خوشبو

بعد مُدت اُسے دیکھا

[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”curve” width=”auto” height=”” background_color=”#FCBFF8″ border_width=”3″ border_color=”#780070″ ]
پروین شاکر – مجموعۂ کلام: خوشبو [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#FCBFF8″ border_width=”3″ border_color=”#780070″ ]

بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو
وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو

خُوش نہ تھا مُجھ سے بچھڑ کر وہ بھی
اُس کے چہرے پہ لکھا تھا،لوگو

اُس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں
رات بھر وہ بھی نہ سویا،لوگو

اجنبی بن کے جو گزرا ہے ابھی
تھا کِسی وقت میں اپنا ،لوگو

دوست تو خیر کوئی کس کا ہے
اُس نے دشمن بھی نہ سمجھا،لوگو

رات وہ دردمرے دل میں اُٹھا
صبح تک چین نہ آیا ،لوگو

پیاس صحراؤں کی پھر تیز ہُوئی
اَبر پھر ٹوٹ کے برسا،لوگو

بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW