Current Affairs Meri Tehreerein

Meri Tehreer – 23 March

Meri Tehreer - 23 March
23 March Resolution Day

 Meri Tehreer – 23 March

۲۳ مارچ

 Meri Tehreer – 23 March

اے میرے وطن کی دھرتی!

میں نے تجھے بہت سی قربانیا ں دے کر پایا ہے! میں کیسے اُن قربانیوں کا حساب چکا سکتا ہوں؟ میں کیسے ظلم اور بربریت کے وہ مناظراپنے بھٹکے ہوئے خیال میں لا سکتا ہوں جب تجھے حاصل کرنے پر دشمن نے ہماری ایک نسل کو قربانی کے گھاٹ اتار دیا۔

وہ انگنت معصوم جانیں جو سکھوں اور ہندوؤں کی برچھیوں کی نظر ہوگئیں!  معصوم پھول جو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماؤں کے پیٹوں میں قتل کردئیے گئے!

وہ عصمت کی دیویاں جن کی عزتیں ملعون ہندو اور سکھوں نے تار تار کردیں! لاشوں سے بھری ، لہو سے رستیں ہوئی وہ ٹرینییں جو لاہور پہنچی اور جن کی آمد پربین پر بین کرتے تیری آزادی میں پناہ مانگتے معصوم انسان! آہ و فغاں کے مناظر ، وہ سسکتی آہیں، وہ تڑپتے جذبات، وہ دم توڑتے سانس ،وہ بے سروسامانی میں تری محبت کا دم بھرتے مہاجر!

یہ تمام میرے تخیل سے فزوں تر ہے!میں انہیں کیسے اپنے آزاد خیال تصور میں لا سکتا ہوں؟؟

اے میرے وطن کی دھرتی!

میں اپنی تاریخ سے بھٹکا ہوا  وہ پاکستانی ہوں جوآج اُسی ہندوستان سے دوستی کا طلب گار ہے! سرحدوں کو کھولنا چاہتا ہوں تاکہ کلچر کا تبادلہ ہوسکے!

 تیرے سینے پر لگے انگنت سازشوں کے زخموں کو بھولاہوا انڈین میڈیا کا متاثر پاکستانی ہوں، جو اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے! اور پھر تیری تاریخ سے مجھے کیا رغبت؟

میں نے تو اپنے ہاتھوں سے تیری آزادی کی دھجیاں بکھیرنے کا تہیہ کر رکھا ہے! میں تو ایک خوابیدہ ضمیر پاکستانی ہوں جسے صرف اپنے مفاد سے غرض ہے……لیکن نہیں!!!

اگر کوئی مجھے یوں سمجھتا ہے تو اُسے کہہ دو کہ میں وہ آتش فشاں ہوں جسے ایک ہلکی سی لغزش کی ضرورت ہے، پھر میں تیرے سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک ایسا آہنی حصار کا کام کروں گا کہ تیرا دشمن مجھ سے سر پٹخ کر جان دیدے گا مگر تیری سرحدوں تک نہیں پہنچ پائے گا۔

میں عقابی نظر سے تیرے دشمنوں کا مطالعہ کر رہا ہوں، وقت پڑنے پر میں انہیں تہس نہس کر کے رکھ دوں گا!

اے میرے وطن کی دھرتی!

میں تری آزادی کی حرمت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ترے وجود کی حفاظت کے لیے مجھے اپنے جسم میں موجود خون کا آخری قطرہ تک بہانا پڑا تو دریغ نہیں کروں گا۔

تیری سرحدوں کی جانب بڑھنے والے دشمنوں کے ہر حربے کو ناکام بنا دوں گا، ہرگولی اپنے سینے پرکھاؤں گا، ہر ٹینک کے نیچے اپنا سر رکھ دوں گا، ہر بم سے اپنا جسم ٹکڑے ٹکڑے کروالوں گا مگر تری بقا کی حفاظت کروں گا!

اے میرے وطن کی دھرتی!

میری ایک ایک سانس تیری امانت ہے! میں دنیا کے کسی بھی حصے میں چلا جاؤں، تیری ہی محبت کا دم بھرتا ہوں اور وقت پڑنے پر تیری بقا کی جنگ کے لیے اپنے سروں سے کفن باندھ کرمحاذِ جنگ میں اترنے سے بھی دریغ نہیں کروں گا! میں عہد کرتا ہوں کہ تیرے دشمنوں کو تیری مقدس سرزمین پہ قدم نہیں رکھنے دونگا!

اے میرے وطن کی دھرتی!

یہ میرا وعدہ ہے تجھ سے کہ تیرے دشمنوں کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دونگا اور تیری سرحدوں کی حفاظت کرونگا!

باہر سے آنے والے دشمن کی ہرجارحیت کا منہ توڑ جواب دونگا مگر اے میرے وطن کی دھرتی ! میں تیرے اندر موجود تیرے دشمنوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا!

میں اکیلا ہوں! تیری سرزمین میں لاکھوں مفادپرست ہیں جوتیری حرمت کا سودا کررہے ہیں، میں اُن سے نہیں لڑسکتا! میں ہار گیا ہوں! میرا سچ ہار گیا ہے! میرا قلم اداس ہوگیا ہے!

اے میرے وطن کی دھرتی!

میں تجھ سے شرمندہ ہوں کہ میں نے بھی اپنا ضمیر مردہ کرلیا ہے! تیری بیٹیوں کو لٹتے دیکھتا ہوں اور قانون کے ہاتھوں بے انصاف ہوتے دیکھتا ہوں مگر خاموش رہتا ہوں! جاگیرداروں کے ہاتھوں تیری تقسیم ہوتے دیکھتا ہوں مگر چپ سدھارلیتا ہوں!

تجھ پر بسنے والوں کی آپس میں نفرت دیکھتا ہوں مگر محبت کی شمع نہیں جلاتا! اپوزیشن کا سرکار کو کمزور کرنا اور سرکار کااپوزیشن کو توڑنے کی کشمکش میں لگے رہنے!  سب دیکھتا ہوں مگر اپنے ہونٹوں کو سی لیتا ہوں! سرکاری دفاتر میں عملے کا خود کو ناخدا سمجھنا اور عوام کو اپنے جائز کاموں کے لیے منت سماجت کرتے دیکھتا ہوں مگر کوئی حرفِ احتجاج نہیں کہتا!

تجھے ایٹم بم سے قوی کرنے والے محسنِ عظیم کو بے حرمت ہوتے دیکھتا ہوں مردہ ضمیر ہوجاتا ہوں! 

اے میرے وطن کی دھرتی!

تیرا سب سے بڑا دشمن تیری سرحدوں میں موجود ہے! مفادپرستی کی ذلالت میں بے سدھ ہو چکا ہے!  تیری جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہاہے! خدا کی قسم تجھے باہر سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا! تجھے تیرے اندر کے دشمن ہی کمزور کر رہے ہیں!

میں اِن سے نہیں لڑسکتا کہ میں بھی انہیں میں سے ہوں، بہت کچھ کہہ جاتا ہوں!

آج ۲۳مارچ ہے! میں بھی تجدیدِ عہدِ وفا  کرتا ہوں جو وقت کے ساتھ ساتھ بھول جاؤں گا کہ یہی ہمارا شیوہ ہے!

 Meri Tehreer – 23 March
مسعود   ۲۳ مارچ ۲۰۰۵

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment