Meri Shairi Shab-o-Roz

Roag – Qitaa

Meri Shairi: Roag - Qitaa
Roag

وہ وقت بھی آتا ہے کہ سورج کی تپش میں لوگ!

ہو جاتے ہیں گم سراپا، کرتے ہیں سنجوگ!

پھر اے دل کیا غم کہ لوگ کانٹا صفت کہتے ہیں

پھول سے چہرے بھی تو دیتے ہیں عمر بھر کا روگ!

Meri Shairi: Roag – Qitaa

مسعودؔ

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

December 2018
MTWTFSS
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 

PG Special

Pegham

FREE
VIEW