Current Affairs Politics

Siyasi Halchal July 2019

Siyasi Halchal July 2019

سیاسی ہلچل جولائی 2019

Siyasi Halchal July 2019

فاورڈ بلاک

بیان کیا جاتا ہے کہ! نون لیگ کے 15 سے زائد ارکانِ اسمبلی نے پرائم منسٹر عمران خان سے ملاقات کی ہے۔

ان میں چند ایک کی تصدیق تو عمران خان نے خود کی ہے۔

نون لیگ میں ایک بہت بڑا فاورڈ بلاک بن رھا ہے! کیونکہ لوگ یہ جاننے لگیں ہیں کہ نون لیگ کا مستقبل تاریک ہے۔ !

اسکی ایک وجہ نوازشریف کی بار بار این آر او کی ناکام کوشش!، کچھ مریم صفدر کی جاھلانہ انداز میں کی جانے والی سیاست، !کچھ نون لیگ میں اندرونی ٹوٹ پھوٹ! اور چچا شہباز شریف اور مریم صفدر میں سیاسی اختلافات بھی ہیں۔!

شہبازشریف نے اپنے حالیہ دورۂ لندن میں! سیاسی پناہ کی بھرپور کوشش کی جو کہ ناکام رہی۔! جب نون لیگ کے باضمیر ارکان یہ دیکھتے ہیں! تو انہیں اپنی قیادت سے اعتبار اٹھ جاتا ہے !کیونکہ یہ پہلی بار نہیں کہ شریف خاندان نے ڈیل کی کوشش کی ہے۔! دوسرے الفاط میں اپنے کارکنوں کے منہ پر تھوکنا انکی پرانی عادت ہے۔

این آر او اور اپوزیشن

ادھر عمران خان نے یہ بتاتے ہوئے! کہ باھر کے چند ایک ممالک نے نوازشریف کی نسبت این آر او کی بات کی! جو کہ ٹھکرا دی گئی۔ ساتھ ہی عمران خان نے شفاف الفاظ میں کہہ دیا! کہ جس جس کو باھر جانا ہے! وہ پلی بارگین کر لے،! قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کر دے! اور جہاں جانا چاھتا ہے چلا جائے مگر این آر او نہیں ملے گا۔

اس مین کچھ اس اپوزیشن کی ساکھ بھی ہے! جو کبھی مستحکم ہو ہی نہیں پائی۔! بلکہ اپوزیشن ریت کی دیوار کی مانند نکلی۔! حکومت کے پیش کردہ بجت کو شدت سے ٹھکراتے رہے !مگر حکومت نے اسکے باوجود اپنا بجٹ پاس کروا لیا۔ 

یہ ایک ظاہری حقیقت ہے !کہ جس اپوزیشن میں ہر کسی کی اپنی اپنی سوچ اپنی اپنی رائے ہو گی،! اپنا اپنا منشور ہو گا، اپنی اپنی آرزو ہو گی! وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔! ایسے حالات میں وہ لوگ جن کی زندگیوں کا دارومدار! انکی سیاست پر ہے وہ اپنے لیے مضبوط قلعے تلاش کرتے ہیں۔! اور اس وقت عمران خان سے زیادہ مضبوط کوئی نہیں۔ !عمران خان کے لیے دو سال بہت مشکل ہیں، !اس کے بعد اگر وہ ان پالیسیوں کا اطلاق کر پایا جو اس نے آج کے انٹرویو میں بیان کی ہیں،! وہ صاف طور پر دوسری کچی پارٹیوں کے لیے تباھی کے سوا کچھ نہیں ہونگی۔

دھمکی اور گرفتاری

رانا ثنا اللہ نے کچھ روز پہلے ان ارکان کو کھلم کھلا دھمکی دی تھی کہ ہم انکو دیکھ لیں گے۔ 

آج رانا ثنا اللہ کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے موٹروے پر حراست میں لے لیا۔ اس پر الزام تھا کہ اسکے خلاف منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے اور دھشتگرد کاروائیوں میں ملوث ہونے کا ثبوت ملے ہیں۔ رانا ثنا اللہ کی گاڑی میں سے دورانِ حراست بھی منشیات نکلیں۔

رات گئے ثنا اللہ کے ڈیرے سے ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ پکڑے گئے۔

اس وقت اپوزیشن ہر گرفتاری کو وزیرِاعظم عمران خان سے جوڑنے میں مصروف ہے۔ انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں کہ اس وقت ادارے خود مختار ہو چکے ہیں۔ مگر چونکہ اس ملک کا شروع ہی سے نظام ہی ایسی بنیادوں پر قائم رھا ہے کہ جو بھی کراتی ہے حکومت کراتی رہی ہے، لہذا ابھی بھی یہی ہو رھا ہے۔

مجھے پہلی بار یہ محسوس ہو رھا ہے کہ اس وقت اداروں میں خودمختاری ہے۔ اور ابھی مزید گرفتاریاں آئیں گی۔ 

احتساب؟

عمران خان نے اے آر وائی کو دئیے گئے ایک مفصل انٹرویر میں احتساب اور کرپشن کے روک تھام پر زور دیا۔

بات یہ ہے کہ ہمیں عمران خان کی نیت پر کوئی شک نہیں۔ اور اس بات پر بھی شک نہیں کہ اگر عمران خان نہیں کر سکتا تو کوئی بھی نہیں کر سکتا۔ مگر اسکے لیے عمران خان کو کچھ بہت ہی تلخ اور سخت ترین فیصلے کرنے ہونگے۔ ان میں سب سے ایک سب سے اہم مجرموں کے پروڈکشن آرڈر ختم کرنے ہونگے۔

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر کرمنلز، جرائم پیشہ، کرپٹ اور لٹیروں کو پروڈکشن آرڈرز دیکر ملک کے سب سے مقدس ایوان میں اسی عوام کے لیے قانون سازی کرنے بٹھا دیا جاتا ہے۔ ایسا ناممکن ہے کہ ایک کرمنل، کرمنلٹی کو روکنے کے لیے قانون سازی کرے! پاکستان کے ایوان کو جرائم پیشہ لوگوں سے پاک کرنے کے لیے سخت ترین قانون سازی کی ضرورت ہے۔

یہاں پر ایک اہم بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ادھر عمران خان کا انٹرویو اے آئی وائی پر چل رھا تھا، ادھر جیو پر حامد میر نے آصف علی زرداری سے انٹرویو براڈ کاسٹ کیا۔ جسے چلنے کے چند ھی لمحات بعد بند کر دیا تھا۔ اس پر میڈیا پر خوب سیاست کی گئی کہ یہ حکومت نے کروایا ہے۔ جبکہ میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ سازش جیو اور اپوزیشن کی ملی بھگت ہے کہ حکومت کو بدنام کیا جائے۔ حامد میر کہتا ہے میرے پاس شواھد ہیں مگر وہ میں بعد مین پیش کرونگا۔۔۔ میں ان کو شواھد نہیں مانتا جو “بعد” میں پیش کئیے جائیںَ لہذا یہ سازش سازش ہی رہے گی۔

وی آئی پی

اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ جو لوگ سزا پا رہے ہیں انکے لیے وی آئی پی جیلوں کا خاتمہ کیا جائے۔ چاہے کوئی نوازشریف ہے یا زرداری ہے یا ماجھا گاما نتھو خیرا چور اچکا ہے سب کے لیے ایک جیسی جیل ہونی چاہیے۔ جب تک جرائم پیشہ لوگ جیل کو جیل کی طرح محسوس نہیں کریں گے وہ کبھی اپنے جرم سے استغفار نہیں کریں گے۔ زرادری نے نوازشریف کے دور مین اپنی کئی سالہ “جیل” کو خوب کیش کراوایا حالانکہ سارا ملک جانتا تھا کہ زرداری ایک وی آئی پی جیل میں تھا۔

عمران خان صاحب اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ پکڑے جانے والے لوگوں کا کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یہ مذاق کہاں تک چلے گا کہ ادھر سے پکڑا جائے ادھر سے انہیں ریلیف دیدی جائے۔ اگر حنیف عباسی کو منشیات ہی کے جرم میں پکڑا گیا تھا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک عدالت اسے ریلیف دیدے؟ اور اگر اسے ریلیف دیدی گئی ہے تو پھر سارے ملک کے منشیات فروشوں کو دی جائے۔ مکر کیا ایسے نظام چل سکتا ہے؟

آسانیاں

قوم پر اس وقت ایک مشکل وقت ہے مگر جب قرآن پاک یہ فرماتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہےتو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ عمران خان جو خانہ کعبہ میں اللہ کے حضور بیٹھ کر رو کر دعا کرے اور وہ اس ملک کو آسانیوں کی طرف نہ لے جائے۔ انشااللہ عنقریب وہ دن آئینگی جب پاکستان معاشی طور پر ایک مستحکم ملک بن کر ابھرے گا مگر اسکے لیے قانون اور انصاف کو سب کے لیے یکسان کرنا ہو گا۔ احتساب کیا جائے تو سب کا اور کڑا ورنہ احتساب کا ڈھونگ رچانے کا فائدہ نہیں! اس بار اگر پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہوا تو بہت سارے لوگوں کو بہت سخت تکلیف ہو گی!

اللہ کے بعد امید ہے تو عمران خان سے کہ وہ اس ملک کو اسکے پاؤن پر کھڑا کرے گا!

Politics, Prime Minister Imran Khan, Forward Block, Maryam Nawaz Sharif, Nawaz Sharif, Asif Ali Zardari.

بقلم: مسعودؔ

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment