Current Affairs

Hassan Nisar aur Facebooki Pakistani

Hassan Nisar aur Facebooki Pakistani

Hassan Nisar aur Facebooki Pakistani

حسن نثار اور فیس بکی پاکستانی

پیش لفظ:

فیس بک کے ایک گروپ مین حسن ںثار کی نسبت ایک دو تصویر دیکھی، خون کھول اٹھا، یہ نہیں کہ میں حسن نثار کا دفاع کر رہا ہوں، ہرگز نہیں بلکہ۔۔۔ مضمون پڑھیے۔۔۔

حسن نثار کی الجھن یہ ہے کہ وہ ایک ایسی قوم کو اپنے الفاظ کے ذریعے سدرھارنے کی کوشش کر رھا ہے کہ جس نے جہالت اور کندذہنی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور اپنی عقل و شعورکے جانور کو ایک ایسے پنجرے میں قید کیا ہوا ہے کہ جہاں وہ بیچارہ انتہائی پسماندگی کا شکار اپنی موت کا انتظار کررہا ہے ، ایسی قوم کو سمجھانا حکیم لقمان کے بس کی بھی  بات نہیں، حسن نثار کس کھیت کی مولی ہے؟

اس قوم کی فطرت بن چکی ہے کہ ہم الفاظ سنتے ہیں انکے پیچھے چھپے ہوئے مفہوم کو نہیں سمجھتے۔ حسن نثار نے تو اقبال کو لوکل شاعر کہا، میں یہ بھی نہیں کہتاکیونکہ اقبال جس قوم کے لیے “نازل” کیے گئے تھے وہ اپنا کام کر گئی اگر اقبال سے ہمیں اتنی ہی ہمدردیاں ہیں کہ حسن نثار کا لوکل شاعر کہنا برا لگتا ہے تو مجھے بتائیں کہ اس قوم نے اقبال کی شاعری پر کتنا عمل کیا ہے؟ کیا انقلاب برپا کیا ہے ہم نے اقبال کے شاعری کو پڑھ کر؟ اپنے اندر، اپنے ملک کے اندر؟ کیا صلہ دیا ہے اس ملک نے اس عوام نے اقبال کے فرزند اور انکی نسلوں کو؟ اقبال کا ایک مقبرہ بنا کر اس پر منوں وزنی پتھر رکھدیا اور سال کے سال انکی سالگرہ پر مہنگی مہنگی تقاریب کر کے اقبالیات کے چرچے کر کے مہنگے مہنگے کھانے ٹھونس کر اگلے سال اقبال ڈے کے انتظار میں لگ جاتے ہیں ،اپنی مساجد کو اقبال کے شعروں سے مزین کر لیتے ہیں۔۔کیا یہ صلہ ہے اقبالیات کا؟؟؟ کیا اس عظیم انسان کی شاعری اسکی سوچیں اسکی فکر یہ deserve کرتی ہے کہ ہم نے اسے کتابوں میں قید کردیاہے؟؟؟

سچ یہ ہے ہماری فطرت ہے طیش میں آنا ہے، ہم سبق سیکھنے کی بجائے آگ بگولہ ہو کر انسانوں کی توھین و تذلیل شروع کردیتے ہیں اور جو سبق وہ اپنے الفاظ سے دینے کی کوشش کررھا ہوتا ہے اس سے منافقت کا سا رویہ اختیار کرلیتے ہیں – یہی منافقت ہماری اقبال اور اسکی شاعری سے ہے! حسن نثار درست کہتا ہے!

Hassan Nisar
Hassan Nisar

پوسٹ لگانے والے فاضل دوست نے کہا کہ حسن نثار مولویوں کو گالیاں دیتا ہے۔۔۔۔ موجودہ دور میں جو جو انکشافات سامنے آرہے ہیں انکے پرکھتے ہوئے میں یہاں تک کہتا ہوں کہ یہ مولوی ، پیر، عامل، تو گالیوں کے بھی قابل نہیں رہے ، ان میں اکثر کا براہِ راست گلا تن سے جدا کردینا چاہیے۔۔۔ کیا کوئی تصور بھی کر سکتا ہے کہ مساجد میں بچوں کے ساتھ جنسی ہوس پوری کی جائے؟ او کسی خبیث کی اولادو! تم جیسے سوروں پر اللہ کی مار! تم انسانیت کی پست ترین شکل ہو اور تم جیسے لوگوں کو انسان کہنا انسانیت کی توھین سے بھی بدترین جرم ہے! عورتوں کے جسموں سے پیری فقیری کے آڑھ میں ہوس پوری کرنے والے بدبخت سوروں تمہیں سوسال کی سنگباری سےبھی مارا جائے تو کم ہے کہ تم اللہ اور اللہ کا کلام پڑھ کر یہ بداعمال کرتے ہو۔۔۔۔ یہ سب جان کر اس ملک کے کتنے علما میدان میں آئے ہیں؟ کتنوں نے ان لوگوں کے خلاف عملا کچھ کیا ہے؟ 

یہی وہ غصہ ہے جو حسن نثار کی رگوں میں پھڑک رہا ہے کہ معاشرہ تباھی کے دھانے پر کھڑا ہے اور ملاووں میں اتنی غیرت نہیں کہ وہ آگے بڑھ کر عملا کچھ کر کے دکھائیں. رمضان کے دن آتے ہیں تو یہ لوگ اپنے اپنے حجروں سے نکل کر ٹی وی سیٹوں پر آ کر چند ایک سوالوں کا جواب دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں جیسے انکے فرائض پورے ہو گئے، قوم کر بڑھکانا، طیش دلانا ، ایک دوسرے پر فتوے کسنا ، اسکے علاوہ کیا کوئی اور عمل ہے انکے دفتر میں؟؟؟؟ جو چند ایک مولوی نکلے ہوئے ہیں وہ فقط حکومت کے چکروں میں ہیں یا ان زبان بھی اتنی ہی غلیظ ہے جتنی حسن نثار کی انکے مانند!

علماووں کی نسبت بات سن کر طیش میں آنے والوں سے میرا بھی ایک سوال ہے، مجھے کوئی بتائے گا کہ پچھلے سینکڑوں سالوںمیں کتنے مسلمان سائنسدان ایسے پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے عملا کوئی ایک کارمانہ انجام دیا ہے جس پر ہم فخر کر سکیں؟ آسمان کی کھوج لگائیں تو کافر، زمین کو چھلنی کر کے اس سے مدنیات تیل ہیرے جواہرات نکالیں تو کافر، بجلی ایجاد کریں تو کافر، ٹیکنولوجی کو فروغ دیں تو کافر – مجھے کوئی ایک ایسا کام بتا دیں جس میں مسلمانوں کا نام آتا ہو؟؟؟ کوئی ایک! اور قیامت یہ ہے کہ ان کافروں کو علم دینے والے مسلمان ہیں، قیامت یہ ہے کہ جس قوم کو پہلا لفظ ھی” پڑھ” کاسکھایا گیا اس کا دامن اسقدر خالی؟؟؟

بات طیش میں آنے والی نہیں – ہمارے دامن بالکل خالی ہیں! ہمارے پاس جھوٹے دعووں کے سوا کچھ نہیں، بھڑکیں مار لینا، ایک دوسرے کو کافر کہہ دینا،کھیرہ سنتی طریقے سے کاٹنا، ہاتھ ناف کے اوپر رکھنا ہے کہ نیچے، جن باتوں پر بحث لاحاصل ہو ان پربحث کر کے وقت برباد کرنےکے سوااور ہے ہی کیا ہمارے دفترمیں؟اگر کوئی دین کی اصل روح کو سمجھانے کی کوشش کرے تو اسکے ، اسکی ذات کے بخئیے تک ادھیڑ دیتے ہیں، دھونس کے ساتھ دین کو ایمپلی منٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Hassan Nisar
Hassan Nisar

اتنا پرچار ویلینٹائن ڈے کا یورپ میں نہیں ہوتا ہو گا جتنا ہم کرتے ہیں، جس بات کو جتنا اچھالا جائے وہ عوام میں انتی مقبول ہوتی ہے! ہم وہ لوگ ہیں جو نبی پاکﷺ کی شان میں سات سمندر پار توھین ہو تو آپے سے باھر ہو جاتے ہیں ، تہذیب و تمدن کا ہر پہلو اپنے ھاتھ سے چھوڑکر توڑ پھوڑ دھنگا فساد پر اتر آتے ہیں مگر کبھی ہم نے اپنے فیس بک پر نظرڈالی ہے جو ہمارے موبائل میں ہمارے جسم کا ایک حصہ بن کر ہمارے اتنا ساتھ رہتا ہے کہ ہم نمازیں بھی پڑھتے ہیں تو فیس بک پر اسکا اشتہار کرتے ، کعبہ میں کھڑے ہوکر بھی ہمارے منہ فیس بک کی طرف ہوتے ہیں، ہمارے اعمال میں سراسر نمائش ہے، دکھلاوا ہے، کبھی سوچا ہے کہ فیس بک پر بے شمار پیجز ہیں جن پر نبی پاک ﷺ کی توھین ہوتی ہے،کبھی فیس بک کابائیکاٹ کرنے کا سوچا؟ نہیں ہرگز نہیں کیونکہ فیس بک کے لائیکس ہمیں جان سے پیارے ہیں، بھلے اس پر نبی پاک ﷺ کی توھین ہوتی ہو ہمیں کیا؟؟؟
ہماری مسلمان غیرت اس سے بھی سمجھوتہ کر لیتی ہے اورنظرانداز کردیتی ہے۔۔۔
یہ ہے منافقت کی بدترین مثال! 

کیونکہ اگر فیس بک نہیں ہو گا تو ہم کنڈوم، سیکس، جیسے الفاظ کہاں استعمال کریں گے؟ اب کوئی اپنی ماں بہن سےتو کنڈوم کی بات نہیں کر سکتا نایہ تو وہ لفظ ہے جو انکے کان تک بھی نہیں پڑنا چاھیےمگر فیس بک پر ہم بے دھڑک ایسے الفاظ استعمال کررہے ہوتے ہیں گویا ادھر آنے والے لڑکیاں کسی کی ماں بہنیں نہیں، وہ ویسی ہی ٹیکسیاں ہیں جیسی خواجہ آصف انہیں سمجھ کر پاکستان کی پارلیمنٹ جسکا اظہار کرتاہے!
ہمارے نوجوان سخت غیور، نیکی اور عظمت کی بلندی کو پہنچے ہوئے ہیں کہ وہ ویلینٹائن پر لعنت بھیجتے نہیں تھکتے – بھلے سارا سال فیس بک کے مختلف گروپس میں بچیاں پٹانے کے چکروں میں لگے رہیں۔۔۔

حسن نثار درست کہتا ہے۔۔۔۔ فیس بک سے ہمارا مفاد جڑا ہوا ہے اس لیے یہاں کا گندا ماحول بھی قبول ہے اور توھینِ رسالت بھی قبول ہے۔۔۔ ہم مسلمان ہیں یہ ہمارا ضمیر ہے!

Hassan Nisar aur Facebooki Pakistani

بقلم: مسعودؔ  –  ڈنمارک 12 فروری 2018

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.