغوش نہ ہوا جائے، ! چند افراد ایک ساتھ کھڑے ہو کر مذہبی عقائد سرانجام نہ دیں! اور جو سرکاری سطح پر دئیے گئے تحفظات جو مذہبی رسومات سے ٹکراتے ہیں انکے خلاف ہیں۔! یہ نام نہاد علما اپنے خطبات میں لوگوں کو ورغلاتے ہیں۔ #مساجد_پر_پابندی_نامنظور

یہ بات تو بالکل درست ہے! کہ ایسے علما جہالت کی بلندترین چوٹی پر کھڑے ہو کر اپنے اپنے مذہبی عقائد کے علم لہرا رہے ہیں! مگر یہ کہنا کہ انکی وجہ سے کورونا کا وائرس پاکستان میں پھیلا ہے! تو یہ بات بذاتِ خود پرلے درجے کی جہالت ہے! جو کہ ایک سائنس کے وزیر کو کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔! یہ جملہ اس بات کی علامت ہے کہ وزیر صاحب کو سائنس کی الف بے نہیں آتی اور جبراً اس سیٹ پر بٹھا دیا گیا ہے۔

فواد صاحب کی ٹویٹ کے جواب میں حسبِ عادتِ ملی ایک سے بڑھ کر ایک جواب تھا۔!

کوئی اسکی وجہ زلفی بخاری اور علی زیدی کو قرار دے رھا تھا! اور کوئی عمران خان کی حکومت کو۔! ایک خاتون نے تو کندذہنی کی انتہا کردی انکی ٹویٹ بعد میں!

کورونا کا وائرس اس ٹویٹ کے وقت اور بوقتِ تحریر! دنیا بھر کے 198 ممالک یا علاقوں میں پھیل چکا ہے!

جس میں گرین لینڈ بھی شامل ہے جہاں شاذونادر ہی مسلمان پایا جاتا ہو۔! نہ ہی تو دنیا بھر کے علاقوں میں یہ وائرس جاھل علما کی وجہ سے پھیلا ہے اور نہ ہی عمران خان کی حکومت میں موجود قابل / ناقابل وزرا کی وجہ سے ہے۔! یہ بات آپ  کی سائنسی  ‘تعلیم و تربیت’ قبول کرے یا نہ کرے مگر حقیقت یہ ہے! کہ یہ ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانیت پر وقوع پذیر ہوا ہے۔! اگر ہم دنیا کی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھتے ہیں تو اس جیسے پہلے بھی کئی عذاب نازل ہو چکے ہیں۔ اور شائد ہی کوئی ایسا دور گزرا ہو جہاں کرۂ ارض پر کہیں نہ کہیں یہ عذاب کسی نہ کسی صورت میں نازل نہ ہوا ہو۔

مگر اللہ کے ہاں عذاب کا ایک قانون ہوتا ہے۔! وہ قانون یہ ہے کہ جن قوموں پر نبی یا رسول نازل ہوئے اور اتمام حجت مکمل کی اور ان قوموں نے اپنے انبیاء کو جھٹلا دیا! تو اللہ تبارک تعالیٰ نے اس قوم کو اسکے نبی  اور نبی کے ماننے والوں کو نکال کر باقی قوم کو نیست سے نابود کردیا۔! ایسی قوموں میں چند ایک جیسے قوم عاد، قوم ثمود، اصحاب ایکہ، آلِ فرعون وغیرہ قرآن سے  ثابت ہیں جنکا انکاروفافی وزیر کی  سائنس تو کر سکتی ہے مگر قرآن کو ماننے والے نہیں۔Azzab 2

 چونکہ حضرت محمد ﷺ خاتم الانبیا ہیں اور تاقیات اب کوئی نبی یا رسول نہیں آئیگا! لہٰذا اب کفار پر اب عذاب نہیں آئیگا۔ 

اب دنیا میں عذاب آئے گا تومسلمانوں پر۔! اگر مسلمان ہو کر اسلام پر عمل نہیں کیا اور تمامتر اطوار کفار جیسے اپنا لیے تو عذاب تو آئے گا۔! مسلمانوں کے گڑھ میں جو جو کفرانہ عمل ہو رہے ہیں ان پر ایک نظر دڑائیے:!  سعودی عرب میں نائٹ کلب شروع کیے جا رہے ہیں،! عورتوں کے لیے اسپشل سینماگھر شروع کیے جا رہے ہیں۔! عورتوں کے  لیے مقابلہ حسن کے ڈھونگ رچائے جا رہے ہیں۔!  قہوے خانے تو بہت پرانی بات ہے جہاں مردوزن لمبے لمبے کش لیکر اپنے دل دماغ کو نشے  میں مسخر کر رہے ہیں۔! سعودی شہزادوں نے جو یورپ اور امریکہ میں عیاشی کے اڈے آباد کررکھے ہیں۔ 

میں ڈنمارک میں ایک محفل میں موجود تھا! جہاں ایک صاحب جو ٹیکسی چلاتے ہیں بتا رہے تھے!  سعودی عیاش ٹیکسیوں میں بیٹھ کر   کوپن ہیگن  casino یا ایک خاص بیہودہ کلب یا شہر کی بدنام جگہ christinia جانے کی آرزو کرتے ہیں  ۔ عیاشی کی بدترین مثالیں! یہ ایک مٹھی برابر ڈنمارک کی بات ہے تو فرانس، جرمنی، اسپین، یوکے یا امریکہ کینیڈا میں ان لوگوں کی عیاشیاں کیا ہونگی؟!

تمہارا دعویٰ اسلام کا ہو اور عمل کافرانہ ہو تو کیا اللہ کا غضب چپ رہتا ہے؟!  

دعویٰ کیا جائے کہ ہم اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے احکامات کو مانتے ہیں! مگر سودی کاروبار کر کے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ کیے رکھو؟ ! نمازیں پڑھ پڑھ کے ماتھوں پر محراب کی جگہ نہ چھوڑو! مگر جب مصیبت پڑی تو ماسک مہنگے کر دئیے، دال چاول مہنگا کر دیا یا ذخیرہ کر دیا ، لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا،! حکومت نے ٹیکس لگانے کو کہا اور تم نے قیمتیں دس گنا بڑھا دیں۔!

انسان کو حلال کی جگہ مکروہ گوشت کھلانا تمہاری عادت میں رچ بس چکا ہے،  مکر و فریب، جھوٹ ، کبریائی عروج پر ہے! تمہاری مساجد میں قرآن کے سایوں تلے ننھی بچیوں  کے زنا کا کھیل رچا کر کہتے ہو! کہ عذاب نہیں آئے گا؟ بچوں کےساتھ زنا کا کھیل رچا کر قومِ لوط کے ذکر کے تازہ کر کے کہتے ہو کہ ہم اللہ والے ہیں؟  

ایک “کافر” جب تمہیں لاکھوں کا ایک امدادی پیکج بھیجتا ہے! تو تم اس میں بھی لوٹ کھسوٹ شروع کر کے اپنی سیاست چمکانے لگ جاتے ہو! اور جب وہی “کافر” کسی دوسرے “کافر” ملک کو ایسا ہی پیکج بھیجتا ہے! جسے وہ “کافر” ملک اپنے تمام علاقوں میں مساوی بانٹ دیتا ہے! تو بتاؤ بدتر اخلاقی کردار کس کا ہے تمہارا یا کفار کا؟ اعمال سے لگتا ہے! کہ تمہیں دنیا کمانے کی فکر ہے جبکہ کفار کو آخرت! تم تو انسانیت میں کفار سے بھی بدتر ثابت ہوئے ہو تو عذاب تو آئیں گے۔

ہم مسلمانوں پر عذاب 1922 میں اسی وقت سے شروع ہو گیا تھا! جب سلطنتِ عثمانیہ اپنی آخری ہچکی لے رہی تھی۔!

اسکے بعد سلطنت اہل سعود کا قیام کسی عذاب سے کم نہیں کیونکہ انگریز نے بھانپ لیا تھا اس ملک میں تیل ہے! اور تیل جبھی ہاتھ آئے گا جب اس ملک پر ایسے لوگ برجمان نہ ہوں جو ہماری انگلیوں کے اشاروں پر ناچیں:! وہ سعودی فرمانروا آج تک ناچ رہے ہیں۔!

فلسطین، کشمیر اس عذاب کی کڑیاں ہیں۔ ہمارے سامنے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائے گئی! ہم نے اسکو انجوئے کیا، عراق پر غاصبانہ قبضہ کیا گیا کسی مسلمان ملک میں تھوک برابر غیرت نہ جاگی کہ کچھ کر سکے،! شام کے ساتھ وہی سلوک جاری تھا اور ادھر ہندوستان میں ہندو دھشتگردی کی بدترین لہر اٹھی اور مسلمان بت بنے تماشہ دیکھتے رہے! بلکہ سعودی ناسور ہندو نازی لیڈر کو تاج پہنا رہے تھے! ارض عرب پر ہندو مندر کھل رھے ہیں۔! کشمیر میں انسانیت سوز تباھی بھی ہم مسلمانوں کے غلیظ ماتھوں پر رتی برابر عرقِ ندامت نہ لا سکی!

مسلمانان عالم اسوقت بدترین مخلوق ہیں! دین سے لاکھوں سال کی دوری پر ہم اپنے اپنے ملاؤں کے لفظوں کے جادو میں جھکڑے ہوئے ہیں۔! دین کہیں نہیں جو ہے ملاازم ہے! بدعات ہمارے اندر اسقدر سرائیت کر چکی ہیں کہ اب ہمیں بدعت بدعت لگتی ہی نہیں، بلکہ میڈیا کی بدولت اب یہ بدعات اپنے عروج پر ہیں۔!  کورونا کی عالمگیر وبا سے نمٹنے کے لیے ہمارے علما نے ہمیں بے وقت اذانیں دینا سکھا دی ہیں۔  Disaster Ya Azzab 2

کیا اللہ کا انصاف خاموش رہ سکتا تھا؟      Disaster Ya Azzab 2

یہ عذاب کہاں سے شروع ہوا ہے کیسے شروع ہوا ہے! اسکو چھوڑ دیجیے مگر اس نے ساری دنیا کو ایک ایسے ماحول میں  لاکھڑا کیا ہے! جہاں دنیا بھر کے 90 فیصد ممالک کی معاشی حالت کسی نہ کسی حد تک تباہ ہوئی ہے اور ہو گی! اسکا اندازہ جب ہو گا جب حسابِ سودوزیاں ہوگا! لاکھوں کمپنیوں کا دیوالیہ نہ ہوا تو کم از کم انکی معاشی کمر ٹوٹ جائے گی۔! ابھی سے ایسی انگنت خبریں آ رہی ہیں کہ کیا کیا تباھی ہو رہی ہے۔! لاکھوں افراد بے روزگار ہونگے: آج ہی کی خبر ہے !کہ صرف امریکہ میں لاکھوں افراد بیروزگار ہوئے ہیں۔ ابھی تو ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا۔!

امریکہ نے 1trillion ڈالر کا پیکج منظور کیا ہے، جرمنی نے 750 بیلین یوروز کا پیکج منظور کیا ہے!  اسی طرح کے پیکج دنیا بھر کے تقریباً سبھی ممالک میں منظور کیے گئے ہیں۔! 

یہ وہ رقوم ہیں جو کہیں اور صرف ہونی تھی یا رزرو میں رہنی تھیں! مگر اس عالمگیر وبا کی وجہ سے اب استعمال میں لائی جا رہی ہیں۔! کیا یہ ممالک اور خاص کر امریکہ اس رقم کو وصول نہیں کرے گا؟ ضرور کرے گا اور اسکے لیے ایک خوفناک جنگ تیار کی جائے گی جس میں مسلماں ممالک ملوث کیے جائیں گے۔!  اور مسلمان بخوشی اس حمار کا کردار ادا کریں گے۔۔۔ مجھے بتا اور عذاب کیا ہے؟

یہاں پر ایک شاطر قاری یقیناً سوال کریگا کہ میں نے تو مسلمانوں پر عذاب کی بات کی ہے! تو مگر اس میں تو غیرمسلم کا سب سے بڑا نقصان ہو رھا ہے! تو اسکا سادہ سا جواب ہے کہ ان میں اکثریت انہی کی ہے! جو ہم سے پہلے امتیں تھی یا انہیں امتوں سے نکلے ھیں جن پر نبی یا رسول نازل ہوئے۔ اور جب ایک لاکھ چالیس لاکھ پیغمبر نازل ہوئے تو اس میں کوئی بعید نہیں کہ ساری موجودہ دنیا کی امتوں میں پیغبر نہ گزر چکے ہوں!۔ کم از کم دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اسلام کا پیغام نہ پہنچا چکا ہو اور اہم ترین بات کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اسکی پکڑ میں سبھی آ سکتے ہیں۔

اب چوھدری فواد کی ٹویٹ کے دوسرے پہلو پر: اللہ کا عذاب جہالت ہے جو ان لوگوں کی صورت میں ہم پر مسلط ہے، علما، جو علم اور عقل رکھتے ہیں اللہ کی نعمت ہیں ان کی قدر کریں لیکن جہلاء کو عالم کا درجہ دینا تباھی ہے

اس پہلو سے مجھے کوئی اختلاف نہیں! بلکہ بہت خوب کہا کہ جو علمأ دین کا اصل علم رکھتے ہیں وہ ہمارے لیے بیش قیمت سرمایہ ہیں انکی قدر کرنی چاہیے! کیونکہ وہ وہ قدرے کم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔!  Disaster Ya Azzab 2

اس میں میں بلاجھجھک کچھ کے نام لوں گا جیسا کہ ڈاکٹرذاکر نائیک۔ مجھے بیحد افسوس کے کہنا پڑ رھا ہے کہ جب سے مودی کی غلاظت ہندوستان میں پھیلی ہے ڈاکٹر صاحب کو ہندوستان چھوڑنا پڑا! اور ساتھ ہی انکے چینلز پر پابندی لگا دی گئی۔ ! رہی بات ان ْعلما ْ کی جو مساجد میں کھڑے ہو کر اپنی جہالت کی بنا پر عالمگیر وبا کو سمجھنے سے قاصر ہیں! یا وہ علمأ جو رمضان کے رمضان اپنی اپنی کھڈوں سے نکل کر چند ٹی وی چینلز پر قبضے جما کر سمجھتے ہیں انہوں نے دین کا حق ادا کر دیا تو دراصل انہوں نے اپنا مذہبی فریضہ ادا کیا ہے دین انکی سمجھ سے باہر ہے۔  بلاشبہ جاھل عالم دینِ اسلام کے لیے سب سے بڑا عذاب ہے! مگر حق یہ ہے اگر ایسے علمأ ہمارے لیے عذاب ہیں تو ایسے وزرأ بھی کسی عذاب سے کم نہیں!

یہاں پر چوھدری فواد کو جوابی ٹویٹ پر تبصرہ کرنا چاہوں گا۔۔                Disaster Ya Azzab 2

الامان الحفیظ!!

بصد عزت و احترام کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ اسکو کہتے ہیں جاھلیت کی زندہ جاوید مثال!  71 سالوں سے دنیا میں کہیں بھی ایسی کوئی وبا نہیں پھیلی! جس نے اسطرح دنیا کو اپنی پکڑ میں لیا ہو! ویبولا کی وبا افریقہ کے چند ممالک تک محدود تھی،! سوائن فلو بھی چند ایک ملکوں تک رہی! اور یہ کہنا کہ یہ عمران خان کی وجہ سے ہے تو کیا دنیا کے دوسرے ممالک میں جو ہے وہ بھی عمران خان کی وجہ سے ہے؟

عقل دانی محدود ہو تو بات اتنی ہی سمجھ آتی ہے! شاید حامل ٹویٹ کا اپنا کوئی ذاتی مسئلہ تھا جو اس ٹویٹ میں نکال دیا! ورنہ پاکستان گناہوں کا گھر ایک مدت سے بن چکا تھا! لوگ کیوں سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت آنے سے پہلے! یہ ملک عبادات اور نیک لوگوں کا گہوارا تھا! اور جنت کا نمونہ تھا جو یکدم دوزخ بن گیا ہے۔ !یہ الگ بات ہے کہ ان جیسے لوگوں کو وہ بات نظر آئے یا نہ آئے!

علم بہت بڑی طاقت ہے !اگر علم سیکھ لیا جائے تو بات میں وزن پیدا ہوتا ہے! مگر ہمارے سوشل میڈیا کے لیے آج کل ایسے ٹویٹ ہی علم و عقل کے پاسبان ہیں!

#coronavirusinpakistan, #StayAwareStaySafe, #FridayThoughts, Pakistan Current Affairs, Ch. Fawad Hussain, Coronavirus

بقلم: مسعود

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.