Sports

PSL4: Karachi Kings vs Lahore Qalandars

PSL4: Karachi Kings vs Lahore Qalandars

PSL4: Karachi Kings vs Lahore Qalandars

لاہور قلندرز بمقابلہ کراچی کنگز

پی ایس ایل 4 کا بیسواں میچ لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے مابین ہوا۔

دو بڑے شہروں کے درمیان میچ ہمیشہ کانٹے دار ہوتا ہے۔ اور یہ میچ خاص کر کراچی کے لیے جیتنا ضروری تھا۔

کراچی نے ٹاس جیتا اور پہلے فیلڈنگ کی۔

لاہور کی جانب سے فخرزمان اور گوھر علی نے بیٹنگ کا آغاز کیا۔

لاہور اننگ

قلندرز کی اننگ شروع ہی میں پریشر میں آ گئی جب گوھر علی تیسری ہی بال پر عماد وسیم کی بال پر محمد عامر کو کیچ دے بیٹھا۔ پانچ پر پہلی وکٹ۔

حارث سہیل اور فخرزمان نے سست روی سے اننگ کو بلڈ کیا۔ مگر چھٹے اوور کی دوسری بال پر فخرزمان ایک زبردست ٹلا لگانے کے چکروں میں پارٹ ٹائم بالر افتخاراحمد کی بال پر بابر اعظم کو کیچ دے بیٹھا۔ لاہور کو ایک بہت بڑا دھچکا لگتے بچا جب اسی اوور کی دو بالوں بعد اے بی ڈی ویلئیرز سویپ کرتے ہوئے بابر اعظم کو کیچ دے بیٹھا۔ مگر بابر اعظم اس وقت کیچ نہ پکڑ سکا۔

مگر اس سے کوئی خاص فرق نہ پڑا کیونکہ پارٹ ٹائم بالر افتخاراحمد کے اگلے ہی اوور میں حارث سہیل بولڈ ہو گیا۔ حارث نے 3 چوکوں کی مدد سے 20 رنز بنائے۔ اس موقع پر کوری اینڈرسن اور اے بی ڈی ویلئیرز نے 30 رنز کی شراکت کی جس مین کوری اینڈرسن کے 22 رنز تھے۔ 77 کے مجموعی اسکور پر کوری اینڈرسن 2 چکھوں اور ایک چوکے کی مدد سے 22 رنز بنا کر محمد رضوان کے ہاتھوں عمرخان کی بال پر آؤٹ ہو گیا۔

سہیل اختر اور اے بی ڈی ویلیئرز کے مابین نئی 31 رنز کی پارٹنرشپ ہوئی مگر جب اسکور شولہویں اوور کی پانچویں بال پر 108 رنز ہوا اے بی ایک اسمارٹ کٹ شاٹ کھیلتے ہوئے عمرخان کو کیچ دے بیٹھا۔ اے بی نے ایک چھکے اور 2 چوکوں کی مدد سے 33 رنز بنائے اور اسے محمد عامر نے آؤٹ کیا۔

سہیل اختر نے ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 29 رنز بنائے اور لاہور کا مجموعی اسکور 133 تک ھی پہنچ سکا۔

PSL4: Karachi Kings vs Lahore Qalandars

کراچی کی جوابی کاروائی

کراچی کی جانب سے ابتدأ بابر اعظم اور کولن منرو نے کی۔

کولن منرو جو اس ٹورنامنٹ میں بہت ناکام رھا ہے ایکبار پھر سے صرف 12 بالوں پر 15 رنز بنا کر آؤٹ ہو گیا۔ اسے حارث سہیل نے کیچ کیا اور لاماچینے نے بال کی۔ لاماچینے اس وقت تک ایک بہت خطرناک اور اچھا بالر ثابت ہو رہا تھا۔

کراچی کے لیے یہ میچ جیتنا انتہائی اہم تھا مگر 28 کے مجموعی اسکور پر بابراعظم بھی لاماچینے کی سپرہٹ بالنگ کا شکار ہو گیا اور کلین بولڈ ہو گیا۔ بابر نے دو چوکوں کی مدد سے صرف 11 رنز بنائے۔

لیونگسٹون نے یاسرشاہ کے ایک اوور کی 3 مسلسل بالوں پر 2 چوکے اور ایک چھکا رسید کر دیا۔ مگر اگلے ہی اوور میں حارث سہیل نے ایک شاندار بالکل آن سپاٹ یورکر سے کولن انگرام کی وکٹیں اڑا دیں۔ انگرام نے 15 بالوں پر صرف 12 رنز بنائے۔ اگلی کی بال پر ایک اور toe crasher بال افتخار احمد کے گٹوں میں گری – زبردست ایل بی ڈبلیو کی اپیل ہوئی مگر بال باھر جا رھی تھی۔

اس وقت صاف نظر آ رھا تھا کہ کراچی پریشر میں ہے اور اگلے ہی اوور جو یاسرشاہ نے کرایا، اسکی پانچویں بال پر لیونگسٹون کو بولڈ کر دیا۔ لیونگسٹون نے 34 بالوں پو 3 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 38 رنز بنائے۔ مجموعی اسکور اس وقت 84 پر چار وکٹ تھا۔

حارث سہیل کا اگلا اوور زبردست تھا جس میں صرف 3 رنز بنے۔ کراچی مکمل پریشر میں تھا۔

چودھویں اوور کی دوسری بال جو اعزازچیما نے کرائے افتخار نے ایک چھکا لگا کر کچھ پریشر کم کیا۔

پانچویں بال پر ایک رنز بنا مگر رن آؤٹ چانس ریوئیو کرنا پڑا۔ highly tense

پندرھویں اوور کی دوسری بال جو وائیسے نے کرائی محمدرضوان ایک زوردار شاٹ کھیلی مگر بدقستی سے سیدھی لاہور قلندرز کے کپتان فخرزمان کے ہاتھوں میں۔۔۔ کچھ دیر کو رضوان کو سمجھ ہی نہ آیا کہ کیا ہوا ہے وہ آؤٹ کیسے ہو گیا – مگر اسے گھر جانا تھا۔ اس نے 2 رنز بنائے۔ اور مجموعی طور پر 97 پر کراچی کے 5 کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔

پندرھویں اوور کی پانچویں بال پر کراچی کے سو رنز پورے ہوئے۔ سولہویں اوور کی پانچویں بال پر افتخار نے زبردست چھکا کر کر اسکور 109 پر پہنچا دیا۔ اور کچھ پریشر کم کیا۔ سترھویں اوور کی پہلی بال انتہائی بری تھی۔ چیما نے فل ٹاس دے ماری جو اوور ویسٹ تھی اور نو بال قرار پائی۔ اس پر ایک چوکا لگا اور ساتھ میں کراچی کو فری ہٹ ملی۔ فری ہٹ پر عماد وسیم نے ایک اور چوکا دے مارا۔ ایک بال پر 9 رنز۔ پانچویں بال پر چیمہ کو ایک اور چوکا پڑا۔ یہ وہ اوور تھا جس میں لاہور کو ایک بار پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انتہائی بے ہودہ بالنگ نے تمام تر پریشر ختم کر دیا اور کراچی اور اب دو اوورز میں صرف 9 رنز درکار تھے۔

بیسویں اوور کی پہلی بال پر عماد وسیم نے ایک رنز لیا اور ایک اوور تھرو سے مل گیا جس کی وجہ سے کراچی یہ میچ جیت گیا۔

وہ ایک اوور جو اعزازچیمہ نے کرایا اس نے گیم کا پانسہ پلٹ دیا۔ ایک انتہاائی بے ہودوہ اوور جس 17 رنز بنے اس نے میچ کو کراچی کی فیور میں کر دیا۔ اگر اس اوور میں اچھی بالنگ ہوتی تو شاید میچ پھنس جاتا اور نتیجہ زیادہ سنسنی خیز ہوتا۔

PSL4: Karachi Kings vs Lahore Qalandars

اسکورکارڈ

نتیجہ: کراچی کنگز نے میچ 5 وکٹ سے جیت لیا

PSL4: Peshawar Zalmi vs Multan Sultanz

Pakistan Domestic Cricket - History

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment