Current Affairs

Decision Day – 2 Important Cases

Decision Day - 2 Important Cases
Supreme Court of Pakistan

Decision Day – 2 Important Cases

ایک اہم فیصلہ – ایک اہم پیش رفت

آج دو اہم واقعات ہوئے۔

عدالتی فیصلے

ایک تو نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس کیس میں سات سال کی قید بامشقت سنائی گئی،

اور دوسرا جعلی اکاؤنٹ کے اسکینڈل میں ملوث آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو 31 دسمبر کو عدالت میں جوابدہی کے لیے بلایا گیا!

میں ان پر تبصرہ بعد میں کرونگا پہلے آئیے سنتے ہیں کہ ان دونوں سیاسی پارٹیوں نے کس طرح رسپونس دیا ہے۔

طوطا مینا کی کہانی

پہلے لے لیتے ہیں قمرزمان کائرہ کو، موصوف فرماتے ہیں کہ یہ طوطا مینا کی کہانی ہے ہم اسے نہیں مانتے۔ مزید فرمایا کہ کہاں لاکھوں کی منی لانڈرنگ کا الزام کہاں ناشتے کے بل اور صدقے کے بکروں کے  قصے، ماضی میں لگائے گئے الزام عدالتوں ہی نے ختم کیے۔۔

پی پی پی کے دوسرے ایک صاحب مصطفیٰ نواز صاحب بولے کہ یہ مخالفین کو ختم کرنے کی حکومت کی سازش ہے اور اسکے پیچھے ایک سوچ کام کر رہی ہے،مزید کہا کہ بلاول بھٹو سے احتساب مانگا جا رہا ہے جب وہ نابالغ تھے۔۔۔

Decision Day – 2 Important Cases

ہمارامسئلہ

بدقسمتی سے پاکستان ایک ایسا ملک بن گیا ہے جہاں پر آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی زہر پی لیتے ہیں اگر اس سے آپ کو فائدہ حاصل ہو۔

یہی کام کائرہ صاحب اور انکے حمایتی کر رہے ہیں۔  ماضی کی عدالتیں کس کے زیرِ تسلط تھیں؟ نون گینگ اور پی پی پی کے۔ انہیں جب جب اپنے حق میں فیصلے چاھیے ہوتے وہ ایک ٹیلیفون کال پر اپنی من پسند کے فیصلے لکھواتے رہے ہیں، ہمارے تاریخ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اگر  نوازشریف کرپٹ تھا اور اسے سزا ملی ہے تو کیا زرداری اس سے کم کرپٹ ہے؟ نہیں بلکہ اس جے آئی ٹی سے علم پڑتا ہے کہ نوازشریف تو ان کے سامنے بچہ تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک فیس بک گروپ میں ایک بزرگ نے ایک بات کہی تھی جو پیپلزپارٹی کے حمایتی تھےکہ “بینظیر نے اپنی زندگی میں دو غلطیاں کی ہیں: ایک زردادری سے شادی کر کے، دوسرا زرداری کی بات مان کر” – زرداری کی وہ کونسی بات ہے جو بینظیر نہ چاہتے ہوئے مان گئی؟

وہ یہ تھی کہ اگر پاکستان میں رہنا ہے اور پاکستان میں سیاست کرنی ہے تو وہی انداز اپنانا ہو گا جو نوازشریف کا ہے: یعنی الزامات، میکا کرپشن، قتل، زنا (یعنی اگر کوئی مزاحمت کرے تو انکی بچیوں کی عزت لوٹ )، اور خوب پرچار کرو کہ تم کرپٹ ہو میں نہیں۔

بے نظیر جو ایک سیاستدان باپ کی سیاستدان بیٹی تھی وہ اس سوچ کی بھینٹ چڑھ گئی اور زرداردی نے اسے مرا دیا۔

Decision Day – 2 Important Cases

گاڈ فادرز

آج زرداری اور نوازشریف میں رتی برابر فرق نہیں۔

اگر نوازشریف نے اپنے بچوں کے نام پر اس وقت کرپشن کی تھی جب وہ نابالغ تھے تو یہی کام تو زرداری نے کیا ہے۔ اس وقت تو پی پی پی والے بڑے بھڑک بھڑک کر بول رہے تھے جیسا کہ بقول گلاب بخش چانڈیو “ٹھاکر تسی تے گئیو” !

آج یہی سور اسی طرح کے جرم کے بے نقابی پر چلا اٹھے ہیں؟  میں مصطفیٰ نواز صاحب جو کہ بلاول کے نمائندے ہیں یہ بتانا چاھتا ہوں کہ سوال یہ نہیں اٹھا کہ “اس وقت کے نابالغ بلاول بھٹو کا احتساب کیا جائے” سوال یہ ہے کہ اس نابالغ کے نام پر کرپشن ہوئی ہے!

وہ کس نے کی ہے؟ وہ کرپشن ایک مجرم باپ زرداری نے اپنے نابالغ بچے کے نام پر کی ہے۔ کاش مصطفیٰ نواز جیسے پالتو شخصیات سے نکل کر پاکستان کا سوچیں! کاش کائرہ ،خورشید شاہ، گلاب بخش چانڈیو، نبیل گبول جیسے لوگ اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ انکی اوقات ہی کیا ہے؟

وہ ساری عمر سیاست میں گزاردیں، اپنی عمر کھپا دیں مگر پی پی پی میں انکی حیثیت زرداری کے پالتو کتے جیسی ہی رہے گی، جنکا کام میڈیا پر آ کر اپنے مالکان کے حقوق کے لیے بھونکنا ہے۔

یہ لوگ کبھی تصور ہی نہیں کر سکتے کہ یہ کبھی اپنی پارٹی کی قیادت سنبھالیں، ناممکن! کیونکہ ان کی جمہوریت یہ ہے کہ باپ کے بعد اسکی اولاد ہی پارٹی کی ہیڈ ہو گی چاہے کہ ابھی پیمپر میں کیوں نہ ہو!

من مانی کے فیصلے

پاکستان کی تاریخ پچھلے خاص کر 40 سالوں سے زبردست اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی، جہاں عدالتیں زرداری اور نوازشریف کے لیے ٹائلٹ پیپر سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان دونوں خاندانوں نے جی بھر کے کرپشن کی، اور اس میں ہزاروں دوسرے خاندانوں کو بھی ملوث کیا تاکہ وہ انکے سامنے زبان نہ کھول سکیں۔ کرپشن کا یہی وہ جال ہے جس نے پاکستان کی معشیت کی جڑیں کھوکھلی کی ہیں۔

بیوقوف عوام

ذرا اس ویڈیو کو دیکھیے:

اس ویڈیو ابھی صرف ابتدائی رپورٹ ہے ابھی اسکے بہت سارے مراحل پوشیدہ ہیں،  آج جب پی پی پی والے میڈیا پر آ کر بھونکتے ہیں  اور انکی بات میں عوام کا دکھ درد اور عوام کی آواز اور عوام کے حقوق کی بات کرتے ہوئے انکو شرم نہیں آتی؟

مگر شرم  بھی تو صرف انکو آتی ہے جو باضمیر ہوتے ہیں، کائرہ صاحب، خورشید شاہ صاحب اور دوسرے ایرے غٰیرے جب آ کر عوام کی بات کرتے ہیں تو ان کے منہوں پر لعنت!

اسی طرح کی باتیں ادھر لاہور کا بدمعاش، بد کماش اور کرپٹ خاندان کر رہا ہے، آج انہیں عوام یاد آ رہی ہے مگر جب لاکھوں کا برتھ ڈے کیک، لاکھوں کا کھانا کھاتے ہیں اس وقت یاد نہیں آتا کہ تھر کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں؟ ابھی تو تم لوگ دنیا میں ہو، ابھی تو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے!

پالتو

پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے یہ سب پالتو جو جب بھی منہ کھولتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ ہمارے خلاف انتقامی کاروائی کی جا رہی ہے۔

سب سے پہلے بات تو یہ کہ انتقام کون لے رہا ہے؟ کھل کر بتائیں؟ دوسری بات کہ اگر ایسا ہے تو بھی درست کہ  تم لوگوں نے پچھلے چالیس سال سے ایک دوسرے کو کھل کر لوٹنے کا موقع دیا ہے اور خود چارٹر آف ڈیموکریسی کے نام پر عوام کو پھدو لگاتے رہے ہو!

تمہاری لگامیں لمبی ضرور تھیں مگر اب وہ کھینچی جا رہی ہیں، جرم آخر جرم ہوتا ہے!

بقلم – مسعود

current affairs

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment