Current Affairs News

Trade Balance and Rupee

Trade Balance and Rupee

Trade Balance and Rupee

تجارتی بیلنس اور روپیہ

نقصان

ایک  فتنہ اٹھایا جاتا ہے! کہ پاکستان روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے بہت کمزور ہے اور اسکا سارا قصور موجودہ حکومت کو جاتا ہے۔

میں اس آرٹیکل میں پیچیدہ فنانس کی ٹرمز کو استعمال کیے! بنا یہ ثابت کرنے کی کوشش کروں گا! کہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کیوں ہے! اور ہمارے ملک کے مالی خسارے کی وجوہات کیا ہیں۔

پی ٹی آئی کی حکومت کو قومی خزانے کی جو صورتحال وراثت میں ملی! وہ اس سے جسکا انہوں نے اپنے الیکشن کے دوران اندازہ لگایا تھا!، بہت ابتر تھی۔

نون لیگ نے روپیہ کو ڈالر کے مقابلے میں بہتر کرنے کے لیے! پیسہ کا ناجائز اور غلط استعمال کیا جس سے پاکستانی روپیہ تو قدرِ بہتر رھا! مگر مالی حالت سخت ابتری کا نشانہ بنی۔

روپے میں مصنوعی جان ڈالنے کے لیے ملک کے خزانے کو نقصان پہنچانا غلط قدم تھا۔! اور اب اسکا خمیازہ مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

پیسے کی قدر اس لیے بھی کھوئی جا رہی ہے! کہ پاکستان میں ہنوز ایسے ناسور بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے کھربوں روپے اپنے گھروں اور تجوریوں میں بھرا رکھا ہے۔! جیسے سراج درانی اور وہ بلوچستان کے کسی سابقہ وزیر کے تجوریاں اور ایسی ہی انگنت۔! یہ پیسہ جو بلاک کر دیا گیا ہے یہ ملکی خزانے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

اسکے لیے حکومتِ وقت کیا کر سکتی ہے؟

یا تو روپے کو ڈی ویلیو کر دیا جائے اور ایک ایک روپے کو بے جان کر دیا جائے،! مگر اس سے ملک دیوالیہ ہو جائے گا،! یا پھر نوٹوں کی نئی شکل چھاپی جائے اور پرانی شکل منقطع کر دی جائے۔

اس سے وہ پیسہ جو تجوریوں میں بند ہے! اسے کیش کرانے کی ضرورت پیش آئے گی! اور اس سے ذخیرہ خوذوں پر ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔

معیشت

کسی بھی ملک کی معاشی حالت کا اندازہ لگانے کا ایک عام اور سیدھا سادہ قانون ہے! کہ اسکی برآمدات اور درآمدات کو دیکھا جائے۔

پاکستان کی درآمدات زیادہ ہیں! اور برآمدات کم ہیں جس کی بنا پر خسارا پایا جاتا ہے۔!

یہ خسارا صرف چند ہی سال پہلے یعنی 2003 میں تاریخ کے بلند ترین مثبت حدف کو چھو رہا تھا۔

ٹریڈنگ ایکونومکس کے مطابق جون 2003 میں پاکستان کا تجارتی نفع 6457 ملین روپے تھا! جب کہ جون 2018 میں یہ نفع نقصان میں بدل کر تاریخ کے بدترین نقصان کو چھونے لگا،! جب یہ نقصان 452668 ملین روپے تک گر چکا تھا۔

جون 2018 مین پاکستان کی ایکسپورٹ فقط 220000 ملین روپے تک رہ گئیں! اور جولائی میں یہ مزید کم ہو کر بمشکل 200000 ملین روپے کو حاصل کر رہی تھی۔

جبکہ جون 2018 ہی مین ہماری درآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔! یہ پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑی امپورٹس تھیں جو 676992 ملین روپے کو تجاوز کر رہی تھیں۔

جولائی 2018 میں جب انتخابات کا دور دورہ تھا! نوازشریف حکومت نے اسکے باوجود 600000 ملین روپے کی امپورٹس کیں۔

پاکستان کی معاشی حالت تباہ حالی کی بدترین مثال بن چکی تھی! اور یہاں تک کہ اس وقت کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسمعیل نے پاکستان ائیرلائنز کی نیلامی کا حکم دیدیا! اور ساتھ ہی ایک عجیب و غریب حکم جاری کیا! کہ جو پی آئی اے خریدے گا اسے اسٹیل مل مفت میں دی جائے گی۔

گویا پاکستان کے ادارے بچوں کی گڑیوں اور لڑکوں کی لکڑی کی گاڑیاں ہو گئیں! کہ ایک خریدو دوسرا مفت!

نئی حکومت

یہ وہ حالات تھے جب پی ٹی آئی کو حکومت ملی۔

پی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے آٹھ ماہ میں مہنگائی میں اضافہ ضرور ہوا! مگر اگر ہم ٹریڈنگ ایکنومکس کی سائٹ کے اعدادوشماریات کو دیکھیں! تو ایک عجیب نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔! مجھے انتہائی حیرت کہ ان اعدادو شماریات کو ہمارے ٹی چینلز والے پیش نہیں کرتے۔

آئیے ذرا انکی تفصیل دیکھتے ہیں:

Trade Balance and Rupee

مئی، جون اور جولائی میں ہمارا تجارتی خسارہ غیر یقینی طور پر بلند ترین سطح پر رہا ہے۔

خاص کر جب ہم دیکھتے ہیں کہ اپریل اور مارچ میں وہ بہ نسبت آدھے سے بھی کم تھا!! جون 2018 میں نواز حکومت کی سرپرستی میں تجارتی خسارا پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہا تھا! جو 452668 ملین روپے تک پہنچ چکا تھا۔

نواز حکومت جان چکی تھی کہ تبدیلی آنے والی ہے،! انہوں نے جان بوجھ کر ایک ایسا خسارا پیدا کر دیا! کہ آنے والے حکومت کے لیے دشواری کے سوا کچھ نہیں تھا۔

اب ذرا اسی دوران پاکستان کی درآمدات کے اعداد و شمار بھی ملاحظہ فرما لیجیے:

Trade Balance and Rupee

مارچ اور اپریل 2018 میں درآمدات حیرت انگیز طور پر کم تھیں! مگر پھر جب الیکشن قریب آ رہے تھے! تو مئی اور جون میں یکدم آسمان سے ملنے لگیں۔

یوں پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین دارآمدات جون 2018 میں ریکارڈ کی گئیں جسکا حدف 676992 ملین روپے تھا۔

ایک نظر برآمدات یعنی ایکسپورٹ پر بھی۔۔۔۔

یوں لگتا ہے کہ نون لیگ کی جانب سے یہ حتمی الامکان کوشش کی گئی کہ اگر الیکشن کے بعد ہم برسرِاقتدار نہ رہے! تو کم از کم آنے والی حکومت کے لیے مشکلات ضرور کھڑی کر جائیں گے۔

مشکلات

پی ٹی آئی کی حکومت نوآموز حکومت ہے۔! ان کے لیے جس قدر مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہیں انکو عبور کرنا آسان کام نہیں۔

درآمدات میں اضافہ، برآمدات میں کمی، تجارت میں خسارا، ملکی معیشت کی تباہ حالی۔! اندرونی سازشیں، کرپشن کے بادشاہ، بیوکریسی، بوسیدہ نظام، ناخواندگی، غربت و مفلسی، انصاف کی عدم موجودگی، پولیٹیکل عدم اعتمادی اور ایک قوم کو سمجھتی ہے! کہ عمران خان راتوں رات ان حالات کو سدھار دے گا۔

قوم کو خود سے ایک فیصلہ کرنا ہو گا،! اگر وہ اس ملک کی لانگ ٹرم بہتری چاہتے ہیں! تو شورٹ ٹرم تکالیف کو اٹھانا ہو گا۔

کوئی بھی کامیابی تکالیف کے بنا حاصل نہیں ہوتی! اور خاص کر جب بہتری درست اور جائز طریقوں سے کی جائے۔

آئیے اب ذرا تجارتی نظروں سے پی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے آتھ ماہ دیکھتے ہیں! اور اسکا موازنہ نوازشریف کی حکومت کے آخر ماہ سے کرتے ہیں۔!

یہ پہلا ٹیبل اپریل 2018 سے لیکر فروری 2019 تک کی ایکسپورٹ کو واضح کر رہا ہے۔

واضح طور پر اس ٹیبل سے دیکھا جا سکتا ہے! کہ پاکستان کی ایکسپورٹس بڑھ رہی ہیں! اور دسمبر 2018 میں پاکستان کی تاریخ کی انتہائی بلند ترین سطح کو چھو رہی تھیں۔

دسمبر میں ایکسپورٹ 287798 ملین روپے تھیں۔ جو تاحال سب سے بلند سطح ہے۔

Trade Balance and Rupee

اب ذرا اسی دوران پاکستان کی امپورٹس کو بھی ملاحظہ کیجیے:

Trade Balance and Rupee

وہ امپورٹس جو نوازشریف کے آخری ماہ میں سازشاً بلندی کو چھو رہی تھیں! انہیں آھستہ آھستہ کمی کی طرف لایا جا رہا ہے۔! جب کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا اگر ہم تجارتی خسارے کے چارٹ کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے:

Trade Balance and Rupee

خسارا

ہمارا تجارتی خسارا صرف آٹھ ماہ میں زبردست کمی کی جانب جا رھا ہے۔! ایکسپورٹس بڑھ رہی ہیں اور امپورٹس کم ہو رہی ہیں۔

اس کا اوور آل حالات پر اچھا اثر پڑے گا۔ !مگر ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب آپ کے ایک عام گھر کا بجٹ خراب ہو جاتا ہے! تو اسکو درست کرنے کے لیے کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔

ایک ملک کے نظام کر اور ایک ایسے ملک کے نظام کر درست کرنا جو پچھلے چالیس سال تباھی اور مسلسل تباھی کا شکار تھا!، نہ ہی تو آسان ہے اور نہ ھی یہ دنوں کی بات ہے۔

عالمی منڈی

عمران خان نے کچھ دن پہلے ایک تباہ کن بات بتائی! کہ اسلامی دنیا میں حلال گوشت کی ایکسپورٹس کئی ہزار ملین ڈالرز سالانہ کی ہیں! اور پاکستان کا اس میں صفر حصہ ہے!!! یہ ایک انتہائی تباہ کن بات ہے۔

ڈنمارک جو ایک کفر کا ملک ہے اسکی حلال گوشت کی اتنی بڑی مارکیٹ مڈل ایسٹ میں ہے! کہ اگر مڈل ایسٹ انکا گوشت لینا بند کر دیں تو انکا تجارتی بیلنس زبردست ڈگمگاہٹ کا شکار ہو جائے۔!

اسکی ایک مثال دیتا ہوں! کہ جب ڈنمارک کے اخبار میں نبی پاک ﷺ کی نسبت توھین آمیز خاکے چھاپے گئے! تو مڈل ایسٹ نے ڈنمارک کے پروڈکٹس کا بائیکاٹ کیا تو انکی چند بڑی کمپنیوں نے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی نکالنا پڑا،! پھر غیر آفیشل معافی مانگی گئی جسکے بعد وہ مارکیٹ دوبارہ بحال ہوئی۔

حیرت بلکہ بصد حیرت کے ساتھ تف کی بات ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے کبھی اس سمت سوچا ہی نہیں!

مجھے اس بات پر بھی حیرت ہے کہ ہم انڈیا سے ٹماٹر خرید رہے ہیں؟! کیا ہمار ہاں ٹماٹر پیدا نہیں کیا جا سکتا؟

ہمیں ٹماٹر کی فصل میں خود کفیل ہونا چاہیے! تاکہ ہم اپنا زرِ مبادلہ کسی اور کام پر لگا سکیں۔

مگر جب آپ کا بزنس انٹرسٹ انڈیا میں ہو! جیسے نوازشریف کا تھا تو آپ ایسی باتیں کہاں سوچتے ہٰں۔

بلکہ نوازشریف کی نسبت یہ بھی تکلیف دہ بات ہے! کہ اسکے غالباً پہلے دور میں پاکستانی اجناس کو نقصان پہنچایا گیا! اور ہندوستان سے درآمد کی گئیں۔

سیاسی صورتحال

جن حالات میں پی ٹٰی آئی کی حکومت کام کر رہی ہے! وہ اچھے نہیں! شریف خاندان ایک مسلسل ڈرامہ باز اور مکار خاندان ابھی تک گردش میں ہے۔!

زرداری دوسرا جس نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے! اور اب جب جیل اسے نظر آ رہی ہے تو وہ اندرونی سازشوں کا جال بو رہا ہے۔

کرپشن ابھی بھی ہے! اور جب تک ان کرپٹ لوگوں کو معقول سزائیں نہیں ملیں گی حالات درست نہیں ہونگے۔

مزید یہ کہ دنیا میں پاکستان کا امیج بہت بری طرح مسخ رہا ہے! اسکو درست سمت میں لانے کے لیے اور ملکی برآمداد کو بڑھانے کے لیے ہنوز بہت کام کی ضرورت ہے۔!

سونے پہ سہاگہ یہ کہ بکاؤ میڈیا ایکبار پھر اپنے عروج پر ہے! اور مجھے حیرت ہے کہ یہ جو اعداد و شمار میں نے ٹریڈنگ اکنومکس کے ویب سائٹ سے لیے ہیں انہیں ایک بھی چینل نے کبھی شئیر نہیں کیا!

اقدامات

لیکن ان حالات کو اگر کوئی فیس کر سکتا ہے! تو وہ عمران خان ہے۔! جو نہ ان کرپٹ لوگوں کے سامنے جھکے گا نہ ڈیل کرے گا۔

مگر اسے ابھی چند ایک سال انتہائی سخت تکلیف کے دیکھنا ہونگے۔!  تعلیم ترجیحات میں ہونی چاہیے۔! ملکی مصنوعات پر فوکس ہونا چاہیے۔

کسانوں اور زمینداروں کو ترغیب دی جائے! کہ ضروریات کی اجناس اپنے ہی ملک میں پیدا کی جائیں۔! گوشت  ایکسپورٹرز کو ریلیف دی جائے اور اسکے لیے منظم کارخانے لگائے جائیں،! جیسے ڈنمارک کی ڈینش کراؤن ہے جو سوفیصد گوشت کی ایکسپورٹ پر سالانہ بیلینز کما رہی ہے۔

اس وقت دنیا میں عمران خان کی بات سنی جا رہی ہے! پاکستانی مصنوعات کے لیے راستے کھلنے کی دیر ہے۔

پاکستان کو آئی ٹی انڈسٹری پر توجہ خاص دینی ہو گی۔

ہندوستان اس فیلڈ پر چھایا ہوا ہے! کیا وجہ ہے ہمارے ہاں اسکی رتی برابر فکر نہیں کی گئی۔! کوئی ایک ایسا پاکستانی ادارہ نہیں جو عالمی سطح پر کچھ کر رہا ہے۔!

اس میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ بزنس طبقے کو بھی آنا ہو گا۔! آئی ٹی ہاؤسز قائم کرنے کی ضرورت ہے! اور میں آپ کو یقین سے کہتا ہوں مغربی کمپنیاں سستی مگر اعلیٰ آئی ٹی سروس کے لیے لازماً آئیں گی۔

پاکستان کے قیادت درست لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔! یہ بیشک شدید صبر آزما لمحات ہیں مگر بہتری کی امید یہی سے پیدا ہو گی!

بقلم: مسعودؔ

Artificially maintaining high value of rupee damaged economy: Asad Umar, Pakistan Finance, Rupee, Trade Balance of Pakistan.

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment