Current Affairs

Insaniyat

Insaniyat

Insaniyat

انسانیت

نیوزی لینڈ دہشتگردی ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔

ایک جرم تھا۔

افسوسناک تباھی تھی۔

مگر اللہ کی ذات جو کرتی ہے اسکے پیچھے کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے۔! آج اسی نیوزیلینڈ میں انسانیت اپنی عروج کو پہنچ گئی۔! کفار مسجد میں صف در صف درجہ بندی کیے نمازیوں کی حفاظت کر رہے تھے۔! لوگ اپنے گلوں میں پیغام لٹکائے کھڑے تھے کہ مسلمان میرے بھائی ہیں میں انکی حفاظت کرونگا۔

وہ کفار جو کبھی قرآن سے نابلد  تھے! آج اس سانحہ کی وجہ سے نیوزیلینڈ کی پارلیمنٹ کی کاروائی اللہ کے کللام کی تلاوت سے شروع ہوئی۔! اللہ کا نام کفار کی سب سے اعلیٰ مجلس میں ہونے لگا۔

Insaniyat

نیوزیلینڈ کی پرائم منسٹر جاسنڈا نے اپنے تن پر اسلامی لباس زیب کیا اور مسجد میں جا کر مسلمان عورتوں کو گلے لگا کر روئی۔

سینکڑوں نوجوان جوق در جوق کھڑے ہو کر آذان کی آواز سننے لگے۔ لوگ قرآن کو دیکھنے لگے۔

یہ ایک زندہ ضمیر قوم کی علامت ہے۔

یہ ایک ایسی قوم کی علامت ہے جسے اگر اسلام کی درست تعلیم دی جائے تو وہ اسلام کی طرف لپکی چلی آئے۔

مگر۔۔۔۔  

اس کے لیے مسلمانوں کو اپنا احتساب کرنا ہو گا۔! زبان سے کلمہ گو ہونے سے ہم مسلمان تو ہو سکتے ہیں، مومن ہر گز نہیں۔! ہمارے اندر نفاق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔! ہمارے اندر وہ کالی بھیڑیں پائی جاتی ہیں جو چند روپوں کے لیے دین کو بھی مداری کی کٹاری میں بند کر دیں۔!

آج ہی ہمارے ملک کی خبر ہے کہ دو قادیانی ڈاکٹروں کو قتل کر دیا گیا۔! وہ کچھ روز پہلے لاپتہ ہوئے تھے۔

تفصیل میں شاید یہ کوئی ذاتی رنجش ہے! یا کوئی جائداد کا جھگڑا ہو سکتا مگر۔۔۔

بات اس ایک دو قتل کی نہیں۔! بات اس سوچ کی ہے جس سے اس امت کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ 

ہمارے ہاں ذہنی تنگی اسقدر وسیع ہے کہ ہم کبھی کسی طور انسان کہلانے کے لائق نہیں رہے۔

اس ملک میں محبِ وطن مسلمانوں کا وہ انبار پایا جاتا ہے! کہ ہم افغانیوں کو کتا، شیعہ کو خنزیرکہتے نہیں تھکتے۔! ہم نے مسلمانوں کی پہچان کے لیے وہابی، نجدی، بریلوی، غامیدی اور پتہ نہیں کیا کیا القاب تیار کر رکھے ہیں۔

ہمارے علما جب ٹی وی پر بیٹھ کر “جو حلال ہے وہ حلال مانے گا، جو حلال کا نہیں وہ حلال نہیں مانے گا” جیسے فتنے چھوڑیں گے۔! جب ایک عالم کا ایک بات کی تہ تک پہنچ کر سمجھانے کے لیے کچھ حقائق سامنے لانے پر اسے غلیظ اور بدترین گالیاں سننا پڑیں تو ہم پھر ہم مسلمان کس نام کے ٹھہرے؟

ابھی چند روز پہلے کی بات ہے! کہ عمران خان نے اقلیتوں کو انکے حقوق دینے کے لیے ایک بہت اعلیٰ قدم اٹھایا۔! مگر اس ملک کی غیور مومن قوم کا ضمیر ایسا بھونچال کھایا کہ ایک زبردست تحریک چلائی گئی کہ کوئی قادیانی ایک عہدے کا ممبر نہیں بنے گا اناللہ وانا  الیہ راجعون۔

اس سے کچھ روز پہلے پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ بات ثابت کر دی !کہ آسیہ نامی خاتون کے خلاف جو نبی اقدس ﷺ کی شانِ مبارک میں گستاخی کا الزام تھا !وہ مدعیوں کی جھوٹ گواہیوں اور کیس میں زبردست کمزوری کے باعث ثابت نہیں کی جا سکتی،! اس پر ہمارے ہاں نام نہاد مولویوں کے ایک جتھے نے وہ طوفانِ بدتمیزی اٹھایا کہ الامان الحفیظ!

جہالت کا ایسا مظاہرہ کبھی ہم دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں دیکھیں گے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہماری نسلوں کو اسلام کی تعلیم سے اسقدر دور رکھا گیا ہے! کہ دو دو ٹکے کے علماؤں نے اپنی اپنی دکانیں چمکانیں کے لیے !اس قوم کے لاابالی ذہن میں ڈال دیا ہے قرآن کی تعلیم تمہاری اوقات سے اوپر ہے۔ تم بس وہ کرو جو ہم کہتے ہیں – تقلید در تقلید۔

تقلید اگر علم اور عمل پر اساس رکھتی ہو تو بھی جائز ہے مگر انددھا دھند تقلید جہالت ہے!

اور یہ جہالت ہماری قوم میں سرایت کر چکی ہے۔ اسی جہالت کی بناد پر ہم نے انسان سے انسان ہونے کا حق بھی چھین لیا ہے۔

انسانیت کیا ہے؟ اسکا مظاہرہ آج نیوزیلینڈ میں ہوا۔ ہمیں انسانیت کو سمجھنے کے لیے ہنوز بہت محنت کرنا ہوگی۔

New Zealand Mosque Attack, Quran reciting in New Zealand Parliament, jacinda ardern, attack on mosque.

Insaniyat

بقلم: مسعودؔ

Insaniyat

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment