آسمان

کون آیا راستے آئینہ خانے ہو گئے

Basheer Bdr - Aasman
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#0C1C76″ border_width=”5″ border_color=”#FFFFFF” ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آسمان [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#9195FF” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

کون آیا راستے آئینہ خانے ہو گئے
رات روشن ہو گئی دن بھی سہانے ہو گئے

کیوں حویلی کے اُجڑنے کا مجھے افسوس ہو
سینکڑوں بے گھر پرندوں کے ٹھکانے ہو گئے

جاؤ ان کمروں کے آئینے اٹھا کر پھینک دو
بے ادب یہ کہہ رہے ہیں ہم پرانے ہو گئے

یہ بھی ممکن ہے کہ میں نے اس کو پہچانا نہ ہو
اب اسے دیکھے ہوئے کتنے زمانے ہو گئے

میری پلکوں پر یہ آنسو پیار کی توہین تھے
اس کی آنکھوں سے گرے موتی کے دانے ہو گئے

کون آیا راستے آئینہ خانے ہو گئے

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW