آہٹ

بے لباسی جو ہر لباس کی ہے

Basheer Badr - Aahat
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ

بے لباسی جو ہر لباس کی ہے
مفلسی عہدِ بدحواسی کی ہے

مطمئن ہیں ذرا امیر و غریب
ہر مصیبت مڈل کلاس کی ہے

آئینہ بن گئے در و دیوار
چاندنی یہ اسی لباس کی ہے

سب کو ساقی نے یہ جواب دیا
یہ خطا آپ کے گلاس کی ہے

تیری خوشبو میں دیکھ لیتا ہوں
یہ مہک تیرے آس پاس کی ہے


urdubazm

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW