Current Affairs

Abhi Ya Kabhi Nahi

Abhi Ya Kabhi Nahi
Abhi Ya Kabhi Nahi

یہ واقعہ ہے 1984 کا جب اسوقت کی ڈنیش حکومت جسکا وزیراعظم ڈنمارک کی تاریخ کا شاید سب سے پاوورفل وزیراعظم تھا، اس نے تامل مہاجرین کے متعلق ایک کیس کو دبانے کی کوشش کی اور عوام سے جھوٹ بول دیا! اسکا جھوٹ میڈیا نے پکڑ لیا اور اس کے خلاف کیس چلا۔ عدالت نے اسے وزارت سے برخاست کر دیا، وہ دن اور اسکے حال ہی میں مرتےدم کی بات ہے کہ وہ بندہ سیاست کے آس پاس نہ بھٹکا!

سیاست کے آس پاس تو الگ بات کسی میڈیا، کسی صحافی نے اسے اس قابل نہ سمجھا کہ اس سے کسی قسم کا کوئی سیاسی تبصرہ تک لیا جائے!

یہ ایک کفرمعاشرے کی بات ہے!

جبکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پچھلے کم و بیش 50 سالوں سے تین کالی بھیڑوں ، پاکستان پیپلز پارٹی، آرمی اور مسلم لیگ نون ،نے اس ملک کی رگوں میں ایسا زہر گھولا ہے کہ یہ 22 کڑوڑ کا یہ ملک معاشی، معاشرتی، سیاسی، اخلاقی اور علمی لحاظ سے بدترین معاشرہ قرار دیا جا سکتا ہے! ایک ایسا معاشرہ جس میں ضمیر نام کو کوئی شے نہیں بلکہ چار پیسوں کے آگے یہ قوم اپنے والدین تک بیچنے کو تیار ہو جاتی ہے!اللہ کا خوف تو اس اسلامی ملک میں آٹے میں نمک برابر نہیں! یہی وجہ ہے کہ جو جہاں کی بدی اس معاشرے میں پائی جاتی ہے اور ڈھنکے کی چوٹ پر کی جاتی ہے!

ان کالی بھیڑوں نے اس قوم کو علم سے دور رکھا ہے! علم شعور دیتا ہے اور جب شعور ہو تو انسان اپنی لیے اچھائی اور برائی کی تمیز کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کم و بیش چالیس سالوں سے تعلیم کو ایک ذلیل ترین پیشے کے طور پر امپلی منٹ کیا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عقل کا شدید فقدان رہا ہے! ظاہری بات ہے جب علم ناقص ہو گا تو لوگوں کا شعور روٹی کپڑا اور مکان تک رہے گا۔ انکے نزدیک نوازشریف کا بیانیہ، نوازشریف سرخرو سے زیادہ کی سوچ نہیں پائی جا سکتی۔ نوازشریف ایک پل کا دس دس دفع افتتاح کرے تو یہ قوم دس دس بار تالیاں بجائے گی اور بریانی کے ایک پیکٹ کے لیے کتوں کی طرح ٹوٹ پڑے گی۔

پاکستان گروی رکھا جا چکا تھا۔ ایسا گروی کے اس میں جو بھی حکومت آتی وہ سعودیہ اور امریکہ کی غلام ہوتی۔ سعودیہ سے ڈالر آتے ہیں اور امریکہ سے اسلحہ!  لہذا انکی غلامی ہمارا مقدر ہے۔ انکی ناراضگی ہماری تباہی ہے۔

خدا کا غضب کہ وہ پاکستان جو مشرقِ وسطیٰ کو سکھایاکرتا تھا کہ ایوی ایشن کیسے چلتی ہے، جہاز کیسے چلتے ہیں، نظام کیسے بنتے ہیں، وہ پاکستان جو جرمنی کو قرضہ دیتا تھا، اس کو ان کالی بھیڑوں نے اسقدر لوٹا، برباد اور تباہ کیا کہ آج اس پاکستان کا بچہ بچہ قرضے میں ایسا پھنسا ہوا ہے کہ جو بھی حکومت آتی اسے سب سے زیادہ توجہ قرضوں کے اتارچڑھاؤ میں صرف کرنی پڑتی۔

اسقدر قرضہ کدھر گیا؟ یہی وہ باتیں ہیں جو عمران خان نے اس قوم کو بتائیں کہ یہ کالی بھیڑیں ہی ہیں جو اس ملک کو لوٹتی رہی ہیں۔ اس ملک کو اسقدر جاھلیت پر لانے والے یہی وہ کالی بھیڑیں ہیں جنہوں نےاپنے مستقبل یورپ اور مڈل ایسٹ میں سیٹ کروائے ہیں اور پاکستان انکے لیے فقط دولت کمانے کا مظہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوازشریف پر جب جب مصیبت پڑی وہ یا این آر او لیکر یا مکروفریب اور جھوٹ پر لندن بھاگ گیا۔ اور اپنے پیچھے بھونکنے والے چھوڑ گیا!

اگر یہ قوم یہ سمجھتی ہے کہ ڈھائی سالوں میں عمران خان 75 سال کا گند صاف کر کے اس ملک کو جنت کی مثال بنا دیتا تو وہ انسان عقلی بصارت سے بالکل عاری ہے۔ کوئی بھی قوم ڈھائی سال میں نہیں بنتی! مگر اسکے باوجود ان ڈھائی سالوں میں جو جو کام عمران خان نے اس قوم کے لیے کیے ہیں وہ پچھلے پچاس سالوں میں نہیں ہوئے۔ بحث کر کے دیکھ لیں!

یہ عمران خان ہی ہے جس نے اس بے ضمیر، مردہ اور بے جان قوم میں جان ڈالی، انہیں سیاسی بصارت عطا کی اور انہیں اپنے حق کے لیے بولنا سیکھایا۔ ورنہ بزرگ بتاتے ہیں کہ پچھلے چالیس پچاس سالوں سے سیاست کے لیے ایک ہی جملہ کہا جاتا رہا ہے: اس ملک میں یہی کچھ چلتا ہے!  – عمران خان نے سکھایا کہ قوم کا حق کیا ہے؟قومیں کیسے بنتی ہیں، پاکستانی قوم کی خودداری کیا ہے، اور اسے کسطرح اپنےپاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔

یہ عمران خان ہی نے بتایا کہ جمہوریت کیا ہوتی ہے۔ ورنہ ہمیں جس جمہوریت سے متعارف کروایا جاتا رہا ہےوہ درحقیقت ایک بھیانک سیاسی کھیل تھا جس میں ایک بدمعاش کے بعد دوسرابدمعاش اپنی سرمایہ دارنہ سوچ کے مطابق لوٹنے کو حکومت کرتا اور کہتا کہ ہم جمہوریت میں ہیں۔ پاکستان میں کبھی جمہوریت تھی ہی نہیں، جو تھا وہ جمہوری ڈکٹیٹرشپ تھی!

یورپی جمہوریت میں رہتے ہوئے یہ بات میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ عمران خان کی حکومت کے ڈھائی سال پچھلے پچاس سالوں پر بھاری ہیں۔مجھے کامل یقین تھا کہ پاکستان عمران خان کے تحت وہ راہ پر گامزن تھا جس میں خودداری تھی، خوداعتمادی تھی، غیور تھا، معاشی بہتری آنے والی تھی، سماجی بھلائی آنے والی تھی اور یہ عمران خا ن ہی ہے جو یہ سب کر سکتا ہے، کیونکہ وہ کرپٹ نہیں!

مگر شیطان نے اپنی چال چل دی۔ پاکستان کو ایکبار پھر امریکی غلامی میں جھونک دیا۔ پاکستان ایکبار پھر اپنے اس بھیانک ماضی میں چلا گیا۔

اس سے بڑی لعنت اس معاشرے پر اور کیا ہوگی کہ انصاف اور قانون کے ہاتھ روک کر اس انسان کو وزارتِ اعلیٰ کا منصب عطا کر دیا جس پر کرپشن کی سند لگنے والی تھی؟؟؟ اور وہ بھی راتوں رات عدالتیں لگا کر کیا گیا۔ کیا کسے معاشرے میں راتوں رات عدالتوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ فیصلے سنائیں اور کرپشن کے ماروں کے لیے راہیں ہموار کریں؟ اس سے بڑی لعنت کیا ہوگی کہ وہ لوگ جنہوں نے اس ملک کو اس حال تک پہنچایا آج  انہیں کوچوردروازے سے ملک پر مسلط کر دیا!کیوں؟ اس لیے کہ وہ سرو آنکھیں جھکائے غلام ہیں جن کی دوڑ صرف دولت تک ہے؟ یہ وہ کتے ہیں جس کو امریکی یا سعودیہ ‘شششش ‘کہے اور یہ سہم کر بیٹھ جائیں؟

Abhi Ya Kabhi Nahi

پاکستان ایکبار پھر کرپشن کے بھیانک ماضی میں جھونک دیا گیا ہے جہاں پر پاکستان کے فیصلے واشنگٹن سے ہو کر آیا کریں گے۔ یہ 22 کڑوڑ کی عوام کے منہ پر تمانچہ ہے۔ پاکستانی عوام ایک منفرد جنگ میں جھونک دی گئی ہے: خودداری کی جنگ!

اب یہ اس قوم پر ہےکہ وہ یہ جنگ کیسے لڑتی ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستانی عوام کے پاس ابھی تک عمران خان موجود ہے۔ جب تک خان ہے وہ اس قوم کی پیٹھ ننگی نہیں ہونی دے گا۔ مگر قوم کا اپنے کپتان کا ساتھ دینا ہوگا۔ کوئی بھی جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جاتی جب تک قوم بہادر نہ ہو، یہ قوم بہادر ہے مگرسوئی ہوئی ہے۔اس قوم کی خودی داؤ پر ہے: ابھی یا کبھی نہیں!!!!

خودی کی آزادی یا تاعمر کی امریکی غلامی! 

Abhi Ya Kabhi Nahi Abhi Ya Kabhi Nahi Abhi Ya Kabhi Nahi Abhi Ya Kabhi Nahi Abhi Ya Kabhi Nahi Abhi Ya Kabhi Nahi Abhi Ya Kabhi NahiAbhi Ya Kabhi Nahi Abhi Ya Kabhi Nahi Abhi Ya Kabhi Nahi


بقلم : مسعود

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.