Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Aawaz

۔آواز

پریشاں حال‘ افسردہ دل‘ طبیعت ناساز سی ہے
وادئ خیال میں گونجنے والی یہ اک آواز سی ہے

وہ اک گلرنگ‘ مہ رخ‘ نازنین اچنبا سی ہے
حسن کی وہ لاثانی‘ قد کی دراز سی ہے

بات پوچھتے ہو‘ میں تمہیں بتاؤں تو کیا بتاؤں؟
عہد جو کیا تھا اس سے وہ بات راز سی ہے

ڈر ہے کہ یہ راز افشا نہ ہو جائے کہیں
کہ وہ کامنی سی مورت‘ بدن کی گلناز سی ہے

ڈر ہے کہ کہیں وہ شعلہ رخ جلا نہ دے ہمیں
برسانے ہیں شعلے اداؤں سے‘ ہر ادا نازونیاز سی ہے

لن ترانی پہ آجائیں تو مکھ نہیں دکھلاتے مسعودؔ
حشر برپا رکھتے ہیں ہر نظر حشر کے انداز سی ہے

مسعودؔ

Shab-o-roz

About the author

Masood

A hard speaking straightforward person, who has a brain, which works (alhamdolillah). A writer, poet and

Add Comment

Click here to post a comment