Current Affairs Politics

Imran Khan Ka Dorah-e-Amerika

Imran Khan Ka Dorah-e-Amerika
WASHINGTON, DC - JULY 22: U.S. President Donald Trump and the Prime Minister of the Islamic Republic of Pakistan, Imran Khan, speak to the media in the Oval Office at the White House on July 22, 2019 in Washington, DC. This is Khan’s first visit to Washington as Pakistan’s prime minister to discuss relations with the United States. President Trump also spoke about Iran and the Mueller Report. (Photo by Mark Wilson/Getty Images)

عمران خان کا دورۂ امریکہ

Imran Khan Ka Dorah-e-Amerika

وزیراعظم عمران خان انتخابات جیتنے کے بعد پہلی بار امریکہ کے دورے پر گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کو سرکاری دعوت پر مدعو کیا تھا۔

دورہ

تین روزہ سرکاری دورہ ہفتہ 20 جولائی کو شروع ہوا! اور وزیر اعظم کے ہمرہ وزیرہ خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر برائے تجارت رزاق داؤد،! مشیر برائے معیشت حفیظ پاشا کے ساتھ ساتھ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی چیف فیض حمید اور آئی ایس پر آر میجر جنرل آصف غفور بھی شامل تھے۔

پہلی بار پاکستان کا یہ سرکاری دورہ کسی dedicated ہوائی جہاز سے کیا گیا! بلکہ عمران خان اور اسکی انتظامیہ عام مسافروں کی طرح کمرشل جہاز سے دوحا پہنچے! اور وہاں سے قطر ائرویز سے واشنگٹن پہنچے۔

واشنگٹن میں عام سواری سے پاکستان ہاؤس (پاکستان ایمبسی) پہنچے اور تین دن وہیں قیام کیا۔

اس طرح عمران خان نے سادگی کا جو عہد کیا تھا اسے ایک بار پھر عملاً کر دکھایا۔

جلسہ

عمران خان کے دورہ امریکہ کہ خبر سنتے ہی پاکستانی کمیونتی جو امریکہ میں آباد تھی! وہ ایک جلسہ کی طلبگار ہوئی اور سینٹر فیصل جاوید، زلفی بخاری اور دسرے افراد کی انتھک محنت سے واشنگٹن کے کیپٹل ون ایرینا،! جسکی capacity بیس ہزار افراد پر مشتمل ہے کھچا کچ بھر دیا! اور پاکستان زندہ باد اور پاک سرزمین شاد باد سے گونچ اٹھا۔

Imran Khan Ka Dorah-e-Amerika

اس ارینا میں کسی بھی ملک سے آئے ہوئے! کسی بھی لیڈر کا یہ سب سے بڑا سیاسی جلسہ تھا۔! اس قدر جوش و خروش بہت ہی کم دیکھنے میں آتا ہے! اور اس سے خان صاحب کے دھرنوں کے دنوں کی یاد تازہ ہو گئی۔! اور خان صاحب نے بھی اپنی تقریر میں دھرنوں کی کمی نہ کی۔! پاکستان میں کچھ لوگ تنقید کرنے لگے کہ انہیں ایسی تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی، مگر میرا خیال ہے کہ خان نے وہی کہا جو وہاں کے لوگ اس وقت سننا چاہتے تھے۔! اور خان نے ایک بار پھر بہت ہی شفاف پیغام دیا کہ وہ احتساب کے عمل کو کبھی نہیں روکیں گے۔

تقریر کے اختتام پر خان نے اپنی قوم سے وہی وعدہ کیا! جو 1996 میں پہلی بار تقریر میں کیا تھا: “میں اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکنے نہیں دونگا”۔

ملاقات

دوسرے دن عمران کان کی ملاقات امریکی صدر ٹرمپ سے تھی۔! وائٹ ہاؤس کے صدر دروازے پر ٹرمپ نے عمران خان کو موصول کیا اور گرمجوشی سے ہاتھ ملا۔

صحافیوں سے ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے پہلا بم گرایا!

ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ کچھ ہفتے پہلے مجھے مودی نے ملاقات میں کہا! کہ اس مسئلے کا حل نکالنے میں مدد کرو، میں نے کہا کونسا مسئلہ تو کہنے لگا کشمیر کا۔

پھر اگے کہنا لگا کہ اگر عمران خان چاھے تو میں facilitator کا کردار ادا کر سکتا ہوں۔

Imran Khan Ka Dorah-e-Amerika

جلن

یہ جملہ ہندوستاننی میڈیا اور پارلیمنٹ میں انتہاپسند ہندوؤں کی انا پر شدید ترین چوٹ ثابت ہوا! اور انہوں نے میڈیا میں اور پارلیمنٹ مییں ایک طوفانِ بدتمیزی پھیلا دیا۔! اور ٹرمپ کو جھوٹا اور مودی کو لائن حاضر ہو کر اسکا جواب دینے کا مطالبہ کر دیا۔

ٹرمپ کی بات پر عمران خان نے انتہائی منجھے! اور تجربہ کار سیاستدان کی طرح انتہائی خوبصورت انداز میں موقع اور الفاط کو پکڑا! اور صرف اتنا کہا کہ “اگر آپ یہ مسئلہ حل کروا دیں تو لاکھوں افراد کی دعائیں لیں گے”۔

کشمیر

انتہائی معقول اور خوبصورت جواب! جس کا اثر کیا ہے؟ اب ٹرمپ جانے یا مودی۔۔۔۔ عمران خان کو اب اپنی طاقت کے ساتھ کھیلنا ہے! اور اس مسئلہ کو بار بار اجاگر کر کے ٹرمپ کو یاد دلانا ہے! تاکہ وہ اسکا کے لیے کچھ کر سکے۔! اس کی اگلی کڑی یہ ہو سکتی ہے! کہ ٹرمپ نے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی ہے! اور عمران خان نے اسے دعوت بھی دی ہے۔! جب وہ پاکستان آئے تو اسے دوبارہ اس مسئلے کی نزاکت پر باور کرائے! اور وہ قتل و غارت دکھائے جو غالباً امریکی میڈیا میں نہیں دکھائی جاتی۔! کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں دکھائے۔

یہاں پر یہ بھی بتانا بہت اہم ہے! کہ امریکی دفترِ خارجہ نے اپنی کل کے بریفنگ میں اس بات کا اعلان کیا ہے! کہ ٹرمپ اور عمران خان کے درمیان ہونے والے وعدوں پر اب کام کرنے کا وقت ہے۔

بالکل! یہی وقت ہے کہ لوہا سخت گرم ہے اور اس پر ضرب لگانی ہے تاکہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو۔

نینسی کے ساتھ انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے ایک بار پھر بہت عمدہ جواب دیا! کہ مسئلہ کشمیر میں پاکستانی عوام کی خواہشات کو نہ دیکھا جائے! بلکہ یہ مسئلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

Imran Khan Ka Dorah-e-Amerika

اب ضرورت اس بات کی بھی ہے !کہ کشمیری جو دنیا میں کہیں بھی آباد ہیں،! وہ اپنی موومنٹ تیز کر دیں کیونکہ کہ اس وقت برطانیہ میں بھی سیاسی حالات بدل گئے ہیں۔! یہی موقع ہے کہ آزادی حاصل کی جائے۔

ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو

ٹرمپ اور خان کے درمیان ملاقاتوں کو تاریخ کی سب سے کامیاب مذاکرات کہا گیا ہے۔! پہلی بار تاریخ میں امریکہ نے “ڈو مور” کی بجائے “ہیلپ اس” کا اظہار کیا ہے۔! امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا چاھتا ہے! مگر ایک ایسے انداز میں کہ پیچھے اسکے اچھے نقوش چھوڑ کر جائے۔! یہ کام انتہائی مشکل ہے۔ اگر اسکو کوئی ساتھ ملکر حل کرا سکتا ہے! تو وہ عمران خان ہے۔! اسکی وجہ یہ ہے کہ خان ایک سچا، بااصول اورکردار کا پکا لیڈر ہے۔! طالبان سے لیکر عوام تک اور امریکہ سے لیکر سعودی حکمران تک عربوں سے لیکر عجم تک اور یہاں! تک کہ برطانیہ کا جو نیا وزیراعظم بنا ہے بورس جانسن وہ بھی عمران خان کا فین ہے۔

ادھر آج ہی ترکی کے صدر رجب اردگان نے عمران خان کو فون پر اسلامی اتحاد بنانے پر غور کرنے کو کہا ہے، جس میں عمران خان کا ایک اور چاہینے والا مہاتیر محمد بھی شامل ہے۔

جبکہ چین کے ساتھ ہمارے روابط ہمیشہ اچھے رہے مگر اس بار عمران خان کی قیادت میں روس سے اچھے تعلقات کی امید بن رہی ہے۔

مرکزی کردار

سو اس وقت عمران خان ایک مرکزی روپ دھارے ہوئے ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو عمران خان کی سخت ضرورت ہے۔ یہی وقت ہے کہ عمران خان اپنی طاقت کا درست استعمال کرے اور کشمیر کو خاص طور پر سامنے رکھے۔

واپس آتے ہیں عمران خان اور ٹرمپ کی ملاقات پر جسے ساری دنیا کا پریس کامیاب ترین کہہ رھا ہے۔ مگر اس کامیابی پر بہت ساری توقعات بھی وابستہ ہو گئی ہیں۔ اور یہ بھی جھوٹ نہیں کہ امریکہ نے ہمیشہ اپنا مفاد نکال کر باقی سب پیچھے کر دیا ہے۔

عمران خان کے ساتھ ساتھ آرمی چیف باجوہ صاحب کی ملاقاتیں بھی انکے ہم منسب کے ساتھ اپنی طرز کی کامیاب ترین ملاقاتیں قرار پائی ہیں۔ باجوہ کو امریکی فوج نے 21 توپوں کی سلامی دی جو بہت کم ہوتا ہے۔ اب ان ملاقاتوں میں اندر کی کیا بات ہے؟ وہ وقت بتائے گا۔

سینٹ

عمران خان سے ملنے کے لیے امریکی سینٹ کے 80 کے قریب ارکان ایک ایسے دن جب سینیٹ کے اجلاس کی چھٹی تھی، امریکی کی مختلف ریاستوں سے آئے اور خان کی شان میں قصیدے پڑھے۔ سینٹ کی اسپیکر نینسی پیلوسی سے ون تو ون ملاقات بھی کئی گھنٹے جاری رہی جسے ایک کامبیاب ترین ملاقات کہا گیا۔

اسکے علاوہ ملاقاتیوں میں پمپئو اور دوسرے بہت سارے لوگ تھے۔ مختصر یہ اس ملاقات سے پہلے اگر یہ امید تھی کہ یہ دورہ اچھا رہے تو اسکا جواب یہ ملا کہ یہ دورہ پاکستانی توقعات سے کئی گنا اچھا ثابت ہوا۔ اب آنے والے حالات اسکی عملاً کامیابی کا تعین کریں گے۔

ایک پاکستانی ہونے کے ناطے سے یہ بات ہم بخوبی کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اس وقت مضبوط ہاتھوں میں ہے!

Imran Khan’s visits to US. Imran Khan meets Donald Trump, Washington, Pakistan Tehreek-e-Insaaf, Shah Mehmood Quraishi, Qamar Javed Bajwa.

بقلم: مسعودؔ – کوپن ہیگن 26 جولائی 2019

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment