Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shaairi: Sehra Sehra

Meri Shaairi: Sehra Sehra

Meri Shaairi: Sehra Sehra

صحرا صحرا

منزل کی جستجو میں بھٹک رہا ہوں صحرا صحرا
لوگوں سے بھری وادی ہے اور میں ہوں تنہا
دو قدم اٹھتے ہیں تو  یاد آتی ہے کسی بے وفا کی
جس کی وجہ سے ہوں میں اس دنیا میں اکیلا
خیالوں پر چھائی رہتی ہے ایک ہی صورت
وہ صورت جس نے مجھ سے کیا ہے دغا
وہ صورت جس نے ساتھ جینے مرنے کا وعدہ کیا
جس پہ کیا اعتبار وہی شخص نکلا بے وفا
کسی سے نہ کر اس کی بے وفائی کا گلہ مسعودؔ
اس دنیا میں سب ہیں جداجدا کوئی نہیں اپنا

مسعودؔ

Meri Shaairi: Sehra Sehra

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment