Current Affairs

Coronavirus – Covid-19

Coronavirus - Covid-19

کورونا وائرس

Coronavirus – Covid-19

کوروناوائرس نے اسوقت دنیا کو اپنے ہولناکیوں میں لپیٹا ہوا ہے!

ملکوں کے ملک ایک دوسرے سے اپنی بحری، بری اور فضائی سرحدیں بند کر ہے ہیں۔! اکثر ممالک نے قوانین جاری کر دئیے ہیں کہ لوگ اپنے گھروں سے باھر صرف اور صرف اشد ضرورت میں نکلیں! بہت سارے ممالک میں کرفیو کا سماں ہے۔ ! وہ لوگ جو گھروں میں رہ کر کام کر سکتے ہیں ان کو گھر سے کام کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔! مجھے آج ڈیڑھ ہفتہ ہو گیا ہے گھر سے کام کرتے ہوئے!

اٹلی اور اسپین جیسے ممالک اس کی شدید ترین لپیٹ میں ہیں! اور یہاں گروسری کی دکانوں کے سوا تمام تر نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے! بازاروں کے بازار بند پڑے ہیں۔! دنیا بھر میں اسپورٹس کے ایونٹ ملتوی کیے جا رہے ہیں۔ 

بوقت تحریر دنیا کے 185 ممالک یا علاقوں میں! دو لاکھ چوہتر ہزار دو سو انیس کیسز روپورٹ ہوئے ہیں! جن میں ایک لاکھ اکھتر ہزار نو اٹھائیس کیسز چل رہے ہیں۔! تاحال گیارہ ہزار تین سو پچپن افراد اس مہلک بیماری کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں! جن میں صرف اٹلی میں چار ہزار اور بتیس اور چین میں تین ہزار دو اٹھتالیس افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔! عالمی ادارہ صحت نے اسے ‘عالمی وبا’ قرار دیا ہے! اور اسکو کورونا بیماری 2019 (covid-19) کا نام دیا ہے!

آئیے کورونا کو آسان اردو میں سمجھتے ہیں

انتہائی مہلک تنفسی بیماریوں کی علامات کورونا سے تعلق رکھنی والی! یہ بیماری جسے انگریزی میں (severe acute respiratory syndrome corona (SARS-CoV-2 کہا جاتا ہے۔! اسکی عمومی علامات میں سانس کی گھٹن، پٹھوں کا درد، تھوک آنا اور گلے میں سوزش کا ہونا شامل ہیں۔! جبکہ کچھ مریضوں کے ہاں نمونیا اور اعضا کی دوسری بیماری بھی دیکھی گئی ہیں۔ 

Coronavirus – Covid-19

Coronavirus - Covid-19
Mikael Häggström, M.D.

Coronavirus – Covid-19

بیماری کے پھیلنے کی وجہ عموماً ایک شخص کا کھانسنا یا چھینکنا! اور اس سے دوسرے قریبی لوگ جو سانس لیتے ہیں! انکے سانس سے اسکا وائرس ان میں منتقل ہو جاتا ہے۔! ایک دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ کسی ایسی جگہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے چہرے پر ہاتھ لگا لیا جہاں پہلے کسی نے مریض نے ہاتھ رکھا ہو، اکثر چھنکنے یا کھانسنے کے بعد ہاتھ کسی جگہ رکھا جاتا ہے۔

عموماً جو اعلامات ہیں ان میں بخار، !سوکھی کھانسی، تھکن، تھوک کا خارج ہونا، سانس میں دقت،! پٹھوں یا جوڑوں کا درد، گلے کی سوزش، سردرد، سردی لگنا،! قے آنا، ناک کی بندش، دست، خونی کھانسی اور سوزش ملتحمہ ہیں۔

وائرس کا حملہ زیادہ تر پھیپھڑوں ہوتا ہے !کیونکہ وائرس میزبان خلیوں تک enzyme ACE2 جو کہ پھیپھڑوں میں وافر ہوتا ہے،! تک رسائی حاصل کرتا ہے۔! وائرس ایک خاص تہ glycoprotein جسے spike کہتے ہیں استعمال کرتے ہوئے ACE2 سے میزبان خلیے میں داخل ہو جاتا ہے۔ 

کورونا کا وائرس پلاسٹک یا پلاسٹک کی بنی اشیا! اور اسٹین لس اسٹیل پر زیادہ سے زیادہ تین دن تک زندہ رہ سکتا ہے! جبکہ فضا میں یہ 3 گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے۔

کورونا وائرس قدرتی ہے! اور اسکا تعلق جانوروں سے ہے۔ پہلی بار یہ انسانوں میں منتقل ہوا چین کے شہر وہان میں۔! نومبر یا دسمبر 2019 میں یہ انسانوں کے ذریعے سے انسانوں میں منتقل ہونا شروع ہوا۔ اندازہ کیا جاتا ہے! کہ پہلا کورونا کا کیس 17 نومبر 2019 کو ریکارڈ کیا گیا۔

Coronavirus – Covid-19

تشخیص

عالمی ادارہ صحت نے اسکی تشخیص کے لیے مختلف طریقے وضع کیے ہیں۔! اسکا عام طریقہ کار (reverse transcription polymerase chain reaction (rRT-PCR ہے! جس میں ناک یا گلے کے اندر کے حصے سے کچھ مواد نکال کر اسکا ٹیسٹ ہے !جسے nasopharayngeal swab کہتے ہیں۔ یا پھر تھوک کو استعمال کیا جاتا ہے۔! ان ٹیسٹ کا نتیجہ چند گھنٹوں سے لیکر دو دن تک موصول ہوتا ہے۔! خون کا ٹیسٹ بھی لیا جاتا ہے مگر اس سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔!

سینے کا سی ٹی اسکین بھی کیا جا سکتا ہے! RT-PCR کے اسکین کے مقابلے میں زیادہ قوی ہوتا ہے! اور 98 فیصد درستگی کیساتھ بیماری کی تشخیص کر سکتا ہے۔

بچاؤ یا احتیاط

تاوقت تحریر سائنس دان اس بات پر متفق ہیں !کہ اس بیماری کی کوئی خاطر خواہ دوا تیار کرنا کم از کم ایک سال تک نا ممکن ہے۔! اس عالمگیر وبا کو قابو میں رکھنے اور کنٹرول کرنے کا طریقہ کار واضح کیا ہے! تاکہ وبا کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

ان میں درجِ ذیل اہم ہیں:

اپنے ہاتھ دھوئیں:
- خاص کر جب ٹائلٹ استعمال کریں، چھینک لیں، کھانسی کرتے وقت ہاتھ منہ پر رکھیں، عام جگہوں
جس میں بسیں، عام پبلک جگہوں سے ہو کر آئیں
- sanitizer استعمال کریں
- بلا ضرورت آنکھوں، ناک اور منہ کو ہاتھ نہ لگائیں چہرے پر خراش مت کریں
انسانی ٹج
- بیمار لوگوں سے کسی قسم کا ٹچ نہ کریں
- ہاتھ نہ ملائیں گلے نہ لگیں
- عقیدتی بوسہ سے بھی پرہیز کریں
علیحدگی
- اپنے گھر سے بلا ضرورت باہر مت جائیں
- خود کو اور دوسرے کو الگ رکھیں
- بلا جواز سیر اسپاٹا ترق کر دین
- صرف انتہائی ضرورت کے وقت گھر سے باہر نکلیں
کھانسی اور چھینک
- کھانستے ہوئے یا چھینک لیتے ہوئے اپنے منہ پر ٹشو رکھیں اور وہ ٹشو گند کے بند ڈبے میں پھنکیں
- فی الفور ہاتھ دھوئیں
چہرے کا ماسک
- اگر آپ کو ذرا سا بھی شک ہے تو فیس ماسک استعمال کریں
- ماسک ذرا بھی گندا نہ ہونے دیں
- ماسک جانی پہچانی کمپنی کا لیں
صفائی ستھرائی
- اپنے گھروں اور ان تہوں کو جو اکثر چھوئی جاتی ہیں ان کو صاف رکھیں
- جہاں جہاں گندگی نظر آئے اس جگہ کو صاف کر دیں
- اپنے کپڑوں کو صاف رکھیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں

Coronavirus – Covid-19


میرا تبصرہ:

ابتدا میں میں نے کورونا وائرس کو ایک غیر سنجیدہ عام سی بیماری کے طور پر لیا! میرا خیال تھا کہ وہ جنگ جو امریکہ اور چین کے درمیان پچھلے کافی عرصے سے جاری تھی، !معاشیات کی جنگ، یہ اس میں چین کی مارکیٹ کو تباہ کرنے کی سازش ہے! – میں آج بھی یہی سمجھتا ہوں کہ یہ چین کی مارکیٹ کو ختم کرنے کی ایک ایسی سازش ہے! جو کہیں نہ کہیں بنائی گئی ہے مگر اس کا اثر غلط ہو گیا ہے!

دنیا میں سب سے خطرناک بیماریوں میں آج بھی عام انفلوانزا سب سے اگے ہے۔! دنیا بھر میں لاکھوں افراد انفلوانزا سے مرتے ہیں۔! صرف 2018 سے 2019 تک کوئی آتھ لاکھ افراد انفلوانزا سے مرتے ہیں۔

مگر جس طرح یہ وبا دنیا بھر میں پھیلی ہے! اور خاص کر اٹلی اور اسپین کو تباہ کر رہی ہے! اس نے دنیا کو جھنجھؤڑ کر رکھ دیا ہے! ساری دنیا ایک طرح کے کرفیو میں مبتلا ہے! کاروباری زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔! امیر ممالک میں تو شاید انکی ریاستیں اپنے کاروباری حضرات کو کچھ compensation ادا کر سکتی ہے! مگر پھر بھی اندازہ کیا جا رہا ہے !کہ یورپ اور مغربی دنیا میں میں انگنت افراد کو جاب سے فارغ کرنے کے ساتھ ساتھ  بیشمار چھوٹی بڑی کمپنیاں فارغ ہونگی! مثال کے طور پر صرف نارویجن ائرویز نے اپنی 85 فیصد پروازیں منسوخ کیں۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک بہت بڑی تعداد روزانہ کی مزدوری کے تحت اپنے گھر کا نظام چلاتا ہے! اسکے لیے بہت مشکل ہو گی! بہت سارے لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہونگے۔! لہٰذا پاکستان جیسے ملک کو لاک ڈاؤن کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔! تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں یہ وبا تیزی سے بڑھ رہی ہے۔! اسکی وجوہات میں ایک طرف تو اسکولوں کو بند کر دیا گیا !مگر دوسری طرف وہی بچے اب گلیوں بازاروں اور تفریحی مقامات پر گھومتے پھر رھے ہیں – حکومت کو اس پر کرفیو لگانا ہو گا۔

دوسری جانب ہمارے ہاں مذہبی رحجان رکھنے والے نام نہاد مسلمانوں نے اس کو شدید غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے! جاھلیت کی مثال یہ ہے کہ کچھ لوگ اسے اسلام کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔ ایک ملا کی یہ ویڈیو دیکھیں:

Coronavirus – Covid-19

میں پاکستانی حکومت سے گزارش کرتا ہوں کہ خدا کے لیے ایسے ملاؤں سے مائیک چھین لیا جائے اور انکو جمعہ کے خطاب دینے سے منع کرنا چاہیے! جب اس ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں کے سربراہ سرِ عام حفاطتی تدابیر توڑتے ہوئے نظر آئیں وہاں عام بندہ کیسے بات سنے گا؟ پاکستانی عوام ہمیشہ سے وہ کام کرتی چلی آ رہی ہے جس سے انکو روکا جائے! سوشل میڈیا پر ایسے ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو مذہب کے نام پر لوگوں کو بڑھکا رہے ہیں کہ حکومتی حفاظتی تدابیر کی رتی برابر پرواہ نہ ک جائے!  کسی بھی قسم کا حفاظتی تدبیر صرف اور صرف آپ کی بہتری کے لیے ہے۔ اپنے آپ کو درجہ بالا ملاؤں کی فضول باتوں سے بچائیں۔ حفاظتی تدبیر کوئی گناہ نہیں!

کسی بھی وبا کو فیس کرنے کے لیے انسانی ہمدردی بہت اہم ہوتی ہے۔ مگر انسانی ہمدری ہی اکثر انسانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہو جاتی ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ یورپ کے امیر ترین لوگ اپنے لیے بلیک میں پیسے دیکر کورونا کے ٹیسٹ کروا رہے ہیں اور اپنے لیے دنیا کے محفوظ ترین مقامات پر بنکرز بنوا کر اپنی من پسند کے ڈاکٹرز اور نرسیں ان بنکرز میں لے جا کر وائرس کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، یہاں انسانیت کی انتہا ہے! یہ انسان کے کمظرف ترین ہونے کی سب سے بڑی مثال ہے۔  ہمارے ملک میں منافع خوروں نے ماسک کی قیمتیں بڑھا دیں، انکو ڈخیرہ کر لیا، سینیٹائزر جعلی بنانا شروع کر دیں – خدارا یہ گناہ مت کریں!

اپنے گرد و نواح کے لوگوں کا خیال رکھنے سے پہلے اپنا خیال رکھیں – خود کو کچھ عرصہ کے لیے isolate کر لیں! حفاظت کی جو تدابیر اوپر بتائی گئی ہیں ان پر عمل کریں۔ اگر آپ کو یہ بیماری نہیں لگی تو اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ محفوظ ہیں یا آپ کی وجہ سے کوئی دوسرا بیمار نہیں ہو سکتا! اپنا خیال رکھیں دوسرے اپنا خیال رکھ لیں گے۔ اپنی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ 

#WarAgainstVirus, #Covid_19, #lockdownpakistan, #SociallyResponsiblePakistani, #CoronaVirusInPakistan, Pakistan


بقلم: مسعودؔ

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment