آہٹ

وہ تھکا ہوا میری بانہوں میں ڈرا سو گیا تھا تو کیا ہوا

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

وہ تھکا ہوا میری بانہوں میں ڈرا سو گیا تھا تو کیا ہوا
ابھی میں نے دیکھا ہے چاند بھی کسی شاخ گل پہ جھکا ہوا

میرے ساتھ ساتھ سدا رہا وہ مری نظر سےچھپا ہوا
یہ عجیب ہجر و وصال ہے، نہ کبھی ملا، نہ جدا ہوا

کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا
وہ غزل کا لہجہ نیا نیا، نہ کہا ہوا، نہ سنا ہوا

جسے لے گئی ہے ابھی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا
کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا، کہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا

کئی میل ریت کو کاٹ کر کوئی موج پھول کھلا گئی
کوئی پیڑ پیاس سے مر رہا ہے ندی کے پاس کھڑا ہوا

مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسین بنا دیا
مرا دل بھی جیسے دلہن کا ہاتھ ہو مہندیوں سے رچا ہوا

وہی شہر ہے وہی راستے، وہی گھر ہے اور وہی لان بھی
مگر اس دریچے سے پوچھنا، وہ درخت انار کا کیا ہوا

مرے ساتھ جگنو ہے اور جگنو کی اس سفر میں بساط کیا
یہ چراغ کوئی چراغ ہے نہ چلا ہوا نہ بجھا ہوا

وہی خط کہ جس پہ جگہ جگہ دو مہکتے ہونٹوں کے چاند تھے
کسی بھولی بسری سی طاق پر تہہ گرد ہو گا دبا ہوا

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW