Humara Moashra

Meri Tehreer: Followers

Meri Tehreer: Followers

.فالوورز

Meri Tehreer: Followers

نسرین جب بھی گھر سے نکلتی عبایہ اوڑھ کر نکلتی!

اسکو اس بات کی بہت فکر ہوتی کہ کوئی اسکے وجود پر نظر نہ ڈالے!  اسے اپنی عزتِ نفس کا بہت خیال تھا!

ایک روز نسرین کو سودا سلف خریدنے بازار جانا پڑا! تو اس نے حسبِ عادت عبایہ اوڑھا!، اپنی چادر کے تقدس کا اطمنان کیا اور بازار کو رخصت ہوئی۔

اتفاقاۤ کچھ لڑکے جو بالکل اسی مارکیٹ کو جا رہے تھے! اسکے پیچھے ہو لئے! نسرین کو جب ان کے پیچھے پیچھے چلنے کا احساس ہوا! تو اس نے دل ہی دل میں انہیں برا بھلا کہنے لگی! اور سخت بدکلام ہوئی۔

دورانِ سفر لڑکوں نے ایک بھی حرکت ایسی نہ کی جو بداخلاقی کے پیرائے میں آتی ہو۔

بازار سے لوٹنے کے بعد! گھر پہنچ کر نسرین نے اپنی فیملی کے سامنے ان لڑکوں کی نسبت الف سے لیکر ی تک خوب باتیں سنائیں !کہ کیا خبیث زمانہ ہے کہ ایک عورت اکیلی گھر سے نکل بھی نہیں سکتی! کیا کیا لوفر فالو کرتے ہیں۔

جب غصہ ذرا ٹھنڈا ہوا تو نسرین نہائی دھوئی اچھا سا لباس پہنا جس نے اسکے جسم کے مدوجزر کو حسین ترین بنا دیا، پھر اس نے اپنے آئی فون سے منہ بگارتے  ہوئے، مختلف مگر دیدہ زیب پوز سے سیلفیاں لیں اور سوشل میڈیا پر اپنے لاکھوں فالوورز کے دیکھنے کو ڈال کر کامنٹس اور لائیکس کا انتظار کرنے لگی!

Meri Tehreer: Followers

بقلم: مسعودؔ

Pegham Logo Retina

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment