Meri Shairi Shab-o-Roz

Abhi Tak Hoon Baqaid

Abhi Tak Hoon Baqaid

Abhi Tak Hoon Baqaid

بقیدِ غم

ابھی تک ہوں بقیدِ غم دوستو
لب ہیں خاموش‘ آنکھیں نم دوستو

جگر ہے چھلنی‘ دھڑکن محکوم دوستو
تمہارے ہی انتظار میں رہے ہم دوستو

قیدِ غم بھی ہے عجب ستم دوستو
دکھ ہیں زیادہ سکھ کم دوستو

مسعودؔ

Abhi Tak Hoon Baqaid

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

November 2018
M T W T F S S
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930  

PG Special