Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shaairi: Kis Sey Karoon Biyaan

Meri Shaairi: Kis Sey Karoon Biyaan
Kis Sey Karoon Biyaan Afsana

Meri Shaairi: Kis Sey Karoon Biyaan

کس سے کروں بیاں

کس سے کروں بیاں، افسانہ تیری جدائی کا
بزمِ دنیا میں ہے امتحان میری شناسائی کا
شناسا تو بہت سے ہیں، ہمزباں کوئی نہیں
مہتاج ہوں اے صنم میں تیری ہم نوائی کا
آ اپنی زبانِ سہل سے کہہ دے عدالتِ دنیا کو
قصور ذرا برابر بھی نہیں اس دوش میں سودائی کا
ہماری زبان ہے دل والوں کی، جسے سماج والے
اپناتے نہیں ہیں کہ دل میں ہے خوف رسوائی کا
کب تلک میں تیری قفس نما آنکھوں میں قید رہوں گا
اے صنم آن پہنچا ہے وقت اب میری رہائی کا
آزاد کر دو مجھے کہ دو چار دن میں بھی
کر لوں نظارہ قدرت کی آشکارائی کا
کس بات پہ تجھے اتنا ناز ہے اے بہارِ گلستان؟
دوچار دن کا میلہ ہے بادوبہار آئی کا
ہنگامہَ دن میں کچھ دیر خود کو بہلا لے اے دل
سکون مل جائے گا تجھے آغوشِ شب کی تنہائی کا
اب ذرا دیکھ کر آنکھ ملانا مسعودؔ ، ورنہ
بھرم کھل جائے گا صنم سے تیری آنکھ ملائی کا

Meri Shaairi: Kis Sey Karoon Biyaan

مسعودؔ

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.