Current Affairs

Amerika Talebaan Muhaidah

Amerika Talebaan Muhaidah

Amerika Talebaan Muhaidah

امریکہ طالبان امن معاہدہ

America Taliban Aman Muaahida

آج دوحہ میں ایک تاریخ ساز معاہدہ ہوا!

پس منظر

گیارہ ستمبر 2001 کا واقعہ ہمیں یاد ہے؟! امریکہ کی بگڑتی ہوئی معاشی حالت کو سہارا دینے کے لیے وورلڈ ٹریڈ سینٹر کو امریکہ نے خود تباہ کیا! اور اسکا سارا الزام القاعدہ پر لگا دیا! القاعدہ کا سربراہ کوئی اور نہیں اوسامہ بن لادن تھا! اوسامہ بن لادن کون تھا؟

اوسامہ بن لادن کو سمجھنے کے لیے ہمیں اُن حالات پر نظر ڈالنی ہو گی! جن کے تحت اوسامہ بن لادن منظرِ عام پر آیا! اور یہی وہ حالات ہیں جن کا آج کے تاریخ ساز معاہدے پر گہرے اثرات ہیں۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد دو طاقتیں سپر پاوور بن کر سامنے آئیں:! سویت یونین اور امریکہ – دونوں کے سیاسی نظام میں زمین آسمان کا فرق تھا!: پہلا سوشالسٹ ڈکٹیٹرشپ دوسرا مغربی جمہورت کا علمبردار۔! دونوں نے دنیا کو اپنے شکنجے میں دبوچنے کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔! اس دوڑ نے دونوں سپرپاوورز کے درمیان ایک نئی جنگ کا آغاز کر دیا جسے “کولڈ وار” کا نام دیا گیا۔ ایسی جنگ جس میں براہِ راست کوئی عسکری طاقت استعمال نہیں ہوتی بلکہ سیاسی کشمکش اور سوچ کا استعمال ہوتا ہے ۔

سردجنگ                        Amerika Talebaan Muhaidah

اس دوڑ میں نیٹو کا قیام ہوا اور جب 1955 میں مغربی جرمنی کو نیٹو میں شامل کیا گیا،! تو سوشالسٹ بلاک نے خود کو غیر محفوظ سمجھا! اور 1955 میں وازاؤ پیکٹ کا اجرا کیا۔ جو کہ نیٹو کے مقابلے میں طاقت کی اعتدلال کے لیے تھا۔

سویت یونین کی سوشالسزم نے دنیا میں دھوم مچا دی! اور عنقریب تھا کہ دنیا سوشالزم کی لپیٹ میں آ جاتی – مغرب کو اپنی بقا کی فکر ہوئی۔

دنیا کے حالات اسوقت خطرناک حد تک خراب ہوگئے! جب امریکہ نے اپنے اتحادیوں، اٹلی اور ترکی میں ایٹمی مزائل نصب کیے اور جس کے مقابلے میں سویت یونین نے اپنے اتحادی کیوبا میں ایٹمی مزائل تنصیب کر دئیے۔ 1963 میں عنقریب تھا کہ دنیا ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں آ جاتی مگر “الیونتھ آوور” میں سیاسی مفاہمت فاتح قرار پائی اور دنیا ایک خطرناک جنگ سے بچ گئی۔

مگر دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ جاری رہی!                  Amerika Talebaan Muhaidah

روس نے اپنی سوشالسٹ اتحادیوں کی لسٹ کو بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔!

اسکی ایک بہت اہم اور اہم ترین چال اس وقت چلی جب بحیرۃ عرب پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے 1979 میں افغانستان پر حملہ کر دیا۔!

سویت یونین کا مقصد افغانستان سے گزر کر پاکستان کے صوبے افغانستان پر قبضہ کر کے بحیرہ عرب تک رسائی تھی جہاں اسکا اس وقت تک کا سب بڑا حلیف ملک بھارت موجود تھا!

یہ ایک ایسا خطرناک اور انتہائی اہم منصوبہ تھا جس سے ساؤتھ ایشیا میں امریکہ کی بجائے سویت یونین کی مکمل طور پر برتری ہو جاتی۔! اور امریکہ کا رول ساؤتھ ایشیا میں مر کھپ جاتا۔ ادھر تاریخ نے ایک ایسی کروٹ لی کہ امریکہ کا سب سے بڑا دوست اور پٹھو ایران ایک بہت بڑے اور تاریخی انقلاب سے گزر کر شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی حکومت سے نکل کر خمینی کی اسلامی ریاست میں بدل رھا تھا۔! یعنی امریکہ اپنا اثر و رسوخ ہر کھونے والا تھا۔

جنوبی ایشیا                  Amerika Talebaan Muhaidah

ادھر پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان ایٹمی پلانٹ لگا رھا تھا! اور امریکہ کی ایک بھی سننے کو تیار نہیں تھا۔!  بھٹو نے اسوقت کے مسلم سربراہوں کو اس سوچ پر قائل کر لیا تھا کہ اگر امتِ مسلمہ اپنا بقا چاھتی ہے! تو ہمیں بھی نیٹو اور وازاؤ پیکٹ کی طرح مسلم اتحاد قائم کرنا ہو گا۔ !یہ تمام حالات امریکہ کے لیے خطرناک تھے۔ 

ان تمام حالات کا مشاھدہ کرنے کے بعد امریکہ ٍکو ہیروز کی تلاش تھی! مگر وہ ہیروز انکے اپنے اندر سے نہیں بلکہ امتِ مسلمہ سے چاھئیے تھے۔! ان میں ایک ہیرو پاکستان کا ملٹری جنرل ضیاالحق تھا جس نے بھٹو کی حکومت پر شبخون مار کر اسے عدلیہ کے ہاتھوں قتل کروا دیا۔ سراسر امریکہ کی چال تھی!

اب امریکہ سیاست کا اگلہ قدم سویت یونین کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنا تھا بلکہ پسپا کرنا تھا۔! ایک جنگ جس مین بندوقیں امریکہ کسی اور کے کاندھوں پر رکھ کر چلانا چاھتا تھا – اسکے لیے اسے ایک سپر ہیرو کی تلاش تھی۔ وہ سپر ہیرو عرب کا ایک امیرزادہ جس کا نام اوسامہ بن لادن تھا، بنا!

مجاھدین                            Amerika Talebaan Muhaidah

اوسامہ بن لادن اکثر برملا دنیا کی سیاست پر اپنے رنج و غصے کا اظہار کر چکا تھا۔! CIA نے اسے ٹرینینگ دی، اعلیٰ درجے کا منظم  اور ملٹری لیڈر بنایا۔!  مگر اسکے پاس فوج نہیں تھی جو سویت یونین جیسی پاوور سے لڑ سکتی تھی۔!

اسکے لیے امریکہ کی اگلی چال کام آئی: سعودی عرب نے خزانے کے منہ کھول دئیے اور امریکہ نے اسلحے کے ڈیپوز! پاکستان میں پہلے ہی ایک ہیرو موجود تھا: ضیاالحق نے اپنے دیرینہ دوست عبدالعزیز (لال مسجد والے) اور بعد میں مدرستہ حقانیہ  کیساتھ ملکر مسلمانوں کا برین واش شروع کیا! اور کافر سویت یونین کے خلاف جنگ کو جہاد کا نام دیا کہ اس جنگ میں موت جنت کی سبیل ہے۔!

دین اور جہاد کا نام سنتے ہی مسلمان دھڑادھڑ اس تنظیم میں شامل ہونا شروع ہو گئے۔ اس کو اوسامہ بن لادن اور دوسرے اہم  رہنماؤں کی قیادت میں فوجی تریبت افواجِ پاکستان نے دی۔  اور ایک زبردست جہادی فوج تیار ہوئی جسکا نام مجاھدین رکھا گیا – یہ مجاھدین  جہاد کے نام سوویت یونین کیخلاف امریکہ کی جنگ  لڑنے افغانستان پہنچے!

امریکہ سے جدید ترین اسلحہ – ایسا اسلحہ جسے ابھی پاوورفل سوویت یونین نے بھی نہ دیکھا ہو، پا کر دن رات سعودیہ کی دولت کے انبار لیکر، اور افواجِ پاکستان سے تریبت لیکر مجاھدین نے سوویت یونین جیسی طاقت کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا! لیکن پسپائی کی جنگ کوئی دس بارہ سال تک چلتی رہی جس میں افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بج گئی!

تاریخ کی انگڑائی                          Amerika Talebaan Muhaidah

سن اسی کے آخری سال دنیا کی تاریخ میں ایک بہت بڑی کروٹ لیکر آئے۔!

مشرقی یورپ میں جسے ایسٹ بلاک کہا جاتا تھا وہ ٹوٹنے لگا! سوشالزم اپنی جڑیں کھونے لگی! اور اسکو ایک آخری ضرب کی ضرورت تھی۔! وہ ضرب اسے اسوقت لگی جب مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی ایک ہو گئے! اور برلن دیوار جو اس بات کا ثبوت تھی کہ ادھر آپ ادھر ہم وہ پاش پاش ہو گئی! دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے جو دو ٹکڑے ہوئے تھے وہ پھر سے ایک ہو گئے! اب صرف جرمنی تھا – نہ مغرنی نہ مشرقی!

اس نے تمام مشرقی یورپ میں ایک Domino effect کا کردار ادا کیا! اور چند ہی سال بعد یوگوسلاویہ جو سوویت یونین کا بہت مضبوط حلیف تھا، پاش پاش ہو گیا!

یوگوسلاویہ کے پاش پاش ہونے کے بعد البانیہ، پولینڈ، بیلاروس، یوکرائن، مولڈوا، ایسٹونیا، لاٹویا اور دوسرے کئی ریاستیں جو سوویت یونین کے تسلط میں تھی، آزاد ہو گئیں۔!

اسکے ساتھ ہی چیکوسلاواکیہ کی سوشالسٹ ریاست بھی دو حصوں میں بٹ کر مغربی یورپ کے ساتھ جا ملی! ایشیا میں بھی بہت ساری ریاستیں جو سوویت یونین کے ماتحت تھیں، آزاد ہو گئیں! صحیح معنی میں سوویت یونین پاش پاش ہو گیا اور فقط روس بن کر رہ گیا!                    Amerika Talebaan Muhaidah

فاتح اور مفتوح

امریکہ سرد جنگ جیت گیا!                          Amerika Talebaan Muhaidah

مگر اس جیت کے ساتھ ہی امریکہ نے وہ کیا جو امریکہ ہمیشہ سے کرتا چلا آیا ہے! کسی بھی قسم کا کوئی بھی بہتر حل نکالے بغیر مجاھدین کو اسلحہ دینا بند کر دیا،! سعودیہ نے پیسے دینے بند کر دئیے اور ان پر سے مکمل طور پر نظریں عنایت اٹھا لی! اور انکو انکے رحم و کرم پر چھوڑ دیا! مگر مسئلہ بہت گھمبیر تھا!

سوویت یونین نے افغانستان سے پسپائی تو کھا لی،! مگر جاتے جاتے ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی،! جسکی ساری کی ساری توجہ روس کیساتھ تھی۔! اب افغانستان کے حالات پہلے سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہو گئے۔! اب یہ مجاھدین جنکو امریکہ اپنا مفاد نکل جانے کے بعد کنارے لگا گیا ان کی جنگ کٹھ پتلی حکومت اور اسکی اپنی افغان فوج سے تھی جسے روس اسلحہ دے رھا تھا – اب افغانستان حالتِ خانہ جنگی میں آ گیا!

حالات یہ تھے کہ جنگ جاری رکھنے کے لیے مجاھدین کو اسلحہ چاہیے تھا! جو کہ امریکہ نے بند کردیا،! پیسے سعودیہ نے بند کر دئیے،! ملٹری ٹرینینگ پاکستان نے کم کر دی! – امریکہ کے اس ناجائز رویہ پر مجاھدین اپنی مستقبل کی حکمتِ عملی کیلیے depression کا شکار ہو گئے،!

اس ڈیپریشن میں انہوں نے امریکہ سے بدلہ لینے کے لیے اوسامہ بن لادن کی قیادت میں دھشتگردیاں کرنا شروع کر دیں، جن کی ابتدا میں نیروبی مین امریکی سفارتخانے میں بمبنگ ہے۔ ان دھشتگردیوں کا سب سے بڑا نشانہ پاکستان بنا، کیونکہ پاکستان نے اب فوجی مدد بند کر دتی تھی۔

امریکہ دشمنی                                    Amerika Talebaan Muhaidah

اوسامہ بن لادن نے کئی ایک مقام پر امریکہ کے خلاف بیان دئیے! جس سے وہ ہیرو سے ویلین بن گیا! خانہ جنگی جو تاحال افغانستان میں جاری تھی! اب وہ مجاھدین کی بجائے طالبان کے نام سے پکارے جانے لگے! اور اوسامہ بن لادن کو القاعدہ نامی کالعدم تنظیم کا بانی بنا کر اسکے ماتھے پر Most Wanted کا ٹیگ لگا دیا! – اب اوسامہ امریکہ کا سب سے بڑا دشمن تھا!

امریکہ کی معاشی حالت نوے کے عشرے کے اختتام پر اور سن 2000 کے ابتدائی سالوں میں بہت ابتر تھی۔!

اس کی ساکھ کو بہتر کرنے کے لیے امریکہ کی اگلی چال افغانستان میں opium کی فصل اور  عراق کے تیل پر قبضہ کرنا اور عراق کو تہس نہس کر کے اسے ری بلڈ کرنے کے لیے بڑے بڑے آرڈرز لینا تھا۔ مگر اسکے لیے کوئی بہانہ چاہیے تھا۔ وہ بہانہ وورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباھی کا بنایا گیا کہ اس میں اوسامہ بن لادن کی القاعدہ شامل تھی۔

گیارہ ستمبر 2001 کو وورلڈ ٹریڈ سینٹر کا واقعہ پیش آیا! اور نومبر/دسبمر 2001 میں امریکہ کا اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان پر حملہ تھا جس میں مقابلہ طالبان سے تھا! پتہ نہیں اوسامہ بن لادن کب اور کہاں مارا گیا،! مگر طالبان نے امریکی اور اسکے اتحادیوں کیخلاف جنگ جاری رکھی۔

یہ ہے وہ جنگ جو کوئی 19 (بلکہ 40 سال) سال جاری رہنے کے بعد آج صلح صفائی پر ختم ہو گئی! اس جنگ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 2400 امریکی اور اتحادی فوجی مارے گئے جب کہ 38000 ہزار سے زائد طالبان – لاپتہ، زخمی، اور سول کا کوئی حساب نہیں۔! اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان نے سب سے بڑا نقصان اٹھایا اور پشاور کی ملٹری اسکول کے 141 ننھے بچوں سمیت انگنت پاکستانی قتل ہوئے۔                            Amerika Talebaan Muhaidah

شرائطِ معاہدہ

اب آئیے ذرا ان شرائط پر نظر ڈالتے ہیں جن پر یہ معاہدہ طے پایا ہے:

  • امریکہ افغانستان سے اپنی تمامتر فوجیں اگلے 14 ماہ کے اندر اندر نکالے گا
  • اگلے 135 دنوں میں امریکہ اور اتحادیوں کی فوج کم ہو کر 8600 فوجی تک رہ جائے گی
  • اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے امن کے معاہدے کی توثیق ہو گئ
  • امریکہ افغان معاملات میں مداخلت نہیں کریکا
  • مارچ سے افغان سیاسی استحکام کیلیے مذاکرات ہونگے
  • مارچ تک تمام قیدیوں کی رھائی ہو گی
  • طالبان نے یقین دھانی کرائے کہ افغان سرزمین امریکہ اور اتحادویوں کیخلاف استعمال نہیں ہوگی
  • اور یہ کہ طالبان کا نام کالعدم لسٹ سے نکل جائے گا
امریکی صدر ٹرمپ نے کچھ عرصہ پہلے ایک ملاقات میں پرائم منسٹر عمران خان سے کہا تھا کہ “ہم چاہیں تو افغانستان کو دس منٹ میں صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں، مگر ہم ایسا کرنا نہیں چاہیے”!

یہ ایک انتہائی خطرناک اور چونکا دینے والی دھمکی تھی! مگر ساتھ ہی ساتھ اس بات کا اظہار بھی تھا !کہ امریکہ اس خطے میں مزید تباھی نہیں چاھتا۔ 

امریکہ میں چند ماہ بعد صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں! اور افغانستان سے امن کیساتھ نکل جانا ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی بہت بڑی کامیابی سمجھا جائے گا! جو کہ انتخابات میں اہم ہو گا۔ انیس سال ایک ایسی جنگ جاری رکھی جس کا کوئی جواز نہیں تھا،! جس میں لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں! اور جسکا حل بالآخر اسی انداز میں ہوا جس میں امریکہ چاھتا تھا۔!

درجہ بالا نقاط تمام کے تمام نقاط امریکہ کے مفاد میں ہیں۔

امریکی چال

امریکہ کی اگلی چال انتہائی خطرناک ہوگی۔! اس چال کو چلنے کے لیے افغانستان سے نکلنا بہت ضروری تھا۔!

یہ فوج جس کا انخلا افغانستان سے ہو رھا ہے،! یہ اب کہیں “اور” استعمال ہو گی – بس وقت کا انتظار ہے۔!

اس اگلے ھدف میں ایران بھی ہوسکتا ہے اور شمالی کوریا بھی! ترکی بھی ہو سکتا ہے اور پاکستان بھی – خود سعودیہ بھی اس سے باھر نہیں!

ہمارے ہاں کچھ دانشور یہ تاثر دے رہے ہیں کہ امریکہ گھٹنے ٹیک کر بھاگ گیا ہے: وہ بھاگا نہیں بلکہ وہ ایک بے معنی جنگ میں مزید الجھنا نہیں چاھتا، اسکے لیے افغانستان کو ختم کرنا کوئی مشکل نہیں مگر یہ اسکی سیاست میں شامل نہیں۔! روس نےگھٹنے افغانیوں کے سامنے نہیں ٹیکے تھے بلکہ روسیوں کو پسپا امریکی اسلحے نے کیا تھا۔

ذرا اس نقطہ کو پھر سے سمجھیں:

طالبان نے یقین دھانی کرائے کہ افغان سرزمین امریکہ اور اتحادویوں کیخلاف استعمال نہیں ہوگی

درحقیقت امریکیوں نے طالبان کو مکمل طور پر eliminate کردیا ہے کہ اگر خدانخواستہ امریکہ ایران پر حملہ کرے یا پاکستان ہی پر ہو تو طالبان یا افغانستان سے کسی قسم کی کوئی مجاھدانہ تحریک نہ اٹھ سکے وہی تحریک جو پاکستان سے پیدا ہوئی اور محاھدین کہلائی اور بعد میں طالبان! امریکہ نے بہت شاطر چال چلی ہے مگر اسکی سمجھ مسلمانوں کو جب آئے گی جب اگلی مصیبت گلے پڑے گی!

خود کو غفلت سے نکال کر آنے والی تباھی کی طرف توجہ دیں وہ زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔! امریکہ نے کبھی اپنے عہد کا پاس نہیں کیا، کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا! جس میں اسکے اپنے لیے دوررس ثمرات نہ ہوں!!!

رہ گئے افغان؟ تو معاہدے کی ایک اہم شق اسکی حالت بیان کر رھی ہے: مارچ سے افغان سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات ہونگے!!! یعنی افغانستان ابھی تک وہی کا وہی کھڑا ہے! جب مذاکرات ہونگے، جب سودوزیاں، فائدے آپس میں ٹکرائیں گے تب ہم بھی دیکھیں گے کہ افغانستان میں سیاسی استحکام کب اور کیسے آتا ہے! فی الحال تو یہ ہے کہ انیس سال تک انسانیت کا خون بہانے کے بعد جب امریکہ  کی دلچسپی ختم ہو گئی ہے تو امریکہ نے امن و وامان سے جانے کے لیے نے اپنی بات منوا لی ہے!

America Taliban Aman Muaahida, Afghanistan-US War, Nine-eleven, 9/11, Pakistan, India, Turkey, Nato, Mullah Abdul Ghani, Zalmey Khalilzad, United Nations

بقلم: مسعود


SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.