Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Badaltey Halaat

Meri Shairi: Badaltey Halaat

Meri Shairi: Badaltey Halaat

بدلتے حالات

تجھ سے ملنے سے پہلے

اک آزاد پنچھی کی طرح اڑتا پھرتا تھا ٹہنی ٹہنی
گیت خوشی کے گاتا، نہ جانتا تھا غم کے معنی
میرے گیتوں کی لے تھی ابھی آہ سے ناواقف
پر اک آواز سنی اکثر چمن میں ہاتف
سبزہَ چمنستان تھا گوشہَ جنت میرے لیے
ہم نواؤں کی صحبت تھی محبت میرے لیے
وادیَِ پُرسکون کے بلند شجر پر بسیرا میرا
مطمئن زندگی سے تھا نہ غم تیرا میرا
اک رات جو دامنِ کوہ میں سجی محفلِ یار
تیری دُزدیدہ نگاہی نے کیا دل کو شکار
اک موجِ تمنا بھٹکنے لگی بحرِ دل میں
ہم گام در گام چلیں محبت کی منزل میں

تجھ پانے کے بعد

ہزار سجدہ بجا لاؤں میں دربارِ خدا میں
کتنی تاثیر نکلی تجھے اپنانے کی دعا میں
کتنی مٹھاس ہے اللہ رے تیری میٹھی صدا میں
کہ ہر لحظہ میں ہمہ تن گوش ہو جاؤں اِس صدا میں
میرے زخموں کیلیے تیرے سانسوں کی ہوا دعا ہے
تیرا یہ اندازِ بیاں باخدا بجا ہے
تو حسیں ہے، نازنین ہے، مہ جبین ہے
قسم خدا کی اس دنیا میں کوئی تجھ سا نہیں ہے

تجھے کھونے کے بعد

کیوں پیار کے دیے کو خونِ جگر سے روشن کیا
سکونِ دل گنوا کے، آہوں سے آباد یہ چمن کیا
آندھی میں حفاظت کی جان کی بازی لگا کر
ہلکی سی آہ سے بجھا دیا تو نے بے رخی دکھا کر
کس سے مانگوں دردِدل کی دوا، یہ بتاؤ
کسے سناؤں میں آہوں بھرا شکوہ، یہ بتاؤ
کہاں ہے وہ محفل جو بہلا سکے دلِ بے قرار کو
کاش کہ مل سکے کوئی سزا بے وفا دلدار کو
ان حسینوں کے نازِ خرام سے رہنا محفوظ دل والو
میرے نفس میں شکوہ ہے، معاف کرنا محفل والو
وائے قسمت تجھے نامنظور ہماری ہی خواہش تھی
اے بے وفائی کے پتلے تو ہزار برس اور جی

مسعودؔ

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment