آہٹ

یہ غزل کس کی ہے اس مطلعے کو پڑھ کر دیکھو

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

یہ غزل کس کی ہے اس مطلعے کو پڑھ کر دیکھو
چاند کی چودھویں تاریخ ہے، اوپر دیکھو

آج کمرے میں نہیں بیٹھنے والا موسم
برف کھڑکی سے نہیں گھر سے نکلل کر دیکھو

رات سوئی ہوئی رعنائیوں نے مجھ سے کہا
ہم کو ہاتھوں سے نہیں، آنکھوں سے چھو کر دیکھو

چاند کی زلفیں ہیں، چہرہ ہے، قدومامت ہے
آسمانوں سے حویلی میں اتر کر دیکھو

ہم غریبوں سے کبھی ٹوٹ کے ملنے آؤ
کیا بکھرنے میں مزا ہے یہ بکھر کر دیکھو

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW