Current Affairs Politics

Senate Voting and Randi Rona

Senate Voting and Randi Rona

سینٹ انتخابات اور رنڈی رونا

Senate Voting and Randi Rona

پاکستان میں کل سے رنڈی رونا پڑا ہوا ہے کہ اپوزیشن کی سینٹ میں پیش کی گئی قردادِ عدم اعتماد ناکام کیسے ہو گئی۔

اپوزیشن کا رونا یہ ہے کہ انکے سینٹرز کو خریدا گیا ہے اور انہوں نے خفیہ بیلٹنگ میں اپنے کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چئیرمین سینٹ کے حق میں ووٹ دیا ہے!

قصہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے بلوچ رہنما صادق سنجرانی کو سینٹ کے لیے منتخب کیا اور وہ کامیاب ہو گیا۔

صادق سنجرانی

قراردادِ عدم اعتماد اپوزیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی کہ صادق سنجرانی اپنے عہدے پر رہنے کے قابل نہیں اور انکو فی الفور مستعفی ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ صادق سنجرانی کو لانے میں پی پی پی کا بہت اہم کردار ہے اور جب بلاول زرداری نے اپنی ایک ٹویٹ میں اپنی خوشی کا اظہار یوں کیا:

یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی پی ٹٰی آئی نہ تین میں تھی نہ تیرہ میں، اور اس ٹویٹ کا نشانہ اس وقت کی اصل اپوزیشن مسلم لیگ ن تھی! ضیا کا اوپننگ بیٹسمین نوازشریف تھا۔ پی پی پی اور نون لیگ اس یقین کے دھارے پر بہتے چلے گئے کہ جولائی میں جو انتخابات آ رہے ہیں وہ انہی میں سے کوئی جیتے گا۔ مگر انتخابات میں دونوں جماعتوں کو بدتر شکست ہوئی اور پاکستان تحریک انصاف جیت گئی۔ نئی حکومت وجود میں آئی اور اسکے ساتھ نئے اصول۔

سینٹ میں بھی تبدیلی رونما ہوئی مگر صادق سنجرانی کو چئیرمین رکھا گیا۔ چونکہ اب کی بار صادق سنجرانی کے لیے پی ٹی آئی متحرک رہی اور اسے منتخب کروانے میں کامیاب رہی، اور چونکہ اب اپوزیشن میں جنم جنم کی دشمن پارٹیاں پی پی پی اور نون لیگ ایک پرچم تلے جمع ہو گئی تھیں، اب صادق سنجرانی انکے لیے ناقابلِ قبول ہو گیا۔۔۔۔

صادق سنجرانی کی جگہ اپوزیشن نے حاصل بزنجو کو منتخب کیا، جسکو کامیابی کے لیے 53 ووٹ درکار تھے اور اسے خود ساٹھ سے زیادہ کی توقع تھی۔

پوزیشن

سو سینٹ میں اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی اور انہیں کامل یقین تھا کہ وہ سو فیصد کامیاب ہونگے۔ کیونکہ سینٹ میں انکی سیٹیں زیادہ تھیں۔ سینٹ میں پارٹیوں کی سیٹوں کی صورتحال کچھ یوں ہے:

Senate Voting and Randi Rona

چونسٹھ ووٹ کے ساتھ اپوزیشن مضبوط تھی۔ ایک دن قبل ان تمام سینیٹرز کے لیے پرتکلف عشائیہ دیا گیا جس میں تمام کے تمام چونسٹھ سینٹر موجود تھے اور دعوت اڑائی۔ مگر ووٹنگ کے دن ان میں سے چودہ غائب رہے اور ووٹ کاسٹ کرنے تک نہ آئے۔ باقی کے پچاس میں سے پانچ کے ووٹ برخاست ہو گئے اور باقی میں سے کچھ نے صادق سنجرانی کے حق میں ووٹ ڈال دیا۔ یوں صادق سنجرانی کو 50 ووٹ سے کامیابی ہو حاصل ہو گئی۔

شکست کے بعد اب رنڈی رونا یہ پڑا ہوا ہے کہ وہ چودہ افراد کون تھے جو دعوتیں کھاتے رہے مگر مو قع پر بغاوت کر گئے؟ رنڈی رونا یہ تھا کہ سینٹ کے انتخابات کے لیے جو خفیہ بیلٹنگ ہوتی ہے وہ نہیں ہونی چاہیے تھی اور اس میں اپوزیشن کے سینٹرز کو خریدا گیا ہے۔ رنڈی رونا یہ ہے کہ ہارس ٹریڈینگ، ضمیروں کی خریداری ہوئی ہے۔۔۔۔

میراتبصرہ

اس سارے ناٹک پر میرا تبصرہ یہ ہے! کہ اپوزیشن جو اس وقت بہت بری شکست سے دوچار تھی، اسے ہر اس مقام پر شکست ہو رہی تھی! جس میں وہ ہاتھ ڈالتی تھی۔! جو بھی حربہ استعمال کیا جا رھا تھا وہ انکے خلاف کام کر رھا تھا۔! جب سے نئی حکومت قائم ہوئی ہے! تب سے اپوزیشن نے ہر ممکنہ کوشش کی کہ ہر معاملے میں تاخیر پیدا کی جائے۔! پارلیمنٹ کے اجلاس میں بلوے کیے گئے، اجلاسوں میں ہنگامے کیے گئے، ہلڑ بازیاں کی گئی !اور یہانتک کہ ملا فضل الرحمن کے بیٹے کی سرپرستی میں نمازِ فتنہ بھی پڑھی گئی جس سے اجلاس میں تاخیری پیدا کی جائے۔ 

پارلیمنٹ کے باہر مریم صفدر اور بلاول زرداری کی قیادت میں تابڑ توڑ ٹویٹ اور جلسے کئے گئے! کہ کسی طرح حکومت کی نظم و نسق کو سبوتاژ کیا جائے!۔ اس سارے ناٹک کا محاصل “ابو بچاؤ مہم” ہے جس میں ایک طرف شریفی اور ایک طرف زرداری کام کر رہے ہیں۔ مگر حکومت بضد ہے کہ کسی بھی قسم کی این آر او نہیں دی جائیگی۔

جب سب طرف سے ناکامی انکے سامنے ہے تو یہ سینٹ کا ڈرامہ ایک ایسا ڈرامہ تھا جس کی کامیابی انکے لیے ایک نئی امید پیدا کر سکتی تھی۔ مگر اس میں بھی انکو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

طریقہ

رھی بات یہ کہ ووٹنگ کا طریقہ کیا تھا!، تو سب سے پہلے اپوزیشن کو آج اعتراز ہے! کہ خفیہ بیلٹنگ نہیں ہونی چاہیے تو یہ تو عمران خان نے کئی سال پہلے ھی کہہ دیا تھا! کہ خفیہ ووٹ نہیں ہونا چاہیے! مگر چونکہ اس وقت یہ سب انکے اپنے حق میں جاتا تھا وہ اس وقت قابلِ قبول تھا۔

یہ کہ انکے لوگوں نے عین موقع پر آ کر اپنا “ضمیر بدل لیا” تو سب سے پہلے تو آپ جمہوریت کا مفہوم سمجھیں کہ جمہوریت کہتے کسے ہیں؟! جمہوریت میں جب بھی کسی بات پر فیصلہ درکار ہوتا ہے! وہاں پر ہر بندہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیتا ہے،! وہ اپنی پارٹٰی کا محکوم نہیں ہوتا۔ !اگر آپ نے اپنی پارٹی کے حکم پر ہی ووٹ ڈالتا ہے !تو اسے جمہوریت نہیں کہتے! وہ پارٹی ازم ہے۔ ووٹ ہمیشہ اپنے ضمیر کے مطابق اپنے ملک اور معاشرے کو مد نظر رکھ کر دیا جاتا ہے۔

اختلافات

دوسری بات یہ ہے کہ حاصل بزنجو کے حق میں کچھ بلوچی سینٹرز ہرگز ہرگز نہیں تھے! لہذا وہ اسے کبھی ووٹ نہیں دیتے،! اس میں مذہبی اور نظریاتی تفاوت بہت زیادہ تھا! کہ وہ بزنجو کو ہرگز قبول نہیں کرتے تھے۔

دوسری جانب نون لیگ کے ایم این اے کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی حکومت سے رابطہ کر چکی ہے! اور کچھ نے باقاعدہ طور پر نون لیگ چھوڑ بھی دی ہے۔! یہ دراصل پیغام ہے کہ نون لیگ کے لوگ سخت تذبذب کا شکار ہیں! کہ انکا مستقبل کیا ہو گا؟ کیونکہ نون لیگ کے شہبازشریف اور مریم صفدر میں شدید اختلاف پائے جاتے ہیں۔

شہبازشریف صدر ہونے کے باوجود مکمل طور پر لاچار ہے! اور اسکی ایک بھی نہیں چلتی۔ مریم جو بھی کرتی ہے اس کے اپنے گلے کو پڑ جاتا ہے۔! اس نے اپنے باپ کی جوب بھی سیاست تھی اسکو تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔! یہی ٹوٹ پھوٹ پی پی پی میں ہے کہ انکے بچونگڑے جیسے لیڈرز جو ان پر مسلط کر دئیے گئے ہیں ان میں کوئی قابلیت نہیں اور وہ صرف اور صرف ابا بچاؤ مہم پر کام کر رہے ہیں۔

رنڈی رونا

جبکہ یہ رونا کہ ضمیروں کی خریدوفروخت ہوئی ہے! تو پہلی بات تو یہ کہ میں اسکو ماننے سے انکار کرتا ہوں۔! دوسری بات اگر ہوئی بھی ہے تو کونسی نئی بات ہے؟! کیا ہم نہیں جانتے کہ نون لیگ کی بنیاد ہی ضمیروں کی خریدوفروخت پر ہے! چھانگا مانگا سے لیکر اسلام آباد کے ہوٹلز اور مری کے ریسٹ ہاؤسز۔۔۔! ہم سب جانتے ہیں۔۔ پیپلزپارٹی کا اپنا ضمیر کوئی صاف نہیں تو اب کیا تکلیف ہے؟؟؟؟! جو تم لوگوں نے بویا ہے وہی کاٹ رہے ہو۔ 

پاکستان میں شاید کسی کے پاس جمہوریت کو سمجھنے کی سوچ ہی نہیں۔! پہلی بار ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان کے الیکشن فئیر تھے،! اسے بھی اس قوم کی منافق اپوزیشن نے اپنے مفاد کے لیے مشکوک بنا دیا،! پہلی بار شاید جمہوری تقاضے پورے کرتے ہوئے سینٹ میں الیکشن ہوئے انہیں بھی مشکوک بنا دیا گیا۔! یہ دراصل نون لیگ اور پی پی پی کی سیاست ہے! کہ جب ہارو باتوں کو مشکوک بنا دو، حقیقت یہ ہے کہ دونوں پارٹیاں اپنی موت مرنے کے قریب ہیں۔

Sadaq Sanjrani, Hasil Bizinjo, Pakistan Senate Election

بقلم: مسعودؔ – کوپن ہیگن 3 اگست 2019

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment