آسمان

کوئی حل نہ کوئی جواب ہے یہ سوال کیسا سوال ہے

Basheer Bdr - Aasman
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#0C1C76″ border_width=”5″ border_color=”#FFFFFF” ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آسمان [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#9195FF” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

کوئی حل نہ کوئی جواب ہے یہ سوال کیسا سوال ہے
جسے بھول جانے کا حکم ہے اسے بھول جانا محال ہے

ہوئیں زرد بھولوں کی بستیاں مگر اس میں تیری خطا کہاں
تجھے لوگ دل سے دعائیں دیں یہی تیرے جن کا کمال ہے

کبھی آسماں کی بلندیوں سے اُتر کے خاک پہ آئیں گے
ابھی پنچھیوں کو خبر نہیں یہ زمین والوں کا جال ہے

اسی نیم کے پیڑ کی اُوٹ میں ابھی چاند ہار کے سو گیا
ترے پاک ہونٹوں کو چوم لے یہ کہاں کسی کی مجال ہے

اسی ایک بسترِ بے حسی پہ تھکے تھکے سے بدن ملے
ترے ساتھ بھی وہی بے دلی یہ وصال کیسا وصال ہے

کوئی حل نہ کوئی جواب ہے یہ سوال کیسا سوال ہے

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW