آہٹ

فرصت کہاں خطوط پڑھوں آج پیار سے

Basheer Badr - Aahat
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ

فرصت کہاں خطوط پڑھوں آج پیار سے
اب خیریت بتایا کرو یار تار سے

دلی کے تاج و تخت کا ایک دعویدار تو
داخل تھا اسپتال میں پانی کی مار سے

نیتا کی شان دیکھ اسے ووٹ یوں ملے
مرے نکل کے آ گئے اپنے مزار سے

ریلی نکالنے کا ارادہ جہاں کیا
مجھ کو زکام ہو گیا ہلکی پھوار سے

میں ریل روکنے کے لئے تیرے ساتھ ہوں
فرصت اگر مجھے ملی سردی بخار سے

میں ڈر رہا ہوں مجھ کو غالب کہیں گے لوگ
یہ گھر چلا کرے گا ہمیشہ ادھار سے


urdubazm

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW