Celebrities Current Affairs

Rang’baaziyaan

Rang'baaziyaan

Rang’baaziyaan

رنگبازیاں

ایوارڈ

مہوش حیات کو صدراتی تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔

اس پر پاکستان میں وہ اودھم مچا کہ ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہو گیا۔! جس جس کی جتنی سوچ تھی اسکی زبان اسی سوچ کے مطابق چلی۔! کیا کیا القاب دئیے گئے میں یہاں انکو بیان نہیں کرونگا! کہ وہ سوشل میڈیا ہی کا لیول ہے!

میں بذاتِ خود اس ایوارڈ کے بالکل بھی حق میں نہیں! مگر جو حالات اس ملک کے ہیں انکو دیکھتے ہوئے میں برخلاف بھی نہیں! الفاظِ عام میں مجھے کوئی غرض نہیں!

تو پھر یہ بلاگ کیوں داغ ڈالا؟

Rang’baaziyaan

فیس بک ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر پاکستانیت خوب کھل کر سامنے آتی ہے! اور اس پاکستانیت میں جب اسلامیات کو شامل کر دیا جاتا ہے! تو تڑکا کئی رنگ دکھاتا ہے۔ فیس بک نے سنسر نہ ہونے کی بنا پر ہر کسی کو بولنے کا موقع دیدیا ہے !جس کی بنا پر ایک نیک سیرت، پکا مسلمان اور خالص پاکستانی خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے گندی سے گندی گالی،! فحش سے فحش تصویر اور بے ہودگی سے بڑھ کر بیہودگی کرتے پایا جاتا ہے !مگر نہ ہی تو اسکی پاکستانیت پر آنچ آتی ہے نہ مسلمان ہونے پر!

مہوش حیات کی نسبت لاتعداد پوسٹس اور ٹویٹس اگنور کرنے کے بعد! آج ایک پوسٹ دیکھی جس کے بعد میرا قلم جنبش میں آیا۔۔۔ پہلے وہ پوسٹ دیکھتے ہیں۔۔۔

ریاستِ مدینہ کا نام لینے والوں سے یہ توقع نہ تھی

Rang’baaziyaan

مدعا

صاحبِ قلم نے بڑی خوبصورتی سے الفاظ کا تانا بانا بنتے ہوئے !طوائف کے ناپاک وجود کی تعریف یا تذلیل کرتے ہوئے! اصل مدعا پر آ کر بات ختم کی۔۔۔ اصل مدعا صرف یہ تھا کہ  عوام کے دماغ کو متنفر کیا جائے! کہ یہ ایوارڈ عمران خان نے دلوایا ہے! اور چونکہ عمران خان نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا عزم کر رکھا ہے! مگر اس پر وہ قائم نہیں لہٰذا اب ہمارا فرض بن رھا ہے !کہ ہم چھ ماہ کے بعد ہی عوام کے دلوں میں نفرت کے بیچ بونا شروع کر دیں۔

چونکہ وہ خاص کر ان ناسوروں کو قطعی طور پر معاف نہیں! کر رہا جو اس قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے !لہذا اب ہر ممکن طور پر اسکے خلاف نفرت پھیلائی جائے۔! کیونکہ ہم وہ غیرتمند قوم ہیں جو پچھلے 70 سال سے خاموش رہے اب یکدم ہماری غیرت جوش مار رہی ہے۔۔ اس پر بعد میں۔۔

Rang’baaziyaan

طوائف

پہلے طوائف سے ادکارہ بننے کی جو دلآویز الفاط میں صورتحال بیان کی اس پر چند الفاظ!۔۔۔ یہ باتیں تو میں ایک مدت پہلے لکھ چکا ہوں !کہ پہلے ہمارے ہاں نیک سیرت عورت ناچنے کی طرف آنکھ بھی نہیں اٹھاتی تھی! اور ہمارے ٹی وی پر اسکی مثالیں موجود ہیں !مگر میڈیا کی آزادی نے آج ٹی وی کی شریف زادیوں کو بھی ناچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

 ہمارے ٹی وی شوز کی جو حالت ہے وہ کسی طوائف خانے سے کم ہے؟! رہی بات فلموں کی تو یہ 1948 سے ایسا ہی چلتا آ رہا ہے کہ اپنے جسموں کو ہلا ہلا کر دکھانے والیوں اور والوں کو حکومتیں ایوارڈز سے نوازتی چلی آ رہی ہیں۔! ریما کو ایوارڈز دئیے گئے کیا وہ مہوش حیات سے زیادہ مقدس اور پارسا تھی؟! بابرہ، انجمن، شبنم، نادرہ، نیلی، روحی بانو اور پتہ نہیں کون کون؟! مگر وہ سب عمران کے دور سے پہلے کی بات ہے لہٰذا وہ نیک نیتی میں آ جاتی ہے۔

حال ہی میں ایک برطانوی یونیورسٹی نے راحت علی خان کو اعزازی ایوارڈ سے نوازا!، جس پر اسی ملک کی عوام نے فخر محسوس کیا، !پوچھنا یہ ہے کہ کیا راحت ایک کنجر اور گویا نہیں؟! یا یہ ایک مہذب کنجر اور گویا ہے جو ایک اچھے انداز میں خود کو بیچ سکتا ہے! تو یہ قابلِ قبول ہے؟ یا ایوارڈ انگریز نے دیا ہے !اور وہ ہمارا آقا ہے اسکا ایوارڈ ہمارا فخر ہے؟

Rang’baaziyaan

تماش بین

طوائف کی تو صاحب قلم نے بڑی خوبصورتی سے تعریف کر دی،! مگر اس عورت کو جو کسی کی ماں بہن بیٹی ہے !اسکو طوائف بنانے والا کون ہے؟!!! کون ہے جو مسرت شاھین کے ٹھمکوں کو دیکھ کر تالیاں بجا بجا خوش ہوتا رہا ہے؟

کون ہے جو انجمن کے جسم کی پھدک کو دیکھ کر سینما گھروں میں بیٹھ !کر بھڑکیں مارتا ہے؟! کون ہے جو اسٹیج شو پر ناچتی عورت کو دیکھ کر بڑھکیں مار مار اپنا خون گرماتا ہے؟!! اور کون ہے جو طوائفوں کے جسموں کی قیمت لگا کر اپنی ہوس کی آگ بجاتا ہے؟ وہی پاکستان غیرتمند مرد جو ہر کام کر لینے کے بعد خود کو نفیس ثابت کرنے بیٹھ جاتا ہے۔

کون ہے جو ایک انڈروئیر اور ایک برا میں ناچتی ہندوستانی کنجریوں کی دیکھ کر اپنے خون کو گرماتا رہا ہے؟! اور ان حسیناؤں کو اپنے منوں میں بساتا رہا ہے؟ اور فحر سے کہتا ہے کہ کیا اداکارہ ہے یار! وہی غیرتمند پاکستانی مرد! وہ پاکستانی مرد جو گلی کوچوں میں والدین سے چھپ چھپا !کر معصوم بچوں کو بیہودہ فلمیں دکھاتا ہے، وہ پاکستانی غیرتمند مرد جو ویڈیوز کی  گندی دکانیں چلاتا ہے۔۔ 

Rang’baaziyaan

قربِ قیامت

ایک صاحب نے کہا کہ یہ قربِ قیامت کی نشانی ہے! کہ ایک بقول انکے طوائف کو ایوارڈ سے نوازا گیا اور اہل ہنر بیٹھے رہے۔۔۔

قرب قیامت کی نشانی یہ نہیں کہ کسی مستحق کو اسکی کارکردگی سراہنے پر نوازا جائے!، قربِ قیامت کی نشانی یہ ہے کہ آپ کے ملک کی مساجد میں اخلاق سوز حرکات ہو رہی ہیں،! قرآن پڑھانے والے سات سات سال کی بچیوں کے جسموں سے کھیل رہے ہیں!، پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے ناسور بچوں کے ساتھ زنا کر کے انکی ویدیوز بنا کر یو ٹیوب پر چڑھائیں پھر بھی انہیں رتی برابر سزا نہ دی جائے

 قربِ قیامت کی نشانی یہ ہے کہ آپ لین دین مین فراڈ کریں،! کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کریں اور اس پر رتی برابر شرمندگی محسوس نہ کریں،!

قربِ قیامت کی نشانی یہ ہے کہ زنا عروج پر ہے، پاکستانی اس وقت سب سے زیادہ پورنوگرافی سرچ کرنے والی قوم ہے، اسکو کہتے ہیں قربِ قیامت کی نشانی

قربِ قیامت کی نشانی یہ ہے کہ آپ کا جائز کام نہیں ہونے دیا جاتا جب تک آپ رشوتیں نہ دیں، انصاف نہیں مل رھا، قاتل دھندھناتے پھر رہے ہیں اور قانون انکے آگے بے بس ہے!۔

قربِ قیامت کی نشانی یہ ہے کہ سفید پوش بھی حرام کمانے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں!، قربِ قیامت کی نشانی یہ ہے کہ آپ کے ملک سے عورت کی تجارت ہو رہی ہے، بچوں کی تجارت ہو وہی ہے!، انہیں دھشتگردیوں میں ڈالا جا رہاہے، قبروں میں پڑے مردے تک شر سے محفوظ نہیں! اور آپ کو قربِ قیامت کے لیے ایک بقول آپ کے طوائف اداکارہ کا ایوارڈ ہی نظر آیا؟

Rang’baaziyaan

ریاستِ مدینہ

عمران خان کی ریاستِ مدینہ پر سوال اٹھانے والے پہلے اُس ریاست ِ مدینہ کی سوچ پیدا کر لیں! عمران کی ریاستِ مدینہ میں غریب لوگوں کو اٹھانا ہے !وہ لوگ جو پچھلے 70 سال سے پستی میں دھکیلے گئے ہیں۔

وہ لوگ جو آج بھی 6000 ہزار سال پرانی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں! کہ جہاں ایک کسان کی بیوی کو ھل میں جوتا جا رہا ہے – ذرا فیس بک سے باہر نکل کر اندرونِ پنجاب اور اندرونِ سندھ اور اندرونِ بلوچستان جائیں! – جو زندگی انسان آج وہاں گزار رھا ہے آج سے 6000 سال پہلے ہڑپہ ، موہنجوڈارو اور مہرگڑھ جیسے تہذیبیں ان سے زیادہ ایڈوانس تھیں!

انسان کو انسان ہونے کا حق ہی کب دیا گیا ہے اس ملک میں؟ عمران خان اس غریب کو اس پستی سے نکال کر عروج دینا چاہتا ہے یہ اسکی ریاستِ مدینہ ہے۔ اور ریاستِ مدینہ کا مطلب ہرگز یہ نہیں! کہ آپ زندگی کے ہر شعبے کو 1400 سال پیچھے لے جائیں اور کچے مکانوں کے مکین بن جائیں،! یہ سوچ ہی جہالت ہے!

Rang’baaziyaan

رنگباز

موصوف نے لکھا کہ “آگے آگے دیکھیے یہ سگ باز اور کیا گل کھلاتا ہے”!

غالباً کہنے والا ضیاالحق کو بھول گیا؟! وہ بندہ جس کے پنچے میں کل پاوور تھی، جو جو الفاظ چاہتا آئین کا حصہ بن سکتا تھا!، جس نے نعرۂ اسلام لگاتے ہوئے نظامِ مصطفیٰ کے قیام پر ریفرنڈم تک کروا دیا اور جس نے تمام تر اہلِ مسلک کے علماؤں کو جمع بھی کردیا ! اور نظامِ مصطفیٰ کے قیام کا حکم دیا، پھر کیا ہو؟ اسی ناسور نے ان تمام تر علماؤں کا ہر راستہ بند کر دیا! اسطرح کہ نظامِ مصطفیٰ کا نعرہ ایک مذاق بن گیا۔ اور وہی ضیا دو ٹکے کے انڈین اداکار شتروگھن سنہا کی خاص سرکاری ضیافت کر کے اپنے ہاں مدعو کیا! اور اپنی بیوی اور بیٹی کو اس سے ملاتے ہوئے کہا کہ میری بیٹٰی آپ کی بہت بڑی فین ہے!

اسکے بعد جو بھی کیا اسکی حالت بھول گئے؟

نوازشریف اور اسکے بھائی نے اپنے اپنے مطلب کی عورتیں حاصل کرنے کے لیے ہنستے بستے گھر اجاڑے! کیا وہ گل آپ کی غیرت کے عین مطابق تھے؟! کیا عمران خان نے آج تک کسی عورت کی شان میں گستاخی کی ہے؟! اگر نہیں تو اپنے گل اپنے منہ پر مارو!

عمران خان کی ریاستِ مدینہ کی سوچ ہر کتے بلے کے بس کی بات نہیں! جب تک عمران خان کے 5 سال مکمل نہیں ہو جاتے، یا عمران خان خود یہ نہیں کہہ دیتا کہ میں ہار گیا ہوں، میں اس وقت تک عمران خان کو سپورٹ کرونگا! چاہے اسکی راہوں میں ہزار ہا سگ فیس بک بھونکتے رہیں۔

 عمران خان وہ واحد بندہ ہے جو پاکستانی عوام کو ریلیف دے سکتا ہے!

Mehwish Hayat Award, Tamgha-i-Husn-e-Karkardgi, Best Actress Award, PTI Goverment, Asif Alvi.

بقلم: مسعودؔ

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment