Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Aawaz

۔آواز

پریشاں حال‘ افسردہ دل‘ طبیعت ناساز سی ہے
وادئ خیال میں گونجنے والی یہ اک آواز سی ہے

وہ اک گلرنگ‘ مہ رخ‘ نازنین اچنبا سی ہے
حسن کی وہ لاثانی‘ قد کی دراز سی ہے

بات پوچھتے ہو‘ میں تمہیں بتاؤں تو کیا بتاؤں؟
عہد جو کیا تھا اس سے وہ بات راز سی ہے

ڈر ہے کہ یہ راز افشا نہ ہو جائے کہیں
کہ وہ کامنی سی مورت‘ بدن کی گلناز سی ہے

ڈر ہے کہ کہیں وہ شعلہ رخ جلا نہ دے ہمیں
برسانے ہیں شعلے اداؤں سے‘ ہر ادا نازونیاز سی ہے

لن ترانی پہ آجائیں تو مکھ نہیں دکھلاتے مسعودؔ
حشر برپا رکھتے ہیں ہر نظر حشر کے انداز سی ہے

مسعودؔ

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment