Uncategorized تنہا تنہا

جانشین

Ahmed Faraz
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00a0f2″ border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]
جانشین [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#42e8df” border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]

 

(۱۹۵۲ءمیں کراچی میں طلباء پر فائرنگ سے متاثر ہوکرلکھئی گئ)

علم ودانش کےسوداگروں نےکہا
جاہلو!
تم اندھیروں کے دُنیا کے باسی
جہالت کے تاریک غاروں کے مُردے
کہاں جارہے ہو،کہاں؟
تم تہی دست ہو
تم تہی جیب ہو
تم تہی دامنوں سے ہمیں کوئی لالچ نہیں
تم نہیں جانتے
تم نہیں جانتے
ہم تمھارے لیے
کب سے تہذیب وحکمت کی نایاب اجناس کو
منڈیوں میں سجائے ہوئے ہیں
تم نہیں دیکھتے
تم کہ شب کو رہو
ہم نے دن کے اُجالے میں بھی۔۔بس تمھارے لیے
اس تمدن کے فانوس روشن کیے
جن کی شفاف کرنوں سے سارا جہاں بقعہ نُورہے
عالم طُور ہے

پاگلو!

تم نہیں جانتے
تم نہیں جانتے
ہم ارسطو ہیں شاہوں کے اُستاد ہیں
ہم فلاطوں ہیں ہم کو ہر اک علم وحکمت کے گُریاد ہیں
ہم ہی سقراط ہیں
ہم ہی بقراط ہیں
ہم ہی بے مثل شخصیتوں کے خردمند فرزند ہیں
ہم ہی کون ومکاں کے خداوند ہیں

سرپھرو!

تم کو ہم سے گلہ ہے کہ ہم نے تمھیں
خاک وخوں کے سمندر میں نہلا دیا
صرف اپنے تسلط کی خاطرتمھیں
ہم نے اپنوں کے ہاتھوں سے کٹوادیا
چاند سورج تو اپنے لیے رکھ لیے
اور تم کو کھلونوں سے پہلا دیا
تم کو اس کی مگر کچھ خبر ہی نہیں
یہ تسلط یہ جاہ وحشم یہ زمیں
بس تمھارے لیے ہے تمھارے لیے
دُور فردا کے فرمانروا ہو تمھیں
تم کو ہونا ہے اجداد کا جانشین

پاگلو!۔۔۔ہم سے عالی نظردیدہ ور
تم سے جو بھی کہیں مان لو
تم نہیں جانتےتم کہ مردہ رہے سالہا سال سے
بھیڑیوں اور درندوں کی ارواحِ بدتم میں در آئی ہیں
اورجہل وجون کی نحبس مشعلیں دے کے تم کو
بغاوت پہ اکساتی ہیں
اپنے اجداد سے،اپنے فرمانرواؤں سے،آقاؤں سے

جاہلو!

پاگلو!!

جانشین

[/dropshadowbox][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00a0f2″ border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]

احمدفراز – تنہا تنہا

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW