Current Affairs Politics

Siyasat, Ghadari aur Griftari

Siyasat, Ghadari aur Griftari
Siyasat, Ghadari aur Griftari

!

سیاست، غداری اور گرفتاری

Siyasat, Ghadari aur Griftari

زرداری کو نیب نے گرفتار کر لیا!

31 دسمبر 2018 کو زرداری اور فریال تالپور عدالت میں پیش ہوئے تھے! اس دن سے ہر چودہ دن بعد انکی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی جاتی رہی!

جون کے ابتدائی ہفتے میں نیب نے زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے! اور جیسے ہی 10 جون کو زرداری کی عبوری ضمانت ختم ہوئی،! اور اس میں مزید توسیع نہ کی گئی تو نیب نے زرداری کو گرفتار کر لیا!

زرداری کی گرفتاری کے دوسرے ہی دن لاہور ہائیکورٹ میں! حمزہ شریف کی ضمانت میں توسیع کی اپیل مسترد ہو گئی !اور احاطہ عدالت ہی میں اسے نیب نے گرفتار کر لیا۔

ابھی گویا یہ خبریں ہی  قوم سنبھال نہ پائی تھی! کہ چند ہی لمحات بعد خبر آئی کہ لندن میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

ان گرفتاریوں نے موجودہ اپوزیشن کو گویا جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے! اور جو ری ایکشن پاکستان میں اپوزیشن کی جانب سے ہوا !اس پر مزید جلتی کا تیل 20-2019 کے بجٹ نے لگا دی! اگر یہ کافی نہیں تھا تو اسی رات وزیر اعظم عمران خان نے رات گئے قوم سے ایک زبردست اور جلتا بلتا خطاب کیا!

Siyasat, Ghadari aur Griftari

اب مخالفین کی حالت یہ ہے کہ وہ کھولتے ہوئے تیل کی آگ میں یوں جل رہے ہیں !گویا وہ ہر اخلاقی، غیراخلاقی، شگفتہ غیرشگفتہ، اچھی بری حد کو پار کر کے موجودہ حکومت کو متزلزل کرنے کی سعی میں لگ گئی ہے۔ 

غداری

انہیں تمامتر حربوں میں پچھلے کافی عرصہ سے منظورپشین کی قیادت میں پی ایم ٹی کی غدارانہ حرکات بھی شامل ہیں! جنہیں اپوزیشن اور خاس کر نون گینگ اور پی پی پی خوب ہوا دے رہی ہے۔! پشتون تحفظ کے پیچھے غداری کی ایک بہت خطرناک موومنٹ کو ہوا دی جا رہی ہے! جسکی پیٹھ پر ہندوستانی را کا ہاتھ ہے۔ یہ درحقیقت وہی موومنٹ ہے جو ہندوستان نے ایک عرصہ پہلے شروع کی تھی! اور جس کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پھیلانا ہے۔! اس میں اب افغانستان بھی شامل ہے! اور ان تمام کو ہوا دینے کے لیے نون گینگ اور پی پی پی اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں، کیون؟

اس لیے کہ پاکستان آرمی نے پچھلے کچھ سالوں سے ان غداروں کو چن چن کر مارا ہے! اور ان کی سازشوں سے پاکستان کو صاف کرنے کی کوشش کی ہے۔! چونکہ پی پی پی اور نون گینگ کے پاس عملاً دکھانے کو پاکستانی سیاست میں کچھ نہیں، بلکہ کرپشن کی بدترین اور غلیظ ترین تاریخ انہی دونوں پارٹیوں نے لکھی ہے! اور یہی وہ کرپشن ہے جس پر موجودہ حکومت نے ان پر احتساب کا جوتے چلا دئیے ہیں،! لہٰذا اپنے کرپشن کے کاروبار کو بچانے کے لیے اور اپنے سیاسی بقا کی تگ و دو کے لیے یہ پارٹیاں ہر وہ کام کرنے کو تیار ہیں جو بدترین غداری کے ضمرے میں آتا ہے۔

مگر چونکہ انکو غداری سے کئی گنا زیادہ اپنے کرپٹ کاروبار کی فکر اور اب جب زرداری، نوازشریف، حمزہ شہباز اور عنقریب فریال تالپور اور یہاں تک خبر آ رہی ہے! کہ مولانا فضل الرحمٰن تک جیل بند ہونے والے ہیں،! تو ان کے لیے اسکو بچانا ضروری ہے۔ اسکے لیے ان پارٹیوں نے دولت کی تجوریوں کے منہ کھول دئیے ہیں! اور ایکبار پھر سے میڈیا کے ضمیر فروش صحافتی طوائفوں کو خرید لیا ہے اور وہ اب دن رات ان کرپٹ پارٹیوں کے حق مین کلمہ گو ہیں۔۔۔! ساتھ ہی سوشل میڈیا پر پراپوگنڈا سے لبریز سیل دن رات کام کر رہے ہیں۔

ان میں وہ نام نہاد لوگ بھی شامل ہیں جو آزادی خیال کے ماسک تلے قومی اداروں کے خلاف دن رات برسرِ پیکار ہیں، اور ان میں خاص کر آرمی!

Siyasat, Ghadari aur Griftari

آرمی عناد

یہ وہ ذہنی مفلوج اور کمظرف لوگ جن میں کچھ بی بی سی کے لیے بھی کام کر رہے ہیں! اور کچھ باہر سے پیسے لیکر آزادی خیال کے جھوٹ اور فراڈ کو اپنائے ہوئے ہیں،! اگر ان سے کہا جائے کہ کبھی تمہارے اندر جرا ہوئی ہے! کہ تم برٹش آرمی یا امریکن آرمی جو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی دہشتگرد ترین افواج ہیں! انکے خلاف کبھی لب گویائی کی ہے؟

 کبھی انکے آزادی خیال نے یہ سوال اٹھایا ہے! کہ اگر ٹونی بلئیر ٹی وی پر آ کر کہتا ہے کہ “ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہم نے عراق میں غلط ایکشن کیا”! تو کیا انکی فوج دہشتگرد کہلائی جانی چاہیے؟! یا ٹونی بلیئیر کو وار کرمنل قرار دیا جائے؟! ہرگز نہیں! کیونکہ انگریز انکا روحانی باپ ہے! جس پر الفاظ اٹھانا ان ناسوروں کے لیے حرف گناہ ہے! مگروہ آرمی جو دن رات اپنی جان پر کھیل کر ان سوروں کو تحفظ مہیا کرنے میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتی ہے! اس پر بھونکنا فرض سمجھتے ہیں کیونکہ حرامخوری ضمیر خرید لیتی ہے!

ان لوگوں کے لیے انتہائی شرم کا مقام ہے کہ برٹش آرمی نے کم از کم  4 دھائیوں تک آئی آر اے کے آزادی پسند لوگوں کو چن چن کر قتل کیا تھا،! جو شمالی آئرلینڈ کو انگلینڈ سے جدا کرنا چاہتے تھے،! اسی طرح اسپین میں ای ٹی اے کو چن چن کر قتل کیا گیا ہے! کہ وہ بارسلونا کے صوبےکاٹالونیاکو اسپن سے الگ کرنا چاہتے ہیں.!

اسی طرح دنیا کے بہت سارے ممالک میں جس میں ہندوستان کی مثال سب سے اہم ہے! کہ وہ کس طرح کشمیر میں مسلمانوں کو انکے جائز حق پر قتل کر رہے ہیں،! مگر یہ غلیظ اور بدکار صحافی طرح کے ناسوروں نے کبھی ان کے خلاف ایک بھی جملہ لکھا ہے؟ کبھی لکھا ہے کہ انسانیت کے حقوق پامال ہو رہے ہیں؟ نہیں کیونکہ وہاں پر بھونکنے سے تنخواہ نہیں ملتی!

میں انہیں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ یورپ میں اور امریکہ میں قانوناً جرم ہے کہ آپ کسی بھی ملکی انٹرسٹ کے خلاف بات نہیں کر سکتے! اسکی سزا جیل ہے! امریکہ میں فوج کے خلاف بولنا نیشنل اسکیورٹی کے خلاف سمجھا جاتا ہے! مگر ہمارے ہاں بھونکنے والے خود کو تمامتر انسانی حقوق کے علمبردار سمجھتے ہوئے نیشنل سیکیورٹی کی بھی پروا نہیں رکھتے – مگر بات سیاسی مفادات ہیں جن سے کرپشن بچانا مقصود ہے!

کبھی میں سوچتا ہوں کہ کاش پاکستان میں سچ کی خلافت قائم ہو اور یہ سب بھونکنے والوں پر جہاد فرض کیا جائے اور انہیں کشمیر، فلسطین یا برما کے محاذ پر بھیجا جائے!

Siyasat, Ghadari aur Griftari

منفافق سیاست

مگر جب نون گینگ اور پی پی پی جیسی سیاسی پارٹیاں ہی باہر سے پیسے لیکر اس نفرت کو ہوا دینے میں مصروف ہوں! تو پھر ضمیر فروش صحافی اور سوشل میڈیا پر بکاؤ لوگ آسانی سے مل جاتے ہیں۔

یہ وہ منافق اور ذہنی مفلوج لوگ ہیں! جو ہمیشہ سے بھونک رہے ہیں !کہ پاکستان میں انصاف نہیں ملتا، عدالتیں ایک مافیا ہیں،! انصاف پر کسی کو یقین نہیں مگر جیسے ہی ججز کا احتساب شروع کیا جاتا ہے! یہی لوگ ان کے لیے بھونکنا شروع کر دیتے ہیں کیوں؟! اس لیے کہ یہ ججز اس کرپشن اور لاقانونی میں برابر کے شریک تھے! جو نون گینگ اور پی پی پی نے روا رکھی اور جنکی وجہ سے درجہ بالا گرفتاریاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔! ظاہری بات ہے جب احتساب کا چکہ چلتا ہے اس میں بہت سارے لوگ پسے جاتے ہیں۔ 

اپوزیشن یہ بات جھاڑتے ہیں کہ ہمیں احتساب سے خوف نہیں مگر احتساب سب کا ہونا چاہیے۔! سب سے پہلی بات اس ضمن میں یہ کہی جانی چاہیے کہ پچھلے 10 سال سے تم لوگ حکومت میں رہے! اور تقریباً فل پاوور رکھتے تھے، پر تم لوگوں نے کسی ایک انسان کا احتساب نہیں کیا نہ کرایا، کیوں؟! ظاہری سے بات ہے کہ کرپت کبھی کرپٹ کا احتساب نہیں کرتا – صرف خانہ پری کرتا ہے، وہ ہوتی رہی۔

اب جب احتساب شروع ہوا ہے تو کچھ صبر تحمل کریں،! اگر آپ کے ضمیر پاک صاف نیک پارسا ہیں تو بھر گھبراتے کیوں ہیں؟! پھر عدالتوں سے بار بار بار بار ضمانتیں کیوں لے رہے ہوِ؟! پروڈکشن آرڈر کے پیچھے کیوں چھپنے کی کوشش کر رہے ہو؟ ای سی ایل سے اپنے نام نکلوا کر باہر کیوں بھاگتے رہے ہو؟

یہاں پر یاد رکھا جائے کہ شہبازشریف نے حال ہی میں کچھ عرصہ لندن میں گزارا !جہاں پر قابلِ اعتبار اطلاعات کے مطابق اسکے بھر پور کوشش کی کہ سیاسی پناہ لے مگر نہیں ملی۔! جب چاروں چت ناکام ہو گیا تو اپنی جاھل عوام کہ یہ کہہ کر مفلوج کر دیا !کہ مجھے عوام کا دکھ واپس لے آیا! پوچھنا یہ ہے کہ اسحٰق ڈار، سلمان شہباز، حسین نواز، سلمان نواز اور دوسرے لوگ جو بھاگے ہوئے ہیں انکو قوم کا دکھ نہیں؟

پاکستانی قوم کے پاس اس سے بہتر موقع کبھی نہیں آئے گا !کہ احتساب کا جو عمل شروع ہو چکا ہے اسکو جاری رکھا جائے۔! پاکستان میں بہت گہرائی تک مافیاازم پھیلی ہوئی ہے۔ اسکو صاف کرنا بہت ضروری ہے! اور یہ جبھی ممکن ہو سکتا ہے جب سب کا احتساب کیا جاے۔ آج اگر زرداری، نوازشریف اور دوسرا کا ہو رھا ہے یہی پلیٹ فارم جس پر عمران خان کے لوگوں کا بھی احتساب ہو سکے گا۔! آج اگر احتساب کا عمل روک دیا گیا تو کبھی نہیں ہو گا!

بقلم: مسعودؔ

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment