Current Affairs News

Ma’lukiyat Ka Bandah!

Ma'lukiyat Ka Bandah!

Ma’lukiyat Ka Bandah!

ملوکیت کا بندہ

کرپشن کے کیسز میں پاکستان بھر میں دن بدن نئے نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔

مگر اس میں جو سب سے بڑے اور اہم ترین کیسز ہیں! وہ پنجاب میں شریف خاندان اور سندھ بھی زرداری خاندان کا ہے۔

دونوں ہی پاکستان میں حکومت کرنے والی پارٹیوں کے خاندان ہیں! اور پاکستان کے موجودہ حالات کی سب سے اہم وجہ یہی دو خاندان ہیں۔

بے نظیر بھٹو ایک اعلیٰ سیاسی ظرف رکھنے والے! باپ کی ایک سیاستدان بیٹی تھی جو پاکستان کی عظیم ترین لیڈر بن سکتی تھی۔

مگر اس کو کرپٹ اور اسکے سیاسی ذہن کو مفلوج کرنے والا! اسکا شوہر آصف علی زرداری تھا۔ درحقیقت پیپلزپارٹی اسی دن اپنی سیاسی موت مر گئی تھی! جب زرداردی نے بے نظیر کو راستے سے ہٹا دیا! اور ایسے حالات میں اسے قتل کرا دیا! کہ جب وہ عوامی طاقت کا مظاہرہ کر رہی تھی۔

طاقت کے اس مظاہرے ہی کا زرداری کو انتظار تھا۔

یوں 2007 کے انتخابات جیتنے میں صرف اور صرف بے نظیر کے legacy متحرک تھی۔

مگر وہ لیگاسی زرداری کے کرپشن کے اس کھیل کے لیے کافی تھی !جو اسکی سوچ میں پروان پا رھا تھا۔! زرداری اور نوازشریف بھائی بھائی! میثاقِ جمہوریت کے founding fathers نے پھر کرپشن اور منی لانڈرنگ ایک ایسا نیٹ ورک قائم کیا! جسے اگر پانامہ کا واقعہ نہ ہوتا، کبھی کوئی ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔

اب جب یہ راز در راز کھلتے چلے جا رہے ہیں،! عقل یہ تسلیم کرنے کو مانگتی ہے! کہ عمران کے الفاظ سو فیصد سچائی پر مبتی ہیں! کہ یہ دونوں یعنی زرداری اور شریف ایک دوسرے کا احتساب نہیں کر سکتے! کیونکہ دونوں کے جرائم ایک جیسے ہیں۔! دونوں ایک دوسرے کے جرائم سے واقت ہیں لہٰذا دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھا دیا ہے! کہ تم بھی وہی کرو جو میں کرتا ہوں، نا تم مجھے احتساب کے کچہرے میں کھڑا کر سکتے! ہو نہ میں تمہیں: تم بھی لوٹو میں بھی لوٹتا ہوں!

اپنے اپنے جرائم کو حفاظت دینے کے لیے ہم نے عدالتیں پال رکھی ہیں۔! رات کو تم فون کرنا اور من پسند فیصلہ لے لینا، میں تمہیں الزام نہیں دونگا،! یہی کام میں کرونگا۔

رہی بات عوام کی تو عوام جہالت اور خودفراموشی کی انتہا پر ہے۔! انہیں ایک پلیٹ بریانی اور دو دو سو روپے تھما دیں گے! پھر دیکھنا انکا ہمارے لیے بھونکنا! وہی ہو رہا ہے! عوام کرپشن کے ملزموں کے لیے “جہاد” کر رہی ہے – اناللہ وانا الیہ راجعون!

علم اللہ تعلیٰ کی جانب سے انسان پر فرض ہوا ہے! ہمارے نبی پاکﷺ پر سب سے پہلا حکم جو فرض ہوا تھا وہ تھا اقرا یعنی پڑھ!

یہی علم ہے جو سندھیوں اور پنجابیوں سے اٹھا لیا گیا ہے! جب آپ کے ملک کے ڈھائی کڑوڑ بچے تعلیم سے محروم ہونگے تو آپ کے ملک کے حکمران زرداری اور شریفیوں جیسے ہی ہونگے۔

جب جہالت ہو گی انصاف ناپید ہوگا۔ انصاف انکو ملتا ہے جو انصاف کا حق جانتے ہیں – حق تعلیم سے ملتا ہے جہالت سے نہیں!

یہی وجہ ہے کہ شریفیوں اور زرداریوں نے انصاف کو حرامکاری سے اس قدر مفلوج کر دیا ہے! کہ وہ امیروں کے لیے بولتا ہے! وہ حرامخور ججز جو راتوں رات فیصلے بدلتے ہیں! اور وہ حرامخور ججز جو چھٹی کے دن خاص دیوان لگا !کر فیصلے دیتے ہوں وہ اس دنیا میں بھی مجرم ہیں آخرت میں بھی مجرم ہی ہونگے! – بھلے ماتھوں پر لاکھ محراب سجے ہوں!

پاکستان کا دیوانی نظام بھی ایک مافیا ہے!

ایک ایسا مافیا کہ آپ اسکے سامنے بکری لے جاؤ اور کہو یہ بکری ہے! تو وہ کہے گا کہ میں بھی دیکھ رھا ہوں! کہ یہ بکری ہے پر ثابت کیسے ہوگا کہ یہ بکری ہے!

نادار اور ایسے لوگ جنکی اپروچ نہ ہو انسکے کیسز کئی کئی سال پڑے رہتے ہیں! یا پھر ان پر تاریخ در تاریخ ڈال کر پیسہ بنایا جاتا ہے۔! حرامکاری کا یہ عالم ہے کہ ججز اور وکلا اس میں برابر کے ملوث ہیں۔! یہ جو بھی حرام کھا رہے ہیں یہ کیوں نہیں سوچتے کہ! کل کو اللہ کے حضور جوابدھی کرنا ہو گی؟

مگر شاید اسکے لیے بھی انہوں نے اپنے ضمیروں کو مطمئن کرنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے – ملا!

ملا یہ فتویٰ جاری کرتے ہیں کہ نیب کا کرپشن کے ملزم کو ہتھ کڑی لگانا غیر شرعی ہے!

تو جنابِ اعلیٰ آپ ہی بتائیں کہ کرپشن کے ملزم کو لیموسین میں بٹھا! کر عورتوں او سوری حوروں کے جھرمٹ میں بٹھا کر حوالات میں لایا جائے؟

اور اگر کرپشن کے ملزم کو ہتھکڑی لگانا غیرشرعی ہے! تو عدالتوں کے جھوٹے اور غیرمنصفانہ فیصلے دینا عین اسلام ہے؟! یا چھٹی کے دن خاص الخواص عدالت لگا کر ایک کرپشن کے ملزمان کو خاص رعایت دینا ملاؤں کے اسلام کے عین مطابق ہے؟! لیکن ملا اس نظام میں ایسے رچ بس گئے ہیں کہ یہ کوئی نہ کوئی شرعی وجہ نکال لیتے ہیں!

علامہ اقبال ملا سے شدید بیزار تھے – اب سمجھ آ رہا ہے کہ کیوں! ججز اور وکلا کی طرح ملا بھی ملوکیت کا بندہ ہے!

Ma’lukiyat Ka Bandah!

NAB raid Hamza Shareef’s house, Pakistan Muslim League, Pakistan Peoples Party, Justice In Pakistan, Lahore High Court,

بقلم: مسعودؔ

Ma’lukiyat Ka Bandah!


SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment