Current Affairs Politics

Judge Arshad Malik Affadavit

.جج ارشد ملک کا بیانِ حلفی

Judge Arshad Malik Affadavit

کچھ روز پہلے مسلم لیگ نون کی مریم صفدر نے ایک تہلکہ خیز پریس کانفرنس کی،! جس میں اس جج جس نے نوازشریف کو سزا سنائی تھی،! اسکی ایک ویڈیو لیک کی!

مریم صفدر اور نون لیگ کی اس پریس کانفرنس کے دوسرے! روز بعد جج ارشد ملک نے اسکا تردیدی بیان جاری کیا۔

پاکستان سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک کو Misconduct کے ارتکاب میں ہٹا! کر لاہور ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کا حکم جاری کیا۔

آج جج ارشد ملک نے اپنا بیانِ حلفی قلم بند کرایا۔

اس بیانِ حلفی کے چند خاص خاص نکات یہ ہیں:

اہم نکات

  • سماعت کے دوران مجھ سے رابطہ، ملنے کی کوشش کی جاتی رہی
  • سماعت کے دوران انکی ٹون دھمکی آمیز ہو گئی
  • 16 سال پہلے ملتان کی ایک ویڈیو مجھے دکھائی اور بلیک میل کیا
  • ویڈیو کے بعد کہا گیا وارن کرتے ہیں تعاون کریں
  • ویڈیو دکھانے کے بعد دھمکی دی اور وہاں سے سلسلہ شروع ہوا
  • فیملی کو بتایا کہ دھمکیاں دی جارہی ہیں شدید دباؤ میں ہوں
  • فیصلے کے بعد مجھے دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا تعاون کریں
  • عمرہ کرنے گیا تو انکے لوگ وہاں پہلے سے موجود تھے
  • کہا ہمارے بتائے ہوئے جملے کہہ دیں ورنہ ویڈیو لیک کر دینگے
  • حسین نواز نے کہا یہاں یا کسی اور ملک میں سیٹ کرا دیں گے
  • جاتی امرا میں نوازشریف نے ہر طرح کی آفرز اور تعاون مانگا
  • سعودی عرب میں حسین نواز نے 25 پھر 50 کڑوڑ کی آفرز کی
  • ملتان کی نجی محفل کی 16 سال پرانی ویڈیو پتہ نہیں کیسے حاصل کی
  • ویڈیو لیک کرنے کی دھمکیاں دیں کہا گیا تعاون کریں
  • سماعت کے دوران نوازشریف، ناصر بٹ اور دیگر نے دباؤ میں رکھا

بیانِ حلفی

جج ارشد ملک کے affidavit میں نون لیگ کے پریس کانفرنس سے بڑا انکشافات موجود تھے۔! یوں جج صاحب نے ایک ایک واقعہ کو بیان کر دیا! کہ کس طرح نون لیگ نے ان کو اپروچ کیا! اور نوازشریف کی نسبت فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز میں! اپنی من مانی کے فیصلے لینے کے لیے حتمی الامکان کوشش کی!

ارشد ملک نے بتایا کہ فروری 2018 میں انہیں جب اکاؤنٹ بیلٹی کا جج مقرر کیا! تو دو افراد ناصر جنجوعہ اور مہر جیلانی نے رابطہ کیا۔! ملاقات میں ناصر جنجوعہ نے کہا !کہ اس کی خاص سفارش پر اسے جج مقرر کیا گیا ہے۔! دوسرے بندے یعنی مہر جیلانی نے کہا !کہ میں نے کہا نہیں تھا ارشد ملک کو جج بنایا جا رھا ہے۔

یہ اس وقت کی بات تھی! جب نون لیگ کی حکومت تھی۔! جولائی مین نون لیگ کی حکومت ختم ہوئی! اور عمران خان وزیراعطم بنا۔ اگست میں نوازشریف کے خلاف درجہ بالا دو کیس جج ارشد ملک کی! عدالت میں آئے۔

بلیک میل

ارشد ملک کو کئی ایک مواقع پر کئی لوگوں نے! جن کی ہمدردیاں میاں نوازشریف کے ساتھ تھیں،! اپروچ کیا، اور ڈیمانڈ، ترغیبیں اور دھمکیاں دیں! کہ میاں صاحب پر سے کیس خارج کر دوں۔

ارشد ملک کی affidavit میں بڑے بڑے کلیم کیے گئے ہیں۔! یہ کہ میاں نوازشریف نے ہر ممکنہ رقم دینے کے لیے تیار ہیں اگر انکو ان چارجز میں بری کر دیا جائے۔!  جب کیسز کے ٹرائل چل رہے تھے تو میاں صاحب نے ناصر جنجوعہ اور مہر جیلانی کو بھیجا! جو ارشد ملک کو ایک سو ملین روپے کی نسبت سے یورو دینے کو تیار ہیں!، جس میں 20 ملین روپے کے مطابق یوروز انکی گاڑی میں ابھی موجود ہیں۔

انکار کے بعد ناصر جنجوعہ کی جانب سے جسمانی نقصان کی دھمکی دی گئی۔

دسمبر کے آخری ہفتے میں دونوں کیسز کا فیصلہ ہوا! جس میں ایک میں میاں نواز شریف کو سزا سنا دی گئی !جبکہ دوسرے میں بری کر دیا گیا۔

کچھ عرصہ خاموشی کے بعد بلیک میلنگ شروع ہو گئی۔! فروری 2019 خرم یوسف اور ناصر بٹ سے ملاقات ہوئی !جس میں ناصر بٹ نے پوچھا کہ کیا اپ کو ملتان ویڈیو دکھائی گئی ہے۔! ارشد ملک کے کہنے پر کہ میں ایسے کسی ویڈیو کو نہیں جانتا۔ جس پر ناصر بٹ نے کہا آپ کو چند دن تک دکھا دی جائے گی۔

ویڈیو

کچھ دن بعد ارشد ملک کی ملاقات ایک پرانے دوست میاں طارق سے ہوئی۔!

میاں طارق نے ارشد ملک کو ایک غیر اخلاقی ویڈیو دکھائی کہ یہ تم ہو۔! جس پر ارشد ملک سخت شرمندہ ہوا۔!

اسکے بعد ناصر بٹ اور ناصر جنجوعہ نے ارشد ملک کو اس ویڈیو کو عام کرنے پر بلیک میل کرنا شروع کر دیا کہ میاں نوازشریف کی اعانت کی جائے۔! چونکہ ایک کیس میں فیصلہ نوازشریف کے خلاف لکھا جا چکا تھا! اب ڈیمانڈ یہ تھی کہ ارشد ملک ایک ویڈیو میسج میں یہ کہہ ہے! کہ یہ فیصلہ اس نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے صرف اور صرف آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کے کہنتے پر لکھا ہے۔! 

اس ضمن میں اپریل 2019 میں ارشد ملک کو میاں نوازشریف سے ملانے جاتی امرا لے جایا گیا جہاں پر نوازشریف سے ملاقات ہوئی۔ میاں صاحب ارشد ملک سے دوٹوک الفاظ میں سننا چاہتے تھے کہ انکے خلاف فیصلہ آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کے حکم پر دیا گیا۔ جب ارشد ملک نے کہا کہ میاں صاحب آپ کے خلاف فیصلہ بہترین ثبوت پر کیا گیا ہے جس پر میاں صاحب برہم ہوئے۔

یہاں پر یہ بات یاد رکھیں کہ میاں نواز کی جیل میں طبیعت خراب ہو گئی تھی اور انہیں علاج پر چھ ہفتے کی ضمانت پر رہا کیا گیا تھا یہ ان دنوں کی بات ہے۔

ناصر بٹ کے مسلسل پریشر اور بلیک میلینگ پر ارشد ملک نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ جو اپیل مسلم لیگ کے وکلا نے تیار کی ہے اس پر اپنے کامنٹ دے دیں۔ اس لیے ناصر بٹ کی ملاقات ارشد ملک سے ہوئی۔ دوران ملاقات ناصر جنجوعہ نے ارشد ملک کی اواز ریکارڈ کر لی۔

مزید رشورتیں

اسکے بعد چھ جولائی کو یہ ریکارڈڈ آڈیو اور کسی اور ویڈیو سے مکس کر کے نون لیگ نے ایک ویڈیو تیار کی جو اوپر لنک میں دی گئی ہے۔

مئی کے آخری دنوں میں ارشد ملک اپنی فیملی کے ساتھ عمرہ ادا کرنے سعودی عرب گیا جہاں پر نون لیگ کے لوگ پہلے ہی سے موجود تھے۔ ان میں ناصر بٹ بھی موجود تھا اس نے ارشد ملک کی ملاقات نوازشریف کے بیٹے حسین نواز سے مسجد نبوی کے سامنے کروائی جس میں حسین نواز نے جارحانہ انداز میں 500 ملین روپے کی رشوت آفر کی، ساتھ ہی برطانیہ، کینڈا یا کسی بھی ملک میں سیٹ کروانے اور جاب تک دلوانے کا وعدہ کیا۔ اسکے بدلے می ارشد ملک یہ بیان دیدے کہ میرا ضمیر اس بات کو قبول نہیں کر رھا کہ میں نے میاں صاحب کو غلط سزا دی ہے۔

پاکستان واپسی پر ارشد ملک کومسلسل دھمکیاں، نتائج بھگتنے کی دھمکیاں اور آفر قبول کر لینے کی باتیں کی!

آر یا پار؟ 

اب صورتحال یہ ہے کہ نون لیگ نے اپنے لیے بہت گہرا گڑھا کھود لیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ خود اس کمیٹی کو لیڈ کریں گے جو اس ویڈیو اسکینڈل کا تجزیہ کرے گی۔ 

نون لیگ کے پاس کیا بچا ہے؟ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ویڈیو بالکل درست اور جائز ہیں تو انہیں یہ ویڈیو عدالت میں پیش کرنے ہونگے۔ عدالت ان ویڈیو میں ملوث ہر فرد پر جرح کر سکتی ہے اور ان ویڈیو کی فرنزک بھی کروا سکتی ہے۔ جس کے دو ہی نتائج نکل سکتے ہیں:

اول یا تو ویڈیو اصل ہیں تو پھر جج ارشد ملک پر کیس بنتا ہے، اور ساتھ ہی میاں نوازشریف کو بری کر کے دونوں کیس دوبارہ سے سنے جا سکتے ہیں

دوم اگر ویڈیو جعلی اور دھوکہ دھی پر مبنی ہیں جیسا کہ اس affidavit سے ثابت ہو رھا ہے کہ ہیں، تو پھر نون لیگ بہت بری طرح پھنس گئی ہے۔ اس میں مریم صفدر، شہبازشریف اور دوسرے بہت سارے نون لیگی لیڈران جیل میں جا سکتے ہیں۔

Judge Arshad Malik, NAB, Maryam Nawaz Sharif, Affadavit, Pakistan Video Scandal

بقلم: مسعودؔ  – کوپن ہیگن 14 جولائی 2019

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment