تنہا تنہا

کس قدر آگ برستی ہے یہاں

Ahmed Faraz
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00a0f2″ border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]
کس قدر آگ برستی ہے یہاں [/dropshadowbox]

[dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#42e8df” border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]

کس قدر آگ برستی ہے یہاں
خلق شبنم کو ترستی ہے یہاں

صرف اندیشہ افعی ہی نہیں
پھول کی شاخ بھی ڈستی ہے یہاں

رُخ کدھر موڑگیا ہے دریا
اب نہ وہ لوگ نہ بستی ہے یہاں

زندہ درگورہوئے اہل نظر
کس قدر مردہ پرستی ہے یہاں

زیست وہ جبس گراں ہے کہ فراؔز
موت کے مول بھی سستی ہے یہاں

[/dropshadowbox][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00a0f2″ border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]

احمدفراز – تنہا تنہا

[/dropshadowbox][/nk_awb]

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW