Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Suhag Raat

Meri Shairi: Suhag Raat

Meri Shairi: Suhag Raat

سہاگ رات

سینے سے لگانے پر

شدتِ پیاس مزید بڑھی تو سینے لگی جس دم
اٹھارہ برس تجھے سینے لگانے کوبے قرار رہے ہم

اب آئی جو بانہوں میں تو ان برسوں کی پیاس بجھا دو
ہونٹ سے ہونٹ دور کیوں رہیں کر دو یہ فاصلہ کم

اس قدر قریب آگئے کہ گال سے گال ٹکرانے لگے
سانس سے سانس ٹکرانے لگیں، دور ہوئے سب غم

انگشت تیری میرے لبوں پہ، میری تیرے لبوں پر
نگاہیں چار ہوئیں تو دل چاہا تجھے چوم لوں صنم

ہونٹ تو نے ہلائے تو دل سنبھل نہ سکا میرا
تو بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی، ایک ہو گئے ہم

Meri Shairi: Suhag Raat

بوسہ لینے پر

بحت بلند ہیں جبھی دہکتا شعلہ ہونٹوں میں لیتا ہوں
آہ بھی نہیں نکلتی ہونٹوں سے اسقدر میٹھا لگتا ہے
اپنے ہونٹوں کو چھپا لو خدارا، دل مچل اٹھتا ہے میرا
نگاہ جاذب ہو تو ہلانا مت! شک ہونے لگتا ہے

شب بخیر

اگ عجب خو پڑ گئی ہمیں شب سوتے وقت
اپنے بستر پہ تجھے خیال کر کے شب بخیر کہتے ہیں
تیرے ماتھے کو چوما، ہل گئے تو دیکھا تکیہ تھا
کتنے بدخو ہو گئے ہیں کہ تیرے ہی ساتھ سوتے ہیں

صبح بخیر

قطرے نیساں کے سمجھا میں موتی تیری زلفوں کے
میرے رخ پرتیری زلفیں پریشاں ہوئیں، نہانے کے بعد

میرے بالوں میں ترا انگلیاں پھیرنا، چھاتی پہ سر رکھنا
اور سلسہَ خواب بندی ٹوٹنا، تیرا جگانے کے بعد

میرے ہونٹوں پہ اپنی شہادت کو پھیرنا اور شرمانا
زلفوں کی اوٹ سے تیرے ہونٹوں کا ہلنا، مسکرانے کے بعد

صبح بخیر کہنا تیرا، میرا بوسہ لینا اور یہ تیرا حجاب
اس قدر شرمانا کیا مطلب؟ زندگی میں آنے کے بعد

Meri Shairi: Suhag Raat

Meri Shairi: Suhag Raat

مسعود

Suhag Raat, Bosa, Shaadi ki raat, Romantic Urdu poetry, Urdu poetry

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.