Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Yadon Ko Sametney Mein…

Yadon Ko Sametney Mein

Meri Shairi: Yadon Ko Sametney Mein…

یادوں کو سمیٹنے میں ماہ و سال پڑے تھے

یادوں کو سمیٹنے میں ماہ و سال پڑے تھے
داستانِ عشق سننے کو لوگ تیار کھڑے تھے

ایک ہی سانس میں سنا دینا میں رودادِ عشق
میرے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کے وہ رو پڑے تھے

ڈوبتے ہوئے دل کی نبضیں بکھر رہی تھیں
بپھرتے ہوئے جذبوں کے ساغر چھلک پڑے تھے

بویا ہے جہاں تو نے اپنی شادمانیوں کا پھول
اُسی زمیں میں میں نے اپنے ارمان گڑے تھے

نہ توڑ اِسے اے ظالم یہ کاسہ ہے میری آنکھوں کا
اشکوں کے چاند ستاروں سے یہ موتی جڑے تھے

عشق نے کر دیا ہے تمام جہاں سے لا تعلق
ورنہ کرنے کو دنیا میں مسعودؔ کام بڑے تھے

Meri Shairi: Yadon Ko Sametney Mein…

مسعودؔ

armaan, chand sitarey, daastan e ishq, hont, maah o saal, rudad, sagar, saghar, zalim, zameen

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment