Current Affairs

Blog: Hindustani Jangi Junoon

Blog: Hindustani Jangi Junoon

Blog: Hindustani Jangi Junoon

ہندوستانی جنگی جنون

پلوامے دھماکہ

پلوامے میں دھماکے سے 40 کے لگ بھگ ہندوستانی فوجی مارے گئے۔

ہندوستانی حکومت اور عوام اسے پاکستان سے منسلک کر کے ای ایسا طوفانِ بدتمیزی برپا کر رکھا ہے کہ الامان الحفیظ۔

ہندوستان کے دماغ  پر ایک مدت سے جو جنگ کا بھوت سوار ہے اسکے پیچھے ایک وجہ ہے۔ یاد رھے کہ ہندوستان نے 9/11 کے ایک ہی ہفتے بعد اپنا ہی مسافر طیارہ اغوا کروا کے، تقریباً امریکہ کے قدموں میں گڑگڑا کر پاکستان کو بھی افغانستان کے ساتھ شامل کر کے پاکستان پر حملے کروانے کی حتمی الامکان کوشش میں تھا۔  اور انکی بھرپور سفارتی کوشش تھی کہ امریکہ پاکستان پر حملہ کرے اور ہندوستان اسکا ساتھ دے، اسکے لیے وہ امریکہ کے قدموں میں مظلوم بن کر بیٹھ چکا تھا۔

اس واقع پر بی بی سی نے تبصرہ کیا کہ یہ دنیا کا سب سے مضہکہ ترین اغوا تھا! یہ اوقات ہے ہندوستانیوں کی۔

اسکے بعد ہندوستان نے اسلحے کے انبار لگا دئیے۔

مغرب کی شہ

ایک وقت سے مغرب کی ہندوستان کے اوپر ایک خاص عنایت ہے۔ اسی خاص عنایت کے بل بوطے پر ہندوستانی ایک ایسی ہوا میں اڑ رہے ہیں کہ جہاں سے گرے تو انکے پڑخچے اڑ جائیں گے۔ اور کسی کو گرنے میں دیر نہیں لگتی، ہندوستان تو پھر بھی شیشے کے اس گھر کی مانند ہے جو اپنے آپ کو خوبصورت ثابت کرنے کی کوشش میں ہے مگر اندر ہی انتہائی غلیظ اور بدبودار ہے۔ ہندوستان جانتا ہے کہ کشمیر تو صرف ایک اسٹیٹ ہے اور بہت ساری اسٹیٹس میں آزادی کے آگ دبی ہوئی ہے۔

ایسے میں اگر پاکستان سے جنگ کا پنگا لیا تو اچھا نہ ہو گا، بلکہ وہ کئی اسٹیٹس جو اس آگ میں دبی پڑی ہیں ان میں یکدم جان آ جائے گی۔

سکھوں کا قتل

جان آنی بھی چاہیے۔ کیا ہندوستانی سمجھتے ہیں کہ سکھوں نے وہ 4 سے 5 ہزار سکھوں کا قتل جو گولڈن ٹمپل میں ہوا، اسے بھول گئے ہیں؟ سکھ قوم ایک چنگاڑی کی منتظر ہے، جب وہ چنگاڑی بھڑک اٹھی ہندوستان کہیں کا نہیں رہے گا۔ آسام میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل، گجرات مین قتل اور کئی اسٹیٹس اسی طرح تڑپ رہی ہیں۔ ہندوستان آگ سے کھیل رہا ہے۔ سکھوں کے قتلِ عام کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ آزادی کے آگ ٹھنڈی پڑ گئی ہے مگر نہیں ٹھنڈی نہیں پڑی صرف دبی ہے۔ اور کشمیری شاید ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں ہے – کشمیری شاید پنجاب کے سکھ نہیں جو آسانی سے اپنی اموات کو بھول جائیں گے۔ کشمیری ہندوؤں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان دھشتگردی کی ٹرم عام ہونے سے بہت پہلے ہی دھشتگرد ریاست بن چکی تھی۔ جب کوئی اپنے ہی ملک میں کسی کے مذہبی دوارے میں جو امن کی شانتی کی علامت ہوتا ہے اس میں اپنے دہشتگرد فوجی داخل کرا کے ہزاروں انسان مروا دے تو وہ ریاستی دہشتگرد ہوتی ہے، ہندوستان اپنے کالے منہ سے یہ دھبہ نہیں دھو سکتا کہ وہ ریاست دھشتگردی کی اپنی مثال آپ ہے۔ گجرات میں جو قتل غارت کروائی گئی کیا وہ دھشتگردی نہیں تھی؟ جو آسام میں ہزاروں انسان مع بچے  دھشتگرد ہندوؤں نے قتل کیے کیا وہ دھشتگردی نہیں تھی؟

رہی بات پاکستان کی تو ہندوستان میں دھشتگردیاں کروانا کسی صورت سودمند نہیں۔ پاکستان میں خود ہندوستانیوں کی دھشتگردیاں عروج پر رہی ہیں، کلبھوشن یادیو کا کیس آج ہی عالمی عدالت میں چل رہا ہے کیا وہ ہندوستانی نہیں؟ اسکو دہشتگردی کس نے سکھائی ہے؟

عمران خان کا خطاب

آج عمران خان نے ایک مختصر سا خطاب کیا اور جو بھی کہا سو فیصد درست اور بجا کہا۔ ہندوستانی ڈائلاگ کی جانب آنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ انکے گھر میں دانے ہیں انکے جاھل بھی سیانے ہیں۔ ایسے ہی کچھ جاھل نہ سہی مگر کم ظرف لوگ اس وقت ہندوستانیوں کو طیش دلا رہے ہیں اور اپنے الیکشن کو کامیاب کرانے کے لیے ہر طرح کے غلیظ اور گھٹیا حربے کی جانب جا رہے ہیں۔ عمران خان نے پہلے ھی کہا تھا کہ “چھوٹے قد کے لوگ بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں”۔

کبھی کسی شے کا بائیکاٹ کبھی کسی کا – میں کہتا ہوں کہ اچھا ہے کریں بائیکاٹ تم کیا سمجھتے ہو کہ پاکستان تمہارے بغیر چل نہیں سکتا؟ تمہارے ساتھ جو جو ڈیلییں نوازشریف نے کی ہوئی ہیں ہمیں انہیں کینسل کرنا چاھیے، ٹماٹروں کی بات ہے تو ہماری سرزمین میں کیا ٹماٹر نہیں پیدا ہو سکتے؟ ہمیں تو خوشی ہو گی کہ ہم اپنی کھیتوں کو آباد کریں، کم امپورٹ کریں۔۔۔۔ یہ سب گھٹیاپن کی باتیں ہیں جو تم کر رہے ہو۔ حقیقیت یہ ہے کہ تمہارے اندر ایک کمپلیکس ہے کہ تم بڑا بننا چاھتے ہو مگر حقیقت میں تم گند کی موری سے بھی چھوٹے ہو!

کمظرف!

مجھے افسوس ہی نہیں ملال ہے پاکستانی قوم پر! یہ وہ قوم ہے جو سمجھتی ہے کہ بالی ووڈ میں حاضری نہ دی تو یہ لوگ فنکار نہیں کہلا سکتے حالانکہ آج جو سلوک ان کے ساتھ ہو رہا ہے وہ اسی کے مستحق ہیں۔ میں نے کبھی انڈین فلم، ڈرامہ یا گانا نہیں سنا اور مجھے آج تک اس کی کمی محسوس نہیں ہوئی جبکہ کہ میں نے تقریباً تمام عمر ہندوستانی آئی ٹی کنسلٹنٹ کے ساتھ ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر کام کیا ہے۔ مجھے نفرت ہے تمہاری ایک ایک بات سے۔ میں محمد رفیع کو نہیں سنو گا تو میری زندگی میں کمی نہیں!!! میں تمہاری تقریباً ننگی ناچتی ہوئی کنجریاں نہیں دیکھوں گا تو مجھے کمی نہیں ہو گی۔ یہ کمی ان کمظرفوں کو ہی ہو سکتی ہے جو اس کے بغیر رہ نہیں سکتے! وہ کمظرف جو آج فیس بک یا آگے پیچھے سوشل میڈیا پر خود کو پاکستانی ثابت کر رہے ہیں جو پھر انہیں فلموں اور اسٹارپلس کے ڈراموں سے اپنا دل بہلایا کریں گے۔

رہی بات جنگ کی تو کر لیں! جنگ کر کے دیکھ لیں! کیا ہو گا؟ ایک ایٹم بم ادھر گرے گا ایک ادھر – عالمگیر تباھی ادھر ہو گی عالمگیر تباھی ادھر ہو گی – کیا تباھی جنگ کی کامیابی کا نتیجہ ہے؟  عمران خان کا ایک ایک لفظ درست ہے۔۔۔

Blog: Hindustani Jangi Junoon

بقلم: مسعودؔ

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment