Meri Shairi Shab-o-Roz

Badaltey Halaat

Meri Shairi: Badaltey Halaat
Badaltey Halaat

[dropshadowbox align=”none” effect=”lifted-bottom-left” width=”auto” height=”” background_color=”#12064c” border_width=”2″ border_color=”#ffffff” ]

Badaltey Halaat Badaltey Halaat Badaltey Halaat Badaltey Halaat 

بدلتے حالات

[/dropshadowbox]

تجھ سے ملنے سے پہلے

اک آزاد پنچھی کی طرح اڑتا پھرتا تھا ٹہنی ٹہنی
گیت خوشی کے گاتا، نہ جانتا تھا غم کے معنی
میرے گیتوں کی لے تھی ابھی آہ سے ناواقف
پر اک آواز سنی اکثر چمن میں ہاتف
سبزہَ چمنستان تھا گوشہَ جنت میرے لیے
ہم نواؤں کی صحبت تھی محبت میرے لیے
وادیَِ پُرسکون کے بلند شجر پر بسیرا میرا
مطمئن زندگی سے تھا نہ غم تیرا میرا
اک رات جو دامنِ کوہ میں سجی محفلِ یار
تیری دُزدیدہ نگاہی نے کیا دل کو شکار
اک موجِ تمنا بھٹکنے لگی بحرِ دل میں
ہم گام در گام چلیں محبت کی منزل میں

تجھے پانے کے بعد

ہزار سجدہ بجا لاؤں میں دربارِ خدا میں
کتنی تاثیر نکلی تجھے اپنانے کی دعا میں
کتنی مٹھاس ہے اللہ رے تیری میٹھی صدا میں
کہ ہر لحظہ میں ہمہ تن گوش ہو جاؤں اِس صدا میں
میرے زخموں کیلیے تیرے سانسوں کی ہوا دعا ہے
تیرا یہ اندازِ بیاں باخدا بجا ہے
تو حسیں ہے، نازنین ہے، مہ جبین ہے
قسم خدا کی اس دنیا میں کوئی تجھ سا نہیں ہے

تجھے کھونے کے بعد

کیوں پیار کے دیے کو خونِ جگر سے روشن کیا
سکونِ دل گنوا کے، آہوں سے آباد یہ چمن کیا
آندھی میں حفاظت کی جان کی بازی لگا کر
ہلکی سی آہ سے بجھا دیا تو نے بے رخی دکھا کر
کس سے مانگوں دردِدل کی دوا، یہ بتاؤ
کسے سناؤں میں آہوں بھرا شکوہ، یہ بتاؤ
کہاں ہے وہ محفل جو بہلا سکے دلِ بے قرار کو
کاش کہ مل سکے کوئی سزا بے وفا دلدار کو
ان حسینوں کے نازِ خرام سے رہنا محفوظ دل والو
میرے نفس میں شکوہ ہے، معاف کرنا محفل والو
وائے قسمت تجھے نامنظور ہماری ہی خواہش تھی
اے بے وفائی کے پتلے تو ہزار برس اور جی

مسعودؔ

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھا ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham

FREE
VIEW