Current Affairs Meri Tehreerein

23 March Tajdeede-e-Wafa Aur Quaid-e-Nau

23 March Tajdeede-e-Wafa Aur Quaid-e-Nau

23 March Tajdeede-e-Wafa Aur Quaid-e-Nau

23 مارچ تجدیدِ وفا اور قائدِ نو!

 مارچ 1940 – 23 مارچ – یومِ پاکستان!

وہ دن جب ایک ایسی قرارداد پاس ہوئی جس نے برصغیر کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔

لاہور شہر کے منٹو پارک میں جسے آج کل اقبال پارک سے منسوب کیا جاتا ہے، مسلم لیگ کا سالانہ جلسہ منعقد ہوا۔

یہ جلسہ 22 تا 24 مارچ 1940 تک جاری رہا۔

اس جلسے میں شیرِ بنگال ابوالقسیم مولوی فضل الحق نے قرارداد پیش کی، جسکے اہم نکات یہ تھے:

  • آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہایت غور و فکر کے! بعد اس ملک میں صرف اسی آئین کو قابل عمل اور مسلمانوں کے لیے قابل قبول قرار دیتا ہے! جو جغرافیائی اعتبار سے ہاہم علاقوں کی صورت میں حد بندی کا حامل ہو! اور بوقت ضرورت ان میں اس طرح رد و بدل ممکن ہو کہ جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت بہ اعتبار تعداد ہو! انہیں آزاد ریاستوں کی صورت میں یکجا کر دیا جائے! اور ان میں شامل ہونے والی وحدتیں خود مختار اور حاکمیت کی حامل ہوں!
  • – ان وحدتوں اور ہر علاقائی آئین میں اقلیتوں کے مذہبی، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی مفادات اور حقوق کے تحفظ کی خاطر !ایسی اقلیتوں سے مشورے کے بعد مؤثر تحفظات شامل ہوں! اور ہندوستان کے ان تمام حصور میں جہاں مسلمان آبادی کے اعتبار سے اکثریت میں نہیں!، تحطف کا یقین دلایا جائے
  • – یہ اجلاس مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کو ہدایت کرتا ہے! کہ وہ ان اصولوں پر مبنی آئین کا لائحہ عمل مرتب جس میں دونوں خطوں کے تمام اختیارات اور دیگر اہم امور کو سنبھالنے کا انتظام کیا جائے۔!

بنیاد

یوں تو خطۂ ہندوستان 

میں پاکستان کی تشکیل اسی دن ہو چکی تھی جب اس سرزمین پر پہلے مسلمان نے پاؤں رکھا! اسکو پہلی ریاست کی بنیاد میں محمد بن قاسم نے رکھا۔

پھر اس حطے نے وہ طویل اور لمبا عرصہ دیکھا 

جب مسلمان خاندان ایک بعد دوسرا حکومت کرتے رہے۔! اپنی اپنی سلطنتیں قائم کرتے رہے اور حکومت کرتے رہے۔! تاریخ کی کتابیں ان کے عروج و زوال کی داستانوں سے لدھی پڑی ہے۔

پھر انگریز آ گیا اور انگریز بہت جلد سمجھ گیا !کہ اگر اس خطے میں حکومت کو مضبوط کرنا ہے! تو مذہب کو بنیاد بنا کر فرقہ واریت کو ہوا دی جائے۔ ! انگریز کو یہ بات بھی محسوس ہوتی تھی اگر کبھی کسی نے سر اٹھایا! تو وہ مسلمان ہی ہو گا، کیونکہ ہندو نا ہی تو جرآت اور استقلال میں اسقدر بہادر ہے! کہ وہ جنگ کر سکے اور اہم بات یہ کہ ہندو ایک ہزار سال تک مسلمان کے آگے بڑے رقبے پر غلام رھا ہے۔! اب وہ اس سے آزادی چاھتا ہے اور وہ ہمارے لیے کام کر سکتا ہے۔

جنگِ آزادی

پہلی جنگ آزادی کی جنگ 1857 میں ہوئی جس میں سکھوں اور مسلمانوں نے خوب جان لڑائی۔! یہاں تک کہ اس میں اس وقت کا مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر بھی شامل تھا۔

جنگ تو مسلمان اپنے اندر پیدا ہونے والے ناسوروں کی وجہ سے ہار چکے تھے،! مگر اسکا خاص کر اثر مسلمان پر ہوا۔ بہادر شاہ ظفر کو قید کر کے رنگون جلا وطن کر دیا گیا،! جہاں وہ کسمپرسی کی موت مر گیا۔

بہادر شاہ ظفر کے 3 بیٹوں کو قید کر کے دھلی کے بازار میں سرعام پھانسی پر لٹکا کر !کئی روز تک لاشوں کو جھومتا ہوا رکھا گیا !جس سے مسلمانوں کے اندر شدید خوف اور مایوسی پھیل گئی !– انگریز اب مکمل طور پر قابص ہو چکا تھا: اور ہندو پر اسکی خاص نظرِ کرم تھی۔ !ہندو کو مراعات اور ہائیر ایجوکیشن کی اجازت تھی جب کہ مسلمانوں کی تعلیمات کو زک پہنچانی شروع کر دی۔

23 March Tajdeede-e-Wafa Aur Quaid-e-Nau

امید

اسی دور میں سیالکوٹ میں محمد اقبال پیدا ہوئے اور کراچی مین محمد علی جناح۔

محمد اقبال جو علامہ اقبال کے روپ میں جلوگر ہوئے انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا خواب دیکھا۔

اور محمد علی جناح نے اپنی انتھک محنتوں اور اپنے مخلص رفقا کی شراکت میں اس خواب کو پورا کرنے کے لیے جدہ جہد کی۔

اسی جد و جہد کو حتمی شکل دینے کے لیے! 1940 میں پھر منٹو پارک میں یہ جلسہ منعقد ہوا جس میں یہ قرارداد پیش کی گئی! اور 

جس پر مسلم لیگ کے رہنماؤں نے لبیک کہا۔ اور 7 سال بعد 1947 میں پھر ایک الگ وطن حاصل کیا گیا: پاکستان!

پاکستان – مسلمانوں کی امنگوں کا محور، خواب اور منزل جسکو پانے کے لیے کیا کیا تکلیف اٹھائی گی۔

مگر۔۔۔

آج ہم 2019 میں کھڑے ہیں۔ اگر ہم پچھلے 70 سالوں کا جائزہ لیں تو کیا ملتا ہے؟

خواب – بکھرے ہوئے!

امنگیں – لوٹی ہوئیں!

منزلیں – ناپید سی!

اس ملک کے ساتھ وہ کیا کیا بے حسی ہے جو نہیں کی گئی؟! اگر سقوطِ ڈھاکہ بھی ہماری آنکھوں کو کھولنے کے لیے کافی نہیں تو آج کل کے جو حالات پیدا کیے جا رہے ہیں کیا اس سے کم خوفناک ہیں؟

سچ یہ ہے پاکستانی قوم نے آزادی کی دھجیاں ایسی بکھیری ہیں جیسے لٹٰ ہوئی دلہن کی چوڑیاں!

کبھی اس ملک کو روٹی کپڑا اور مکان کے روپ میں لوٹا گیا کبھی لاہور ہی کے کرپٹ ترین سرمایہ داروں نے لوٹا! کبھی فوج نے اپنا کام دکھایا۔! کسی بھی ملک کی تباھی کے لیے اس سے بڑی اور بری خوفناک بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ ملک کی سیاست اور اور فوج ایک پلیٹ فارم پر جمع نہ سکے۔

مگر ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ ہوتا ہے۔

23 March Tajdeede-e-Wafa Aur Quaid-e-Nau

قائدِ نو

وقت نے دیکھا کہ اللہ تبارک و تعلیٰ نے ایک ایسے انسان کے دل میں پاکستانی عوام کا دکھ درد جگا دیا جو کبھی اپنی شہ جوانی میں پلے بوائے مشہور تھا۔! شہ جوانی اس لیے کہ وہ چاھتا تو سچ مچ کا پلے بوائے بن کر عیش و عشرت کی ایسی زندگی گزار سکتا تھا کہ کوئی اس مقام تک نہ پہنچ پاتا۔

مگر اس نے اپنی زندگی ایک ایسی قوم کے لیے وقت کر دی جو تمام تر تباھیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھگر بھی بے سدھ ہے۔! اس نے نوجوان کی سوچ بدلی! اس نے بتایا کہ تمہارا حق کیسے اور کس نے مارا ہے! ! بتایا کہ یہ ملک ان ناسوروں کے لیے نہیں بنا جو کبھی لندن، کبھی جدہ، کبھی دبئی میں بیٹھ کر میثاق جمہوریت کھیلتے رہے ہیں۔! اس نے بتایا کہ اس ملک کی اصل پرابلم کیا ہے! اس نے اس قوم کو بتایا کہ کیسے لڑا جاتا ہے۔

آج 23 مارچ کے دن اسلامی دنیا کا ایک بہت اہم ملک کا ایک بہت اہم انسان اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے کونکہ وہ جانتا ہے !کہ عمران خان ایک سچا، خالص اور محب وطن لیڈر ہے۔ اور مہاتیر محمد جانتا ہے کہ جب تک عمران خان اس ملک کا رہنما ہے اس کا ملک ملائیشیا جو اسلامی ممالک !میں ایک متمول ملک کی حیثیت رکھتا ہے، بہت کچھ لے اور دے سکتا ہے۔

دشوارئ

یہ چند سال بہت مشکل ہیں! بہت دشوار ہیں! اور یہ قدرتی بات ہے۔ دنیا میں کبھی کوئی قوم راتوں رات ترقی نہیں کرتی۔! اور خاص ایسی قوم جس کے مسائل بہت سارے ہوں۔! وہ قوم جس کے خزانے لوٹ کر اسے قرضوں میں پھنسا دیا گیا ہے۔! وہ قوم جس پر قتل و غارت کا بازار گرم رکھا اور جہاں انسانی خون کے ساتھ ہولی ایسے کھیلی جاتی رہی جیسے خون پانی سے سستا ہو۔

ایسی قوم جس نے اپنے آپ کو زبردست غفلت میں ڈال دیا ہو۔! جس نے اپنے ہر جائز کام کے لیے بھی غلط راستے اختیار کر رکھے ہوں۔! ایسی قوم اور ملک کو سنوارنے کے لیے کم از کم پانچ سال دینا ہونگے۔ !مگر دنیا جانتی ہے کہ عمران اکیلا نہیں!

عمران خان کے ساتھ عرب کھڑے ہیں! عجم کھڑے ہیں! اسنے اسی ہندوستان جو ہماری آزادی کے پڑخچے اڑانا چاھتا ہے اسکے انتہائی دھشتگرد لیڈر مودی کو للکارا ہے۔! اس نے امریکہ کو للکارا ہے۔ وہ ایک ویژینری لیڈر ہے مگر اس بھی اپنے اندر چھپے ہوئے ان ناسوروں سے لڑتا ہو گا جس آج کل ہندوستان کی زبان بول رہے ہیں۔

جیسے مغلوں کے ہندوستان کی شکست کے اہم کردار میر جعفر اور میر صادق تھے ایسے ہی عمران خان کے راستے میں شریفی اور زرداری ہیں!

مگر یہ جان لیں!

اس وقت پاکستان عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی زبردست ملٹری قیادت میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو چکے ہیں۔! وہ جان لیں کہ عمران خان کے پاکستان پر آنکھ اٹھائی گئی تو وہ آنکھیں نکال لیں جائیں گی۔ 

یہ عہد ہے ہمارا 23 مارچ پر کہ اب وقت آن پہنچا ہے! کہ ایک قوم ہو کر، ایک جان ہو کر فولاد کی طرح کندھے سے کندھا جوڑ کر اس ملک کو عروج کی اس منزل پر پہنچانا ہے! جہاں اسے بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔

آج عہد کریں کہ اس ملک کے وہ لوگ جو 70 سال سے پسماندگی کا شکار ہیں انکو اٹھایا جائے گا۔

وہ علاقے جہاں کبھی ترقی نہیں ہوئی انہیں اٹھایا جائے گا۔

اور ناسوروں کو چن چن کر نکالا جائے گا – وہ اس پاک سر زمین کا گند ہیں!

عمران خان ہمارا نیا قائد ہے۔ قائدِ نو! اس کا ساتھ ہمیں دینا ہو گا – ہر مشکل کے بعد آسانی ہے – ان شا اللہ!

23 مارچ! تجدید وفا کا دن!

بقلم: مسعودؔ


mran Khan, MSC orders 500 Buildings in Karachi to raze

23 March Tajdeede-e-Wafa Aur Quaid-e-Nau

Quaid-e-Azam, AllamaIqbal, 23 March Resolution Day, 23 Qarardaad-e-Pakistan, Minto Park, Iqbal Park, Minar-e-Pakstan, History of Pakistan, I 

ahatir Muhammad.

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment