آہٹ

دنیا نے دل کو پیار کا تحفہ دیا نہیں

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

دنیا نے دل کو پیار کا تحفہ دیا نہیں
ہم زندگی تھے ہم کو کسی نے جیا نہیں

سورج سے، چاند سے بھی حسیں ایک روپ ہے
ایسے مکان میں جہاں کوئی دیا نہیں

دنیا کی اب شکایتیں کس منہ سے ہم کریں
ہم سے وفا کا وعدہ کسی نے کیا نہیں

روٹی بھی چاہیے، ہمیں پانی بھی چاہیے
ہم عام اآدمی ہیں میاں اولیاء نہیں

اس کو بھی کچھ خبر نہیں آنچل کہاں گرا
ہم نے بھی اپنا چاک گریباں سیا نہیں

اک روز گھر پہ چاند ستارے بھی آئے تھے
ہم نے مگر زمین کا سودا کیا نہیں

موسم خزاں کا ہے، مری بانہیں اداس ہیں
پھولوں کو میں نے گود میں کب سے لیا نہیں

میرے لیے کسی کی محبت تھی کائنات
میں زمین و آسماں، کچھ بھی لیا نہیں

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW