Islam Mazameen Meri Tehreerein

Meri Tehreer: Mujhey Aisey Musalmano Sey Wehshat Hai

Meri Tehreer: Mujhey Aisey Musalmano Sey Wehshat Hai

Meri Tehreer: Mujhey Aisey Musalmano Sey Wehshat Hai

مجھے ایسے مسلمانوں سے وحشت ہے!

Meri Tehreer: Mujhey Aisey Musalmano Sey Wehshat Hai

تنگ نظر

’’مغرب کے لوگ broad minded ہوتے ہیں، اُن میں سُننے کا، سوچنے کا، سمجھنے کا اور پھر عمل کرنے کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔! اگر کسی والدین کا کوئی بچہ کوئی دوسرا مذہب اپنا لے! تو بھی والدین اپنے بچے کواُسی طرح سمجھتے ہیں جیسے پہلے!‘‘
اِن خیالات کا اظہار ڈاکٹر ذاکر نائیک نے Peace TV پر اپنے ایک خطبے میں کیا۔! موصوف مزید فرماتے ہیں:

’’ جبکہ ایشیا اور بالخصوص بھارت (اوراسی طرح پاکستان) کے لوگ بہت زیادہ conservative واقع ہوئے ہیں۔! اگر ہمارے ہاں ہمارے بچے کوئی دوسرا مذہب اپنا لیں! تو ہم اُس سے ہر واسطہ ، ہر تعلق توڑ لیتے ہیں!‘‘

ڈاکٹر صاحب کی اِس بات کی صداقت کا تو میں خود شاہد ہوں! کہ میں ایک جاب انٹرویو میں تھا!، باتوں باتوں میں بات چل پڑی کہ میں کس مذہب سے تعلق رکھتا ہوں!، میں نے بتایا کہ الحمداللہ میں مسلمان ہوں۔! باس یہ سُن کر حیرت انگیز طور پر خوش ہوا اور کہنے لگا! کہ میری بیٹی نے بھی اسلام قبول کیا ہوا ہے! اور آگے اُس کے بچے بھی سبھی مسلمان ہیں!

حال ہی میں پاکستان میں ڈاکٹر اسرار احمد جیسے عالم کی نسبت سے ہونے والے! واقعات نے اِس بات کو بہت شدت سے تقویت پہنچائی ہے! کہ ہم مسلمان خاص طور پر تنگ نظر ہیں۔! ہمارے اندر کسی دوسرے کی بات کو سننے ، سوچنے اور سمجھنے کا مادّہ رتّی برابر نہیں! عمل تو ہمارے بہت پہلے مرچکے ہیں!

فرقات

نبی کریم ؐ کی قربِ قیامت کی سچائیوں میں سے ایک یہ بھی ہے! کہ ہم میں ۷۳ فرقات بنیں گے، جن میں صرف ایک راہِ حق پر ہوگا۔!

اب جس فرقے کی بات سنی جائے وہی اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے۔! اِن فرقوں کے ماننے والوں میں صبر اور برداشت سرے سے ناپید ہے۔! ایک دوسرے کو غلط، جھوٹا، منافق، مرتدکہنا تو کوئی بات نہیں ہم لوگ تو ایک دوسرے کو کافر تک کہنے سے گریز نہیں کرتے،! جبکہ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ کون کتنا کافر اور کون کتنا مومن ہے۔! اِس کا علم صرف اور صرف اللہ ربّ العزت کو ہے اور کسی کو کافر کہنا بذاتِ خود ایک گناہ ہے!

پھر ہم کس بنیاد پر دوسرے مسلمانوں پر ایسے فتوے جاری کرتے ہیں؟! کس نے ہمیں یہ لائسنس دیا ہے! کہ دنیا ہی میں اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر تک کہہ دیں؟! بلاشبہ ہم جہالت اورتنگ نظری کی انتہا پر ہیں جہاں پر ہمیں اپنی سچائی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔!

یو ٹیوب پر میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا! جس میں کسی نے ڈاکٹر اسرار احمد کو حرامی تک کہنے سے گریز نہیں کیا! استغفراللہ!!

جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کا فرمان ہے! مسلمان کو گالی دینا فاسق کا کام ہے! اور اِس کو جان سے مارنا کافر کا(صحیح بخاری)۔!

بکھرا ہوا شیرازہ

ڈاکٹر اسرار احمد دورِ حاضر کے شاید وہ واحد عالم ہیں جو کہتے ہیں! کہ فرقات کی جنگ کیسے ختم ہو،! ہم اُن باتوں پر ہی لڑتے رہیں گے! جن پر ہم کبھی اکتفا کر ہی نہیں سکتے،! تو کیا یہ بہتر نہیں کہ جن باتوں پر ہم اکتفا کر سکتے ہیں پہلے اُن پر متفق ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں؟!

پر شاید ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی سوچ ہم میں نہیں! ہم اُس بکھری ہوئی قوم کا وہ بکھرا ہوا شیرازہ ہیں جسے جمع کرتے ہوئے مزید کئی سو سال لگ جائیں گے…

یہاں پر غالب کا ایک شعر یاد آتا ہے:

دوست! غمخواری میں میری سعی فرماویں گے کیا؟
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا؟

جب تک ہم ایک بکھری ہوئی قوم کا شیرازہ سمیٹنے کی تدبیر کرینگے اُس وقت تک ہماری سوچیں اس قدر پختہ ہو چکیں ہونگی کہ ایک دوسرے کا قتل ہم پر ’واجب‘ ہو جائیگا!اور اِس کے لیے ہم کہیں نہ کہیں سے کسی نہ کسی آیت کا سہارا لیں گے یا پھر کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی حدیث کو ڈھونڈ لائیں گے، کیونکہ اپنے مفاد کے لیے ہم اسلام کو بآسانی استعمال کر لیتے ہیں۔

کیو ٹی وی

بات مفاد کی چلی ہے تو یہ میرے لیے بہت سخت حیرت کی بات ہے! کہ ڈاکٹر اسرار احمدکی بات کو اچھالنے والا کون ہے : کیو ٹی وی!!!

کیو ٹی وی جو کہ اے آر وائی ڈیجیٹل کا ایک چینل ہے۔! کیوٹی وی نے اسلام کی تعلیم کو انکرپشن کی نذر کردیا ہے،! کیو ٹی وی نے نعتوں کے پڑھنے کے انداز کو ایک ’’جدّت‘‘ بخشی ہے اور بیہودہ گانوں کے طرز پر نعتوں کو عروج مل رہا ہے۔! کیا اسلام میں یہ سب جائز ہے؟

کون سی حدیث اِس بات کی طرف نشاندہی کرتی ہے کہ حمد و نعت کو گانوں کی طرز میں گایا جائے؟

کیو ٹی وی کے Mother Channel اے آر وائی پر ہندواِزم کی چھاپ لگتی چلی جا رہی ہے۔

وہاں پر پیش ہونے والے ڈرامے اورپروگرام ہندو ذہنیت کی جانب لے جارہے ہیں۔!

چار پیسوں کی خاطر چینلز پر ایسے ہندوستانی اشتہار دکھائے جا رہے ہیں جن میں عورت کو اُن دو کپڑوں میں دکھایا جا رہا ہے جن کا اپنے شوہر کے سامنے بھی نام تک لینا ایک شریف عورت گوارا نہیں کرتی!

اس قدر بڑھتی ہوئی بے غیرتی اور عریانی کیو ٹی وی کے ’عالموں‘ کی نظر میں کیوں نہیں آئی کہ وہ اِس پر کوئی فتویٰ دیں؟؟! مگر نہیں جہاں ہم مسلمانوں کو مفاد ہو وہاں ہر بات گوارا ہے!

میڈیا

واپس آتے ہیں ڈاکٹر ذاکر نائیک کی باتوں کی جانب۔ موصوف فرماتے ہیں کہ :

’’مغرب میں اسلام کی تبلیغ کرنا قدرے آسان ہے،! کیونکہ وہاں پر لوگ بات کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،! یہی وجہ ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعدمغرب میں اسلام بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔! جبکہ مشرق میں لوگوں کی سوچیں محدود ہیں اور انہیں بدلنا بہت مشکل امر ہے‘‘

ڈاکٹر صاحب کی بات میں بہت سچائی ہے۔

مغرب میں اگر کوئی تعصب پایا جاتا ہے تو وہ میڈیا کا پھیلایا ہوا ہے! میڈیا ایک ایسا مافیا ہے جو لوگوں کی ذہنیت کو قید کر لیتا ہے! اور پھر اُن پر وہی رنگ جما دیتا ہے جو اُسے منظور ہو۔!

ایک گھنٹے کے انٹرویو میں اگر ایک پانچ منٹ کی بات اُن کی مرضی کی ہوتو وہی بات بتاتے ہیں۔!

یہ بات بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک اپنے ایک خطبے کے دوران کہہ چکے ہیں کہ میں مغربی(یا مشرقی) میڈیا کو نہیں مانتا۔!

یہ صرف وہ بتاتے ہیں جو اِن کی مرضی کی بات ہو۔ ہمارے ہاں بھی میڈیا کو ایسی ہی غلطی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ناکافی

کیو ٹی وی نے جو کٹ دکھاکر بات کی ہے وہ ناکافی ہے۔ دین ایک ایسا معاملہ ہے جس کو سمجھانے کے لیے بہت بڑے تدبر کی ضرورت ہے۔!

ایک عالم کو ہر اُس پہلو سے سمجھانا پڑتا ہے جس سے بات لوگوں کی سمجھ میں آ جائے۔!

جامع ترمذی کی جس بات کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر اسرار نے بات کی ہے کیا وہ جھوٹ ہے؟؟

اگر وہ جھوٹ ہے تو جامع ترمذی کی صداقت مکمل طور پر شک میں پڑ جاتی ہے، اور اگر وہ بات سچ ہے تو اِس بات پر (بیجا) ایکشن لینے والے مسلمانوں کو اپنے کردار پر نظر ثانی کرنی چاہیے!

بات کو مکمل ہونے سے پہلے کاٹ دینا اُن لوگوں کی علامت ہے جو تنگ نظری کا شکار ہوں، اگر کیو ٹی وی کے پاس ڈاکٹر اسرار کا وہ سارا خطبہ ہے تو اُسے پیش کیا جائے کہ یہ بات کہنے سے اُنکی کیا مراد تھی؟

حقیقت

ہم مسلمان اکثر وہ حقیقت چھپا لیتے ہیں جس میں کسی رُسوائی کاخوف ہو!

ہم یہ بات تو فخر سے بتاتے ہیں کہ صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں سے بیت المقدس فتح کیا،! مگر یہ چھپا لیتے ہیں کہ ہمارے مسلمان لیڈروں نے ماضی میں بھی تاج و تخت کی خاطر ظلم وہ تشدد کے بازار گرم کیے رکھے ہیں۔!

یوں تاج کی خاطر بھائی نے بھائی کی آنکھیں نکلوائیں، بیٹوں نے باپ کے قتل کیے، خاندان کی خاندان آپس میں جنگوں جدل میں لگے رہے!

درحقیقت اِن باتوں پر پردہ پوشی کرنا کوئی غلط بات نہیں! مگر جب ایک عالم ، جس نے اپنی عمر اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کر رکھی ہو، جب وہ کوئی گتھی سلجھانے کی کوشش کرتا ہے تو بہت ساری باتوں کا حوالہ دے کر بات کرتاہے تاکہ عوام کو بات سمجھ آجائے۔!

ہمارے نام نہاد علمأ، مولویوں، مفکروں میں ایک عیب یہ بھی ہے! کہ ہم باتوں کو سمجھانے کے بجائے حفظ کرانے کی کوشش کرتے ہیں!

مان ۔لو۔اور۔سوال۔نہ۔کرو کی بنا پر اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے!

سوال نہ کرو

میں نے ایک دوسرے مضمون ’’کہاں سے شروع کروں‘‘ میں اپنے ایک تجربے کا ذکر کیا ہے! کہ مجھے ایک بار ایک محفل میں شرکت کا موقع ملا جہاں پر کسی فرقہ کی بیعت کروائی جا رہی تھی۔!

میں بھولے سے پوچھ بیٹھا کہ بیعت کا مطلب کیا ہے! اور اِس کی مجھ پر کیا ذمہ داریاں ہیں تاکہ مجھ پر باور ہو سکے! کہ میں نے اِس اہم ترین ذمہ داری کوکس احسن طریقے سے اُٹھا سکوں،! مجھے جواب ملا جو کہا گیا ہے کر دو سوال نہ کرو!

مجھے یقین ہے کہ اُس مولوی کو خود معلوم نہیں کہ بیعت کس رحمت یا زحمت کا نام ہے!

نبی کریم ؐ کا فرمان ہے کہ دین کو آسان بناؤ! اِسے مشکل نہیں، ہم لوگوں نے اپنی اپنی عقل اور عمل کی بنا پر اسلام کو ایک انتہائی پچیدہ دین بنا دیا ہے۔!

اعتراف

آج میں اپنی ذات کے حوالے سے یہ اعتراف کرتا ہوں۔

میں نے مسلمان ہونے کے ناتے سے یہ تو سُنا ہوا تھا کہ شراب اسلام میں حرام ہے اور حرام اِس لیے ہے کہ شراب دماغ کو ماؤف کر دیتی ہے اور انسان اچھائی اور بُرائی میں تمیز نہیں کر پاتا مگر اِس کی اصل اصل وجہ اِس واقعہ کے بعد میری سمجھ میں آئی ہےآج کہ شراب کے بعد جب اصحابہ کرام سے غلطی ہو گئی تھی تو ہما شما کس ضمرے میں آتے ہیں؟

مجھے شراب سے جتنی نفرت پہلے تھیآج اِس واقعے بعد اور زیادہ ہو گئی ہے۔آج ہمارے نام نہاد مولویوں میں یہ نقص ہے کہ وہ صرف اتنا کہتے ہیں: یہ حرام ہے بس! مگر حرام ہونے کی وجہ نہیں بتاتے۔آج جبکہ اسلام میں انسانی زندگی سے وابستہ ہر بات کی کوئی نہ کوئی معقول وجہ ہے کہ یہ بات ایسے کیوں ہےآج، بلاوجہ اسلام میں کسی شے پر بندش نہیں لگائی گئی جسکا کوئی خاطر خواہ جواز نہ ہو!

گستاخی

ہمیں اِس بات سے تو اتفاق ہے کہ دنیا میں کوئی انسان آج تک ایسا نہیں آیا جو کسی قسم کی غلطی سے پاک ہو!

اگر کوئی اِس کے قریب ترین تھا! وہ وہ نبی کریم ؐ کی ذاتِ مقدس تھا!  حالانکہ ہم یہ حقیقت بھی مانتے ہیں کہ نبی کریم ؐ کا سینہ مبارک چاک کیا گیا تھا! اور اُس سے ہر انسانی حوس نکال دیا گیا تھا! اور نبی کریم ؐ کو انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائزفرمایا گیا تھا!

(جبکہ کسی بھی دوسرے صحابہ کے متعلق ایسی کوئی بات رقم نہیں تو کیا اصحابہ سے غلطی نہیں ہوسکتی؟)۔!

جب اسی ایک غلطی کا حوالہ دیکر ایک عالم ایک دینی بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے! تو ہم یہ بات ماننے سے انکار کرتے ہیں! جو جامع ترمذی میں مذکور ہے ۔

یوٹیوب کے جو لنک میں نے دیکھے ہیں،! اُن سے اِس بات کا بالکل غمازہ نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر اسرار نے حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ کی شانِ عالی میں کسی قسم کی گستاخی کی ہے! یا گستاخی کرنے کی کوشش کی ہے،! بلکہ سچ یہ ہے کہ انہوں نے ایک بات سمجھانے کی کوشش کی ہے !

دجال

نبی کریم ؐ کی سچائیوں میں سے ایک سچائی یہ بھی ہے کہ قیامت سے پہلے کئی دجال پیدا ہونگے۔! وہ دجال ضروری نہیں انسانی صورت میں ہی ہوں!

ہمارے لیے ایک بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے!

کیونکہ میرے نزدیک میڈیا بھی کسی دجال سے کم نہیں! جو صرف وہ بتاتا ہے جس سے دنیا میں انتشار پھیلے۔!

کیو ٹی وی نے اسلام کی کوئی ایسی خدمت نہیں کی کہ جس سے اسلام کو سمجھنے میں آسانی ہو، بلکہ مجھے ایسے ٹی وی چینلز اور اُن پر بیٹھے ’علمأ‘ سے شدید اختلاف ہے! جو اُس شے کو جائز قرار دے دیتے ہیں جو اُن کے مفاد میں ہوں اور وہ باتیں اُن کی نظر میں نہیں آتیں، جو سرِ عام بے حیائی، عریانی، جسمانی نمائش اور گناہ کی طرف راغب کرے۔

مجھے ایسے مسلمانوں سے اختلاف ہے

مجھے ایسے مسلمانوں سے اختلاف ہے! جو قرآن اور حدیث کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کریں!

فحش گانوں کی طرزوں پر نعت گوئی کیوٹی وی کی ایک نئی بدعت ہے! اور ایسی بدعتوں کا اجرأ کہاں تک درست ہے؟!

دنیا میں انفارمیشن کی بھرمار ہے اور ہوتی جارہی ہے، مگر علم کی اتنی ہی کمی ہے۔!

ہر ایرا غیرا انٹرنیٹ پر بیٹھ کر اپنی اپنی سوچوں کا زہر اگل رہا ہے، جو چاہے اُٹھ کر اپنے موبائل سے فلمیں بنا کر یوٹیوب پر شیئر کردیتا ہے۔!

اپنی سوچ پر طرح طرح کے مضامین لکھ کر انٹرنیٹ پر بھیج دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اُس کا علم کسی عالم کے علم سے بہت زیادہ وسیع ہے!!

ایسے مسلمانوں سے مجھے وحشت ہے!

Meri Tehreer: Mujhey Aisey Musalmano Sey Wehshat Hai
مسعود – ستمبر 2008
Meri Tehreer: Mujhey Aisey Musalmano Sey Wehshat Hai

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment