Current Affairs Politics

Mulk Ki Taqdeer

Mulk Ki Taqdeer

تیرے ہاتھ میں تیرے ملک کی تقدیر ہے

Mulk Ki Taqdeer

تبدیلی

قطر کے امیر 22 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پاکستان آ رہے ہیں۔

روس کے صدر ولادیمیرپوٹن نے بشکک میں وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ خوشگوار ماحول میں وقت گزارا اور شکوہ کیا کہ ماضی کے پاکستانی حکومتوں نے روس کے ساتھ تلخ تعلقات رکھے ہیں۔ بشکک میں بھارتی وزیرِ اعظم مودی اور افغانی صدر بھی موجود تھے مگر انکو بحروفِ عام گھاس تک نہ ڈالی گئی۔

اسکے علاوہ بہت سارے ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ساتھ ہی ملائیشیا کے صدر مہاتیر محمد نے پاکستان کو ایف اے ایف ٹی میں بلیک لسٹ ہونے سے مکمل طور پر بری کرا دیا۔

دس ماہ کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے بہت تلخ اور تند دن دیکھے ہیں، جس میں مہنگائی عروج پر رہی۔

ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور سونے کی قیمت آسمانوں سے بات کرنے لگی۔ اس پر اپوزیشن نے بہت شدید سیاست کرنے کی کوشش کی۔

عوام کو ورغلایا جاتا ہے کہ ڈالر کہاں جا پہنچا ہے! مگر یہ بتانے سے گریز کیا جاتا ہے! کہ اسکی وجہ کیا تھی؟ یہ بتانا گوارا نہیں سمجھتا جاتا ہے نون لیگ نے جعلی طور پر ڈالر کو روکنے کی کوشش کی! جو کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے تباھی کا سبب بنتا ہے! حرفِ عام میں ڈالر کے ساتھ جھوٹ بولا جاتا رہا!

الجھنیں  

اپوزیشن پارٹیوں میں سے مسلم لیگ نون اور پی پی پی سخت الجھنوں کا شکار ہیں۔! دونوں کے سربراہان اسوقت ان مقدمات میں جیل میں جو انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیے تھے،! مگر کبھی نا انکو شروع کیا نہ انکو prosecute کیا۔ اس کے برعکس عوام کو جاھل اور بیوقوف بنانے کے لیے! ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ بیان بازی کی، جبکہ اندر سے دونوں ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔

عمران حکومت نے نیب کو کل اختیار دئیے! اور نیب نے وہ مقدمات جو اس وقت ہونے چاہیے تھے ان پر کام کرنا شروع کیا اور نوازشریف اور زرداری کو جیل پہنچا دیا۔

صرف یہی نہیں بلکہ دونوں سیاسی جماعتوں کے اور بہت سارے رہنما جیل پہنچنے کی راہ پر ہیں۔  Mulk Ki Taqdeer

ان حالات میں اپوزیشن نے جب اپنی سیاسی موت کو آنکھوں میں دیکھا تو وہ فیصلہ کیا جو کبھی انکے بڑوں نے کیا تھا۔

معاہدہ

اپریل 2006 میں جب مشرف کی حکومت کمزور پڑ رہی تھی! تو نوازشریف جو مشرف سے دس سال کی ڈیل کر کے کھربوں روپے بکسوں میں بھر کر جدہ بھاگ گیا تھا،! اور بی بی بے نظیر جو پہلے ہی سے دبئی اور لندن میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رھی تھی، انہیں “عوام کے دکھ درد” کا احساس ہوا اور لندن میں بیٹھ کر انہوں نے میثاق جمہوریت کا معاہدہ کیا!

وہ میثاقِ جمہوریت جو دراصل تقسیمِ حکومت کا معاہدہ تھا،! کہ پانچ سال میں حکومت کروں گا اور پانچ سال تم! تم مجھے کچھ نہیں کہو گے میں تمہیں! اپنے دورِ حکومت میں ہم خوب پیسہ بنائیں گے! اور اپنے بیرونِ ممالک میں جائدادوں کو مضبوط کریں گے۔! اس دوران ہم عدلیہ کا ضمیرخریدیں گے اور انہیں کسی قسم کا کیس کرنے سے ناچار کر دیں گے کہ وہ خود کرپٹ ہونگے۔! آرمی کی بڑی بڑی مچھلیوں کو بھی کھانا ڈالتے رہیں گے! اور مشرف جس پر غداری کا کیس ہونا چاہیے اسے return deal دیکر خوش کر دیں گے۔!

باقی رھی عوام؟ تو عوام ہمیشہ کی طرح بے ہوشی اور جہالت میں کھوئی ہوئی ہے۔! اسکو مزید خاموش کرانے کے لیے بیوکریسی کو کرپٹ بنائیں گے اور مزے کریں گے۔ عوام کو سیاست کی کہاں سمجھ؟ Mulk Ki Taqdeer

یہ وہ میثاقِ جمہوریت تھا جس پر 2007 سے لیکر 2018 تک ایک بار پی پی پی اور ایک بار نون لیگ اقتدار پر برجمان رہی۔! 2007 سے 2017 تک – صرف دس سال میں دونوں “جمہوری” جماعتوں نے 5۔46 بلئین ڈالر کا قرضہ صرف آئی ایم ایف سے لیا۔! اسکے علاوہ جو “دوست” ممالک سے لیا اسکا کوئی شمار نہیں۔ درجہ ذیل ٹیبل میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ 2007 تک پاکستان پر کتنا قرضہ تھا۔۔۔

اگلی نسل

معاشی حالت کی تباھی و بربادی کے بعد اب جب عمران خان کی حکومت آئی ہے !اور کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوا ہے! تو ان دونوں سیاسی پارٹیوں کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔

اس ٹوٹتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیے اگلی نسل جس میں مریم صفدر اور بلاول بھٹو کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔! ابھی چند ماہ پہلے تک یہ دونوں ایک دوسرے کی تذلیل کرتے پھر رہے تھے۔! ایک دوسرے کو پرلے درجے کے کرپٹ لوگ کہہ رہے تھے! اور عوام کو اس بات پر پھدو لگا رہے تھے کہ “جو ووٹ عمران کا جائے گا وہ زرداری کو جائے گا”! یہ الفاظ مریم صفدر کے تھے۔ آج وہی مریم صفدر بلاول کو اپنے گھر میں دعوت پر بلا رہی ہے اور کبھی اسکے ہاں افطاری پر جاتی ہے۔!

ان دونوں کے درمیان ایک تیسرا فریق بھی ہے! جو ویسے تو دھوبی کے کتے کی طرح نہ گھر کا ہے! نہ گھاٹ کا، مگر فضل الرحمٰن اپوزیشن کے لیے ایک خاص مہرہ ہے! فضل الرحمٰن حکومت گرانا چاھتا ہے جبکہ بلاول اس حق میں نہیں!

اپوزیشن پوری طرح ایک پیچ پر موجود ہی نہیں، جبکہ اس دوران انہوں نے جو حکمتِ عملی اپنا لی ہے وہ یہ ہے !کہ پالیمنٹ کے اجلاس اور خاص کر جو بجٹ کے حوالے سے ہوں انکو سبوتاژ کیا جائے۔! لہٰذا اب انہوں نے پارلیمان کے ہر اجلاس پر ہنگامہ آرائی شروع کر دی ہے۔  Mulk Ki Taqdeer

دوراھا

پاکستان اسوقت دوراہے پر کھڑا ہے:! ایک طرف غیر ملکی سرمایہ داری، کرپشن پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن،! روس کیساتھ اچھے تعلقات کی امید، تعلیمی انفراسٹریکچر کی بہتری،! بڑے پیمانے پر کاروبار میں بہتری جو فی الحال اپنے ابتدائی دور میں ہے۔۔۔!

اور دوسری طرف اپوزیشن جو فقط اپنی کرپشن کو بچانے،! اپنے اوپر لگے کیسز سے جان چھڑانے کے لیے کبھی بجٹ کو ڈھال بناتے ہیں، !کبھی سیاسی انتقام کو، کبھی عوام دشمنی کو کبھی مہنگائی کو۔۔۔

مگر انکا اصل مقصد صرف اور صرف اپنے اوپرچلنے والے کیسز سے جان چھڑانا ہے!  ایک لمحہ بھر کو سوچیں !اگر اپوزیشن اپنے ارادوں میں کامیاب ہو جائیں تو کیا کوئی ملک پاکستان پر اعتبار کرے گا؟

جس ملک کا سیاسی خدوخال ہی اس قدر خستہ ہو! اس پر انوسٹ کون کریگا؟ اور ایسا ہوتا چلا آیا ہے! پاکستان میں دنیا بھر سے کم ترین انوسٹ ہوتی ہے! چین وہ واحد ملک تھا جو اپنے مفاد کے لیے پاکستان میں انوسٹ کرتا چلا آیا ہے!

اس وقت سب سے بڑا خوف کرپشن کے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا ہے! کیونکہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ پیمانہ کی انویسٹی گیشن کمیتی بنائیں گے جسکی صدارت وہ خود کریں گے!

اس ضمن میں برطانیہ سے اسحٰق ڈار جیسے مفروروں کو واپس لانے کا معاہدہ بھی ہو چکا ہے،! تو یہ وہ خوف ہیں جس سے اپوزیشن کانپ رہی ہے! اس ضمن میں اپوزیشن ہر اس چنگاڑی کو سلگانے کی کوشش کر رہی ہے !جس سے کسی قسم کی مدد کی امید ہو سکے! سوشل میڈیا پر ایک اعلیٰ پیمانے کی مہم جس میں پیسے دیکر لابیاں تیار کی گئی ہیں،! کئی ٹی وی اینکروں کو خریدا گیا ہے۔! کیونکہ یہ وقت بہت اہم ہے: خوشحالی یا وہی پرانی روش!

اسوقت فیصلہ کرنا ہے! کرپٹوں کے ساتھ چلنا ہے یا عمران خان کے ساتھ!

Pakistan Political Situation, Imran Khan, Nawaz Sharif, Maryam Nawaz, Bilawal Bhutto, Fazil ur Rehman, Corruption, Pakistan Army

بقلم: مسعودؔ


SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment