آہٹ

کہیں پنگھٹوں کی ڈگر نہیں، کہیں آنچلوں کا نگر نہیں

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

کہیں پنگھٹوں کی ڈگر نہیں، کہیں آنچلوں کا نگر نہیں
یہ پہاڑ دھوپ کے پیڑ ہیں، کوئی سایہ دار شجر نہیں

وہ بکا ہے کتنے کروڑ میں ذرا اس کا حال بتائیے
کوئی شخص بھوک سے مر گیا، یہ خبر تو کوئی نہیں

یہ مہکتے پھولوں کی چھتریاں، مری مہرباں، مری سائباں
ترے ساتھ دھوپ کے راستوں کا سفر تو کوئی سفر نہیں

میں وہاں سے آیا ہوں، آج بھی جہاں پیار دل کا چراغ ہے
یہ عجیب رات کا شہر ہے، کہیں روشنی کا گذر نہیں

یہ زمین درد کی نہر ہے، یہ زمین پیار کا شہر ہے
میں اسی زمین کا خواب ہوں، مجھے آسمانوں کا ڈر نہیں

کوئی میرؔ ہو کہ بشیرؔ ہو، جو تمہارے ناز اٹھائیں ہم
یہ ظفر کی ولی ہے باد اب یہاں ہر کسی کا گذر نہیں

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW