Current Affairs Politics

Barishein Aur Saazishein

Barishein Aur Saazishein

بارشیں اور سازشیں

Barishein Aur Saazishein

بارشیں

ماہرِ علم کی وارننگ ہے! کہ اگر کراچی کے سمندر میں سونامی آئی تو کراچی صضحہ ہستی سے مٹ سکتا ہے۔

اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو! مگر مون سون کی حالیہ بارشوں نے اس وارننگ کی سچائی کو بیان کر دیا ہے۔

پچاس سے ساٹھ ملی میٹر کی بارش نے کراچی کا بیڑا غرق کر دیا ہے! اور بیشتر علاقے میں اسقدر تباھی مچائی ہے کہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

اسکی کچھ جھلکیاں اس ویڈیو میں دیکھیے۔۔۔

کئی مقامات پر سڑکوں میں گھڑے پڑ گئے اور کئی ٹرانسفارمرز ٹرپ کر گئے۔

کئی افراد کو بجلی کے کرنٹ لگنے سے جان بحق ہو گئے !جس میں دو چھوٹی عمر کے بھائی بھی شامل ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دو روز پہلے ایک بیان دیا! اور اسکے بعد ایسے غائب ہوئے کہ کسی کے جانی یا مالی نقصان کی رتی برابر پروا نہیں کی۔

پروا کرتے بھی کیوں؟ تمام کی تمام اپوزیشن ایک عالیشان محل میں پچھلے دو روز سے عالیشان کھانے کھانے میں مصروف ہیں! اور ساتھ اس بات پر غور و فکر کی جا رہی ہے !کہ احتساب میں جو انکی چکی پیسی جا رہی ہے اس سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔! کس طرح حکومتِ وقت کا تختہ الٹا جائے اور کیا کیا جائے۔

دعوتیں

اوپر کراچی کے کل اور آج کے حالات ملاحظہ کیجیے اور اب اس تصویر کو دیکھیے:

Barishein Aur Saazishein

یہ وہ اپوزیشن ہے جو کہتی ہے! کہ پاکستان غیر محفوظ ہاتھوں میں ہے، جمہوریت کو نقسان پہنچا ہے،! ملکی حالات بدتری کی جانب جا رھے ہیں،! مہنگائی عروج پر ہے اور ہم لوگ ہیں جو پچھلے کم و بیش 45 سالوں سے اپنے اپننے علاقوں پر برجمان ہیں! اور جنکی حالت پچاس ملی میٹر بارش کی تباھی بتا وہی ہے۔! یہ اپوزیشن اس ملک کو چلانا چاھتی جو جسے تباھی کے اس مقام پر یہی لائے ہیں: اب فرق صرف اتنا ہے کہ احتساب کا ڈاندا زوروں پر ہے! یہ وہ سب لوگ ہیں جنکے خلاف ایک عمران خان کھڑا ہے!

کراچی کے کئی ایک گھروں میں تباھی ہوئی!، انکا ذریعہ معاش تباہ ہوئے کئی افراد لقمہ اجل بنے،! انکو گھروں میں قہرام مچا! اور یہ پاکستان کا ناسور ترین، کرپٹ ترین، بدمعاشیہ طبقہ عالیشان کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں! اور پلاننگ کر رہے ہیں کہ کس طرح اس ملک کا نظام درھم برہم کیا جائے! تاکہ انکی کرپشن کی کمائی بچ سکے!

آخری مہرہ

اپوزیشن کے پاس اب ایک آخر مہرہ باقی بچہ ہے وہ ہے ملا فضل الرحمن!

ملا نے اپنی زندگی کا آغاز پیسے لیکر اپنے ہی باپ مفتی محمود کے خلاف مخبری کرنے سے کیا!

پھر ملا نے عورت کی حکمرانی پر فتوے کسے اور! کہا کہ عورت کی حکمرانی شریعت کے خلاف ہے،! مگر پھر اسی عورت بے نظیر کے قدموں میں جا بیٹھا۔

پھر بدلتی ہوئی حکومتوں کے ساتھ کھیر کھاتا رھا۔

جب زرداری کے حکومت آئی تو اس کے خلاف خفیہ سازش کی۔! یہاں تک کہ امریکہ کے اسوقت کی سفارتکار این پیٹرسن کو عشائیہ پر مودعو کیا! اور اپنی دلی خواہش ظاہر کی کہ ملا امریکہ کے لیے ہر قسم کا کام کرنے کو تیار ہے! اسے فقط ایک بار وزیراعظم بنا دیا جائے۔! جب اسکی وہاں بھی دال نہ گلی تو کشمیر کمیٹی کی صدارت پر “اکتفا” کر للیا۔

ملا نے اس بات سے ہمیشہ انکار کیا،! مگر کچھ دن پہلے ایک ٹی وی پروگرام میں اکسا اظہار کر ہی لیا مگر یہ کہہ کر بات ٹال دی! کہ “آپ ماضی کی باتوں کو ٹٹول کر کیا لینا چاھتی ہیں”

سلیم صافی کے ایک پروگرام میں اس بات کا بھی اظہار کیا کہ ختمِ نبوت میں ترمیم کی سازش میں نون لیگ ملوث تھی۔

لگژری لائف

ملا نے دس سال تک کشمیر کمیٹی کے مزے لوٹے،! اسلام آباد کے انتہائی محفوظ علاقے میں وزیر انکلوژر میں زندگی گزاری۔! بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کیا مگر ایک بھی دن، ایک بھی لمحہ ایسا نہ تھا جب اس نے کشمیر کے ایشو پر بات کی ہو!

بلکہ ایک پروگرام میں ملا نے کشمیر میں ہندوستانی قتل و عام پر زور دار قہقہہ لگا کر کہا: تو میں کیا کروں؟ حملہ کر دوں؟

اسلام کی نسبت کوئی ایک ایسا عمل دفتر میں نہیں! جس پر ایک پاکستانی ناز کر سکے! کہ یہ کام فضل الرحمن نے کیا ہے۔ کہنے کی حد تک ہی ہو کہ بندہ کہے! کہ یہ اسلام کی خدمت ملا فضل سے وابستہ ہے، نہیں ملے گا۔! کبھی کسی تقریر میں قائدِ اعظم کی نسبت کوئی ایک تعریفی جملہ نہیں کہا۔

انتخابات میں عوام نے ملا کو نفرت سے دھتکار دیا! اور ہر حلقے میں بری طرح ناکام ہوا ہو کر پہلی بار پارلیمان سے باھر نکلا۔

نئی حکومت نے وزارتوں سے فارغ کر دیا،! لگذری زندگی سے محروم کر دیا اور احتساب کا ڈانڈا دکھایا !تو سب سے پہلی کوشش کی کہ کسی طرح تمام تر اپوزیشن کو اکٹھا کیا جائے! اور اسلام آباد پر یلغار بول دی جائے۔ مگر اپوزیشن نہ مانی اور ناکامی ملی۔

پھر اپنے بیٹے کو جو الیکش میں کامیاب رھا،! ہر ممکن کوشش کی کہ وہ پالیمان کا اسپیکر بن جائے مگر ناکام رھا۔

پھر طرح طرح کی سازشوں کی جال بنے !مگر کہیں شنوائی نہ ہوئی تو یہ بیان داغ دیا کہ اگر حکومت ڈھیل دکھائے تو ڈیل ہو سکتی ہے۔

حکومت نے رتی برابر ھڈی نہ ڈالی۔

اسلام یا اسلام آباد

اور اب ایک آخری حربے کے طور پر اپوزیشن کے اکسانے! پر اسلام کے نام پر مدرسوں کے طلبا کا برین واش کیا! اور انہیں اب اسلام آباد پر یلغار پر اکسانے جا رھا ہے۔

اگر تو ملا کے پاس ایک بھی معقول جواز ہو! کہ ہاں جی اس وجہ سے اسکا “بغاوت” پر اکسانا بنتا ہے تو بندہ اسکے حق میں بات کرے۔

عمران خان نے 2014 میں جو دھرنہ دیا تھا اسکی ایک وجہ تھی۔! اس نے کہا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے! صرف چار حلقے کھول کر دوبارہ سے گنتی کراوئی جائے !مگر اسکی بات نہ مانی گئی۔ اگر ملا فضل کو یہ ملال ہے کہ اسکے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے! تو اس پر کمیشن بنانے کا فیصلہ حکومت نے پہلے دن ہی سے کر دیا تھا!، مگر اپوزیشن اس پر بھی کبھی متفق نہیں ہوئی۔

اگر مہنگائی کی بات ہے تو مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے، اس وقت چونکہ تم ان حکومتوں کا ساتھ تھے تمہہیں مہنگائی کی پروہ تک نہ تھی؟ اور مجھے بتاؤ کہ اسلام کی وہ کون سی شک ہے جس میں مہنگائی پر سلطنت میں تصادم کیا جائے؟ جبکہ تم جانتے ہو کہ مہنگائی کہ وجہ موجودہ حکومت ہے ہی نہیں!

یہاں پر یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ وہی ملا ہے جو عمران خان کے دھرنوں کی نسبت کہا کرتا تھا کہ جلسے دن کی روشنی میں ہوتے ہیں راتوں کو مجرے ہوتے ہیں، اور آج یہی ملا اپوزیشن کے انہیں جلسوں میں شریک ہے جو راتوں کو ہو رہے ہیں!

ملا فضل کو ایک رتی برابر اسلام یا مسلمانوں کی پروا نہیں، اسکی دھوڑ صرف اور صرف اسلام آباد تک کی ہے! یہ ملا بدترین منافق اور غلیظ الصفت ہے جو اب اس ملک میں جو آخر کار ایک مضبوط قلعہ بننے جا رھا ہے اس میں فساد ڈالتا چاہتا ہے!

Maulana Fazal ur Rehman, Pakistan Opposition, Pakistan Tehreek e Insaaf, Imran Khan, Karachirain, Karachi

بقلم: مسعود – کوپن ہیگن 31 جولائی

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment