Meri Tehreerein Politics Shab-o-Roz

Aslah Ki Daur Aur Pakistan!

Blog: Hindustani Jangi Junoon

Aslah Ki Daur Aur Pakistan!

اسلحہ کی دوڑ اور پاکستان!

روس اور اسرائیل سے جدید ترین اصلحے کے معاہدے کرنے کے بعد اب ہندوستان نے ۲۰۰ جدید ترین طیاروں کی خریداری کے لیے فرانس سے بھی رابطہ کرلیا ہے۔ یوں ماضی کی طرح ایک بار پھرہندوستان نے خطے میں اصلحے کی دوڑ شروع کردی ہے۔ پاکستان اپنے موقف پرہمیشہ سے قائم رہا ہے اور اب بھی اُسی موقف پراِس توازن کو برقراررکھنے کے لیے امریکہ،فرانس اور برطانیہ سے اصلحہ کی خریداری پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ یہ بات بھارتیوں کو ہمیشہ آگ کی طرح جلاتی ہے کہ پاکستان ہندوستان کی برتری کو تسلیم نہیں کرتا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اصلحہ کے انبار لگا لینے سے ایک ملک دوسرے پر سبقت لے جائیگااور خود کو خطے کی بڑی طاقت ثابت کرسکے گا؟ ہرگز نہیں یہ محض تباہی اور بربادی کاسامان ہے جو اِس خطے کی عوام کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے اکٹھا کیاجارہا ہے۔بڑی طاقتوں کی یہ ایک بہت سوچی سمجھی چال ہے کہ دنیا کا نقشہ تبدیل کرنے کے لیے اس خطے میں اصلحے کا انبار ہونا ضروری ہے۔یہ اصلحہ پاکستان کی سالمیت کے لیے کسی مہلک بیماری سے کم نہیں، مگر ہندوستان کوامریکی ایک چال کے تحت استعمال کررہے ہیں کیونکہ چین بھی امریکی نظر میں ایک کانٹے کی طرح چبھاہوا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی عوام زبردست غربت اور جہالت کا شکار ہے، کیا اصلحہ کی دوڑ ،جس میں دونوں ممالک ایک دوسرے سے پیچھے نہیں،اِس غربت اور جہالت کو کم کرستکی ہے؟؟ نہیں۔

ہندوستان میں بظاہر تو سیاسی استحکام سمجھاجاتا ہے مگر ہندوستان آج بھی ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ آج بھی کئی ایک ایسے صوبے ہیں جہاں پر آزادی کی جنگ صرف ایک چنگاری کی منتظر ہے۔پاکستان نے اپنی intelligence کواِس آگ کو بھڑکانے کے لیے بالکل استعمال نہیں کیا اور یہ ایک بہت بڑی ناکامی ہے۔ ہمیں ہندوستان کی صفوں میں گھس کر ایسی تباہی مچانی چاہیے تھی کہ سقوطِ ڈھاکہ کے نقوش مٹ جاتے، مگر ہمارے اپنے ملک میں سیاسی استحکام کے نہ ہونے کی وجہ ہے ہم اِس سرد جنگ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

اِس سرد جنگ کا آغاز اُس وقت ہوجاناچاہیے تھا جب ہندوستان کو ساری دنیا سکھوں کے وحشیانہ قتلِ عام میں برابھلا کہہ رہی تھی اور سوائے روس کے کوئی بھی ہندوستان کو اُس وقت حق بجانب نہیں سمجھتا تھا۔پاکستان اُس وقت دنیا میں اپنے کشمیر موقف کو تقویت پہنچا سکتا تھا، اوردنیا پر باور کراسکتا تھا کہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم کیاکیا شدت اختیار کرچکے ہیں۔اور ہم شاید اُس وقت امریکی ہمدردیاں بھی سمیٹ لیتے کیونکہ امریکہ سویت یونین پر ضربکاری کا سوچ رہا تھا، شاید کشمیر مسئلہ اس وقت کسی اور مقام پر ہوتا۔مگر ہمارے ملک میں جنرل ضیأ کی ڈکٹیٹرشپ اورہندوستان دوستی کی وجہ سے اِس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایاگیاجوکہ کسی بھی ناکامی سے کم نہیں۔

موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں توا یک بات محسوس ہوتی ہے کہ ہندوستان کواِس بات کی بہت اچھی طرح سمجھ ہے کہ وہ کبھی بھی پاکستان کے خلاف اکیلے جارحیت نہیں کرسکتا، بیشک اْس کے پاس اصلحے کے انبار کئی گناہ زیادہ ہوجائیں۔یہی وجہ ہے کہ اْس نے کئی بار امریکہ کے پاؤں چومے کہ پاکستان کو بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا جائے۔

اصلحے کے انبار لگانے سے کوئی کسی کو حراساں نہیں کرسکتا، جنگیں جذبوں سے جیتی جاتی ہیں۔

Aslah Ki Daur Aur Pakistan!

بقلم: مسعودؔ  –  13 دسمبر 2004

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment