Meri Shairi Shab-o-Roz

Hungama e Din Mein Bezargi

Hungama e Din Mein Bezargi

Hungama e Din Mein Bezargi

بیزارگی

ہنگامہَ دن میں بیزارگی، آغوشِ شب میں بیزارگی
دل بیزار ہو تو ہے محفل کے ہر ڈھب میں بیزارگی

ماہ و انجم خاموش ہیں، خاموش ہیں نظارے
جہان و آسمان خاموش ہیں، خاموش ہیں انس و بت سارے

تایکیَِ شب میں ہے، تنہائی کا ساز پُرسوز بہت
اے رفتگانِ ہمسفر! آج ہے تیرا ہمراز پُرسوز بہت

آغوشِ شب میں جستجوئے سکوں ہے مجھے
مہتاب کی ٹھنڈی لَو بھی فسوں ہے مجھے

آرزوئے منزل ہو جسے وہ سفینہَ بے منزل ہوں میں
خود غرض ہی کہہ لو مجھے کہ فقط تیرا سائل ہوں میں

کس قدر شوخ ہے تمنائے بیتاب میری
کہ ہر وقت چومتی ہے خیال میں بنی تصویر تیری

فراق بھی ہے ہم میں، قربت بھی ہے ہم میں
چھپانا چاہا بھی نہ چھپا سکے، کہ محبت بھی ہے ہم میں

مسعود

Hungama e Din Mein Bezargi

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment