Politics

Qaumi Assembly Khol Di Gaii

Qaumi Asembly Khol Di Gaii
pakistan parliament

Qaumi Assembly Khol Di Gaii

….بالآخر قومی اسمبلی کھول دی گئی!!!

اور سیاستدانوں کو اسمبلی میں چھوڑ دیا گیا۔۔۔

قومی اسمبلی بحال

تین سال قومی اسمبلی برخاست رہنے کے بعد آج!، ۱۶ نومبر ۲۰۰۲، پاکستان کی قومی اسمبلی بحال ہوگئی۔! پہلا اجلاس آج ہواجس میں ۱۰ اکتوبر کے انتخاب میں کامیاب ہونے والے! ا رکانِ اسمبلی نے حلف اٹھایا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کے بابرکت نام سے اجلاس کا افتتاح ہوا۔

مگرجونہی تلاوتِ قرآنِ مجید ختم ہوئی، ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔! ہر نو منتخب رکنِ اسمبلی اپنی بات کہنے کی کوشش میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش میں لگ گیا! اور یوں محسوس ہو رہا تھا گویا کسی نے ایک بُل (Bull) ایک سال تک پالا! اور پھر اُس بُل کو فائٹنگ کے لیے اکھاڑے میں اتار دیا ۔! کیا ہماری اسمبلی سیاستدانوں کا اکھاڑا ہے؟؟؟

بدتہذیبی

جس بات پر ان لوگوں نے بدتہذیبی سے سلسۂ گفتگو شروع کیا تھا!، اسپیکرِ اسمبلی ،الہی بخش سومرو،اُسی بات کی وضاحت کرنا چاہتے تھے۔!مگر ہمارے پڑھے لکھے مہذب اور عوام کے نمائندہ رکن اپنی منواتے رہے۔! مجھے سومرو صاحب کاطریقہ اچھا لگا، کہ صاحب آپ پہلے حافظ صاحب کو، پھر اِنہیں، پھر اُنہیں مائیک دیں کہ یہ اپنی بات کہہ لیں! ۔ جو اصل نقطہ ہے میں وہ بعد میں کہوں گا۔! اور ایک موقع پر انہیں نے کہا کہ صاحب آپ اپنا وقت خود ضائع کر رہے ہیں۔

جن بات پراِن لوگوں کو اختلاف تھا وہ یہ تھا کہ یہ لوگ سن ۱۹۷۳ کے آئین کے تحت حلف اٹھائیں گے! اور LFOکو باالکل قبول نہیں کرتے۔ الٰہی بخش سومرو صاحب ان لوگوں کو یہی بتانے کی کوشش میں مصروف تھے! کہ حلف اُسی آئین کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہاں تک پیش کش کی کہ کوئی بھی رکن اسمبلی آکر دیکھ سکتا ہے کہ یہ وہی دستاویزات ہیں۔

حلف

خیرارکانِ اسمبلی نے ان  کی زبان پر اعتبار کر کہ حلف اٹھایا! اور اس کے بعد کا خوشگوار ماحول تو یہ بتاتا ہے! کہ اِس پارلیمنٹ میں رکن ایک دوسرے سے اسقدر دور نہیں جیسا کہ ماضی میں تھا! ۔ اللہ انہیں مزید قریب آنے کی اور پاکستان کی خدمت کرنے کی ہمت عطا فرمائے! ۔آمین۔

مگرآغاز دیکھ کر تو میں خوف زدہ سا ہو گیا ہوں! اور کبھی میں سوچتا ہوں کہ جس طرح یہ لوگ ابھی سے برس رہے ہیں!! جب حکومت بنی، مخالفت قائم ہوئی پھر یہ لوگ کیا کریں گے ۔ کیا ہم بُل فائٹنگ کے لیے ٹکٹیں خرید لیں؟؟؟؟

مسعودؔ  – 16 نومبر 2002

Qaumi Assembly Khol Di Gaii

Pegham Politics

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

November 2002
M T W T F S S
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
252627282930  

PG Special