آہٹ

آنسوؤں سے دھلی ہوئی خوشی کی طرح

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

آنسوؤں سے دھلی ہوئی خوشی کی طرح
رشتے ہوتے ہیں شاعری کی طرح

دور ہو کر بھی ہوں اسی کی طرح
چاند سے دور چاندنی کی طرح

خوبصورت، اداس، خوفزدہ
وہ بھی ہے بیسویں صدی کی طرح

جب کبھی بادلوں میں گھرتا ہے
چاند لگتا ہے آدمی کی طرح

ہم خدا بن کے آئیں گے ورنہ
ہم سے مل جاؤ آدمی کی طرح

سب نظر کا فریب ہوتا ہے
کوئی ہوتا نہیں کسی کی طرح

جانتا ہوں کہ ایک دن مجھ کو
وہ بدل دے گا ڈائری کی طرح

آرزو ہے کہ کوئی شعر کہوں
خوبصورت تری گلی کی طرح

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW