Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shaairi: Drarr

Meri Shaairi: Drarr
Drarr

Meri Shaairi: Drarr

دراڑ

قدم قدم پہ جنہیں بخشا ہم نے پھولوں کا ہار
لیے راہ میں کھڑے ہیں وہی کانٹوں کی باڑ

جو کہتے تھے ہمارا پیار ہے بلند ہمالہ سے
سہم گئے ہیں وہ دیکھتے ہی سماج کا پہاڑ

جس کے پیار کو دل کے آنگن میں سجایا مسعوؔ د
اس نے ہی تیرے پیار کے محل میں ڈالی دراڑ

مسعودؔ

Shab-o-roz
Image of Shab-o-Roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

6 Comments

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW