آسمان

ہر اک چراغ کی لَو ایسی سوئی سوئی تھی

Basheer Bdr - Aasman
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#0C1C76″ border_width=”5″ border_color=”#FFFFFF” ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آسمان [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#9195FF” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
ہر اک چراغ کی لَو ایسی سوئی سوئی تھی
وہ شام جیسے کسی سے بچھڑ کے روئی تھی
نہا گیا تھا میں کل جگنوؤں کی بارش میں
وہ میرے کاندھے پہ سر رکھ کے خوب روئی تھی
قدم قدم پہ لہو کے نشان کیسے ہیں
یہ سر زمیں تو مرے آنسوؤں نے دھوئی تھی
مکاں کے ساتھ وہ پودا بھی جل گیا جس میں
مہکتے پھول تھے پھولوں میں ایک تتلی تھی
خود اس کے باپ نے پہچان کر نہ پہچانا
وہ لڑکی پچھلے فسادات میں جو کھوئی تھی

ہر اک چراغ کی لَو ایسی سوئی سوئی تھی

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW