Current Affairs

Jang Khed Naii Hondi

جنگ کھیڈ نئی ہوندی ۔۔

Jang Khed Naii Hondi, war tension, relation between pakistan and india

سوشل میڈیا کے جنگجو

سرحد کے دونوں جانب دونوں ممالک کے فیس بکی جیالوں کو دیکھیں تو لگتا ہے! گویا جنگ اپنی پوری ہولناکیوں کے ساتھ جاری ہے۔

اور دونوں ممالک کے جیالے رات ہونے سے پہلے جنگ جیتنے کا جذبہ رکھتے ہیں،! ایک نے لاہور میں ناشتہ کر لیا ہے! اور دوسرے نے دھلی میں اپنا پرچم گاڑ دیا ہے۔

کچھ جیالے ایٹمی فیوژن میں اس طرح ماھر دکھائی دیتے ہیں! کہ انہیں نے فلمیں پوست کر دی ہیں کہ ایٹم کیسے چلتا ہے۔!

کس کا ایتم کتنا طاقتور اور کہاں تک دشمن کا نام و نشان مٹا سکتا ہے۔! اور کیسے اسکی تباھی سے بچا جا سکتا۔

جوھری تباھی

یورپ میں ذہنی تربیت ایسی کی جارہی ہے! کہ عوام کو ایٹمی تباھیوں  اور اسکے بعد پیدا ہونے والے سالہاسال کی ماحولیات کی تباھی کا شعور ہے

مگر اسی لمحے یورپ انسانی پستی کی بدترین مثال بن جاتا ہے۔

اسی عوام کو جہاں ایٹمی جنگ کی ہولناکیوں کا درس دیا جاتا ہے! وہیں انکی یہ تربیت بھی کی جاتی ہے کہ “ہمیں اگر ماحولیات کی فکر نہ ہو تو ہم کب کا مسلمانوں پر ایٹم بم پھنک چکے ہوتے”! – یہ سوچ میں نے خود سنی ہے!

جنگ کا نام لینا آسان ہے مگر جنگ کرنا بہت مشکل ہے۔! جیسا کہ عمران خان نے کہا کہ آپ جنگ تو شروع کر سکتے ہو،! مگر اسکے اثرات کی تباھیوں سے بچنا مشکل ہے۔

دونوں ممالک جانتے ہیں کہ سرحد کی دونوں جانب جوھری توانائی موجود ہے۔!

اور پھر دونوں ممالک جانتے ہیں! کہ ایک جوھری جنگ دونوں ممالک کی آنے والی کئی نسلوں کو مفلوج کر کے رکھ دے گی۔!

دونوں ممالک جانتے ہیں کہ اگر اُدھر تباھی ہو گی تو اِدھر بھی کچھ نہیں بچے گا !– بلکہ ایسی ایک جنگ میں جو نقصان ہندوستان کا ہو گا وہ زیادہ ہے۔!

لا ابالی سوچ

شاید ہمارے ممالک میں یہ سوچ ہی پیدا نہیں کی جاتی ہے جنگ کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوئی!

آج تک کوئی جنگ ایسی نہیں لڑی گئی،! جس نے کسی مسئلے کو حل کیا ہو۔! برعکس اس سے مزید مسائل کو جنم دیا ہے۔

مزید تباھیوں اور بربادیوں کی داستان رقم کی ہے۔! جنگ کی تباھیاں کئی دھائیوں تک اپنا اثر چھوڑتی ہیں۔! معیشت کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔

اور اس وقت جو حالات ہیں وہ پاک و ہند کی معیشت کے تباھی کے حق میں نہیں !– خاص کر پاکستان کے حالات کے لیے سخت نقصان دہ ہو نگے۔!

یہ ایک “عام” جنگ کی بات ہے! اور جب بات ہو جوھری تباھی کی تو شاید ہماری قومیں یہ نہیں جانتں کہ جوھری تباھی صرف پاک و ہند تک محدود نہیں رہے گی! بلکہ یہ پورے جنوبی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی! اور اس کے ہولناک اثرات کئی ایک دھائیوں تک سروں پر منڈلاتے رہیں گے۔!

اس وقت اس خطے میں کوئی ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ مغربی دنیا کی معشیت کا ایک بہت بڑا دارومدار ہندوستانی آئی ٹی انڈسٹری پر موقف ہے۔

ایٹمی جنگ کیا تباھی مچا سکتی ہے کہ بات مغربی ممالک بھی جانتے ہیں لہٰذا وہ کسی بھی ایسی جنگ کے حق میں نہیں ہوں گے۔!

جنگ نہیں ہوتی

جنگ اس لیے بھی نہیں ہو سکتی یا ہو گی کہ اس وقت کوئی جنگ امریکہ بہادر کے مفاد میں نہیں۔

جب تک دنیا میں کوئی جنگ امریکی مفاد میں نہ ہو، وہ نہیں ہو گی۔! دنیا میں پچھلے 40 برس میں جہاں جہاں جنگ ہوئی ہے اور میں یا امریکی مفاد تھا یا روسی۔

اسوقت کسی کا کوئی مفاد نہیں۔

جنگ اس لیے بھی نہیں ہو سکتی یا ہو گی کی پاک بھارت جنگ صرف پاک بھارت جنگ ہی نہین بلکہ عالمی جنگ کے چھڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔!  دنیا سے امریکہ نکال لیں، دنیا میں امن ہو جائے گا۔

اسوقت الیکشن کا دوردورہ ہے اور دنیا کے دوسرے کئی ایک ممالک میں جہاں مسلم دشمنی ضروری ہے! وہاں ہندوستان میں مسلم دشمنی کیساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف زہر اگلنا ضروری ہے، جب تک ہندوستانی پارٹیاں ایسا نہیں کریں گے وہ مقبول نہیں ہونگی۔

یہ سب وقتی ذہنی خناس ہے جو وقت کے ساتھ تھم جائے گا۔

افسوس

مجھے افسوس ہے تو اس غلیظ قوم پر ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ ہم ہندوستان کے بغیر چل نہیں سکتے۔

ہمارے فنکار سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں جا کر پرفارمنس نہ کرنے سے وہ فنکار نہیں بن سکتے !– ان لوگوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اچھا ہوتا ہے۔

وہ غلیط قوم کو ہندوستانی نیم عریاں اداکارؤں کو دیکھ کر اپنے جذبات بڑھکاتے ہیں انکے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔

افسوس و ملال ہے تو اس بات کہ ہماری قوم ذہنی پسماندگی کا شکار ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر جنگیں جیتنے کا جذبہ رکھتے ہیں مگر اپنی ہی رگوں میں چھپے ہوئے انہیں کے ناسوروں کو لیڈر مان لیتے ہیں۔

افسوس و ملال ہے کہ ہم نے اپنی خودی گروی رکھی ہوئے ہے جو صرف ایسے دنوں میں ہی جوش مارتی ہے۔Jang Khed Naii Hondi, war tension, relation between pakistan and india

بقلم: مسعودؔ

Jang Khed Naii Hondi, war tension, relation between pakistan and india

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment