Current Affairs

Masla Kashmir Ka Bhiyanak Sach

Masla Kashmir Ka Bhiyanak Sach

Masla Kashmir Ka Bhiyanak Sach

مسئلہ کشمیر کا بھیانک سچ

مسئلہ کشمیر 1947 سے اقوامِ متحدہ کے سرد خانوں میں پڑا ہوا ہے اور کبھی حل ہونے جانب نہیں گیا۔

ایک بہت اہم اور مرکزی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کار 70 سال گزر جانے کے باوجود آج تک اس مسئلے کو حل کیوں نہیں کیا گیا؟

حل تو ایک طرف اس کو مسئلہ سمجھا ہی نہیں گیا۔ اور کبھی بھی کسی بھی پلیٹ فارم پر اس کو زیرِ بحث لایا ہی نہیں گیا۔ ہندوستان تو چاھتا ہی نہیں کہ یہ مسئلہ کسی بھی پلیٹ فارم پر اوپن کیا جائے تو کیا پاکستان نے بھی اس کو نہیں اٹھایا؟

اٹھایا ہے! کئی ایک بار اٹھایا ہے!

پھر کیا؟

پھر یہ کہ اسکے پیچھے ایک بھیانک جواب پوشیدہ ہے۔ 

تلخ حقائق جن کو سننا بہت مشکل ہے! اگر سننا مشکل ہے تو اسکوہضم کرنا کتنا مشکل ہو گا؟ وہ حقائق کیا ہیں؟

اولا ً تو سرحد کی دونوں جانب ایسے سیاستدان موجود رہے ہیں جنہوں نے کشمیر کو اپنی سیاست کے لیے تختۂ مشق بنائے رکھا ہے۔ خاص کر ہندوستان میں کشمیر سیاست کی کسوٹی رہا ہے۔ جس کا کشمیر کی نسبت جتنا سخت اور دو ٹوک مؤقف رھا ہے اسکو انتہا پسند ہندوؤں میں اتنی مقبولیت رہی ہے۔ خاص کر آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا کی وجہ ایک جنگ چل رہی ہے۔ اور اسکو ہندووں کی جانب سے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔

پاکستان میں یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ہماری حکومتوں میں اتنی جرآت ہی نہیں رھی کہ وہ کشمیر پر لب کشائی کر سکیں – خاس کر ہماری نام نہاد جمہوری حکومتیں۔ پہلی بار کشمیر کے معاملے پر کسی پاکستانی حکومت کو تنک رو دیکھا گیا ہے تو وہ مشرف کے دور میں دیکھا گیا ہے۔ ورنہ نوازشریف اور زرداری کے منہ میں زبان صرف حرام چکھنے کے سوا کسی کام کی نہیں تھی۔ اور اس پر غضب کہ پاکستان میں فضل الرحمٰن جیسے منافق کو کشمیر کمیٹی کا چئیرمین بنا کر کشمیر کے ساتھ زبردست زیادتی کی جاتی رہی ہے۔  

دونوں جانب کے سیاستدانوں نے کبھی چاھا ہی نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو۔

ثانناً یہ کہ سرحد کی دونوں جانب فوجی عسکریت بہت سخت اور فلاد کی طرح مضبوط ہے۔ دونوں ممالک کی فوجی عسکریت دنیا کی بہترین ترین فوجی عسکریت میں شامل ہے۔ ہندوستان دنیا میں سب سے بڑے اسلحہ امپوٹرز میں سے ہے، پاکستان اسی لسٹ میں ہے مگر کافی نیچے۔  یہ بات تسلیم کرنا انتہائی مشکل ہے کہ دونوں ممالک کی فوجی عسکریت کرپشن میں ملوث ہے۔ بڑے بڑے فائدے حاصل کرنا، بڑی بڑی دولت حاصل کرنا دونوں جانب روا ہے!

اس کے لیے بجٹ کے ساتھ ساتھ وہ چھپے ہوئے تحفے تحایف ہیں جو باھر کے عناصر سے ملتے ہیں۔ باھر کے عناصر کون ہیں؟ ان پر بعد میں آتے ہیں۔

یہاں پر ایک لمحے بھر کے لیے سوچیں کہ کیا پاکستان ہندوستان کے مابین کشمیر کے سوا کوئی مسئلہ ہے؟ – نہیں!

تو پھر ایک مسئلے جو اسقدر شدت پسند ہے اور جو 1947 سے اقوامِ عالم میں پڑا ہوا ہے اسے حل کیوں نہیں کراویا جاتا؟

اب یہاں ایک لمحے کو رک کر یہ تصویر دیکھیں:

یہ پاکستان کی ملٹری کے وہ بٹالین ہے جو کشمیر کے برف پوش پہاڑوں پر جانبازی دکھاتی ہے اور مادرِ وطن کی حفاظت سر انجام دے رہی ہے۔ ایسی ہی ملٹری انڈیا کے پاس بھی ہے۔

دونوں ممالک کے یہ فوجی اعلیٰ سطح کی اسپیشل ٹریننگ سے لبریز ہوتی ہے۔ انکی مہارت اور قابلیت اور جسمانی ڈیمانڈ ایک عام سپاھی سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ بہت بڑے جانباز ہوتے ہیں – اور دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کی ایک اھم وجہ ایسی ہی اسپیشل فورس تھی جو روس کے پاس تھی مگر جرمنی کے پاس نہیں تھی، جہاں عام جرمن سپاھی ماسکو اور اسکے گرد و نواح کی سردی برداشت نہ کر پایا وہاں سائبیریا کی اسپیشل فورسز نے اپنا کمال دکھایا۔

یہ فوج پاکستان اور انڈیا کے پاس ہے – مگر ذرا غور کریں کہ انکے جسم پر جووردی ہے کیا وہ ایک عام سپاھی کی وردی ہے؟ نہیں یہ ایک انتہائی اسپیشل وردی ہے جو جسم کی حرارت کا خیال رکھتی ہے اور جو سردی سے محفوظ رکھتی ہے۔ اور پھر جو اسلحہ اس مقام پر استعمال ہوتا ہے کیا وہ عام اسلحہ ہے؟

اب ان باتوں کو ذہن میں رکھکر یہ بتائیں کہ یہ وردی اور یہ اسلحہ کہاں بنتا ہے؟ – جواب میں یقیناً آئے گا امریکہ اور فرانس!

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسلحہ بیچنے والے ممالک چاھیں گے کہ یہ مسئلہ حل کیا جائے اور دونوں ممالک سے اسلحہ مارکیٹ ختم کر ددی جائے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی آرمی یہ چاہیں گی کہ یہ مسئلہ حل ہو اور وہ جو کڑوڑں کا بجٹ ہے وہ ختم ہو جائے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ کڑوڑوں کی جو آئی انڈسٹری ہندوستان میں چل رہی ہے، مغرب اس مسئلے کا حل پیش کر کے ہندوستان کے دل میں اپنے لیے نفرت کا پہلو بنا لے گا؟

بیچ میں رہ گیا کشمیر اور کشمیری! وہ کشمیر جو کبھی امن کا گہوارا ہوا کرتا تھا۔ وہ کشمیر جو جنت نظیر تھا اسکو انسان کے لیے جہنم بنا دیا گیا ہے۔ کیونکہ کشمیر میں تیل نہیں! کیونکہ کشمیر میں عیسائی نہیں بستے! کشمیریوں کی جانوں کے ساتھ انسانیت سوز کھیل کھیلا جا رھا ہے اور اس میں پاکستان ہندوستان سمیت سارے اقوام عالم کے ممالک شامل ہیں!

اگر کشمیر میں تیل ہوتا یا کشمیر میں عیسائی بستے ہوتے تو انسانیت کے دعوے دار راتوں رات resolutions بنا کر تیمورلسٹے کی طرح یا جنوبی سوڈان کی طرح ریاستیں کھڑی کر دیتے۔  کشمیر میں انسانیت سوزی مغرب سے پروانہ لیکر کی جاتی ہے۔ فرانس ہندوستان کے حق میں بولے گا کیونکہ فرانس نے اپنے مگ طیارے بیچنے ہیں۔ امریکہ ہندوستان کے حق میں بولے گا کہ ہندوستان امریکی اسلحہ امپورٹ کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

اور رھا پاکستان تو یہ پاکستان کی مجبوری ہے کہ ہمیں کشمیریوں کا ساتھ دینا ہے – ہر حال میں دینا ہے۔ ماضی میں پاکستان میں سیاسی اور عسکری قیادتوں میں ہمیشہ ناقاچی رہی ہے اور یہ ایک اہم وجہ رہی ہے کہ ہمارا کشمیر مؤقف کمزور رھا ہے۔ اب پہلی بار عسکری اور سیاسی قوت میں ہم آھنگی نظر آ رہی ہے اور ابھی سے ہندوستان بوکھلا اٹھا ہے۔ مسئلہ کشمیر وقت پر نہ سلجھا کر اقوام متحدہ نے ایسے حالات پیدا کر دئیے ہیں کہ اب اس مسئلے کا حل کسی جنگ کے سوا نہیں!

مگر افسوس یہ ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں!

کشمیر کا حل بالکل سیدھا اور صاف ہے: کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔

اسکا صاف مطلب ہے کہ ہندوستان کشمیر سے دسبردار ہو جائے جو کہ ہندوستان تسلیم کر ہی نہیں سکتا۔

اسکا ایک حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستانی کشمیر اور ہندوستانی کشمیر کو آزاد ریاست بنا دیا جائے۔ اور انکو کل اختیار دیا جائے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کیسی روا رکھنا چاہتے ہیں۔

Masla Kashmir Ka Bhiyanak Sach

بقلم : مسعودؔ 

Masla Kashmir Ka Bhiyanak Sach

 

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment